امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر حملے کا گرین سگنل

پاکستان کے ذرائع ابلاغ میں گزشتہ چند دنوں سے خبر گردش کررہی ہے کہ امریکہ نے اسرائیل کو پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر حملے کا گرین سگنل دیدیا ہے۔

امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر حملے کا گرین سگنل

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق سابق بیورو کریٹ اور امریکی تھنک ٹینک تک رسائی رکھنے والے امریکہ میں مقیم محب وطن پاکستانی نذرمحمد چوہان کے امریکہ کے اسرائیل کو پاکستانی ایٹمی اثاثوں پر حملہ کرنے کے لئے گرین سگنل دینے کے بیان پر ضیا شاہد نے کہا کہ اگر یہ درست ہے تو یہ بہت خطرناک بات اور خوفناک خبر ہے۔

اس حوالے سے پروگرام میں نذرمحمد چوہان سے ٹیلی فونک رابطہ بھی کیا گیا۔ نذرمحمد چوہان نے ضیا شاہد کے سوال کہ کیا واقعی اسرائیل کو پاکستان نیو کلیئر اثاثوں پر حملہ کرنے کے لئے امریکہ سے گرین سگنل مل گیا ہے؟ پر کہا کہ جہاں تک اس خبر کی بات ہے وہ سو فیصد درست ہے۔

یہ خبر امریکہ یا امریکی اداروں کو چلانے والے افراد کی طرف سے براہ راست آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جس دن اس خبر کے حوالے سے میرا بلاک چھپا اس کے اگلے دن نجی اخبار (ڈان) میں اس سے ملتی جلتی خبر آئی کہ پاکستان کو بہت کچھ کرنا ہو گا۔ تاہم الفاظ بالکل وہی نہیں استعمال کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ (ڈان) نجی اخبار ہی کیوں اس سے قبل سرل المیڈا کے انٹرویو کے حوالے سے استعمال ہوا اور اس اخبار نے پینٹا گون نیوز کا پروگرام کیا۔

انہوں نے کہا کہ مجھے پاکستان کے صحافی دوست نے بتایا کہ کسی اینکر نے پرویز مشرف سے اس قسم کی خبروں کی گردش پر سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ اس حد تک نہیں جائیں گے۔ نذر چوہان نے کہا کہ میرے خیال میں خبر بالکل درست ہے مگر اس پر عملدرآمد کے حوالے سے لگتا ہے کہ پاکستان کو کسی جانب لے جانے کی ڈیل ضرور ہے۔

روزنامہ خبریں نے رپورٹ دی ہے کہ پینٹا گون کا پاکستانی فوج کے ساتھ تعلق کبھی ختم نہیں ہو سکتا۔ اور پاکستانی فوج کے ساتھ ہی کوئی پروگرام پینٹا گون نے آگے چلانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی تنصیبات کسی ایک جگہ نہیں بلکہ پھیلی ہوئی ہیں۔ پینٹاگون کی اگر پاک فوج سے کوئی ڈیل ممکن نہ ہوئی تو وہ اس حد تک جائیں گے۔ ضیا شاہد کی جانب سے ڈیل سے کیا مراد ہے اور ڈیل کن دو طاقتوں کے درمیان ہو گی؟ کیا امریکہ اور پاکستان یا سہولتکاری کے طور پر استعمال ہونے والے نوازشریف اور فوج کے درمیان ڈیل ہو گی جس کے نتیجے میں پاکستانی حکومت اور سٹیبلشمنٹ نوازشریف کو گنجائش دے گی کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ڈیل پاکستانی فوج یا سٹیبلشمنٹ اور امریکہ کے درمیان ہو گی۔ امریکہ کو پینٹاگون چلاتا ہے۔ ڈیل پاکستانی فوج کے ساتھ ہو گی کہ فوج سے کیا کروانا ہے۔ آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کا دہشتگرد تنظیموں کے ساتھ بالکل مختلف رویہ ہے تاہم نوازشریف کو بچانے جیسا کوئی معاملہ امریکہ میں نہیں ہے۔ نوازشریف کو صرف امریکی میڈیا کی سپورٹ حاصل ہے۔ پینٹاگون میں نوازشریف کی کوئی رسائی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ یو این او کی میٹنگز میں دیکھا جائے تو نکی ہیلے جس طرح پاکستان یا مسلمانوں کے خلاف ہیں اس پر بھی ٹرمپ سے شدید اختلافات ہو گئے ہیں۔ نکی ہیلے نے بھی امریکی وزیرخارجہ بننا تھا مگر اب جو وزیرخارجہ آئے ہیں وہ سی آئی اے میں رہے ہیں اور پاکستان اور سی آئی اے کی لڑائی کا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ پروگرام میں ضیا شاہد کی جانب سے سوال کیا گیا کہ سابق بیورو کریٹ نذرمحمد چوہان کس تھنک ٹینک سے تعلق رکھتے ہیں اور ریسرچ کی بنیاد کون سا ادارہ ہے۔ جس پر انہوں نے کہا کہ میں امریکہ میں خود کو کسی ادارے کے ساتھ منسلک نہیں کرنا چاہتا۔ امریکہ میں معاملات مسلمانوں کے لئے بہت سنجیدہ ہیں اور میں امریکہ میں سیاسی پناہ لئے ہوئے ہوں۔ امریکی تھنک ٹینک سے رابطے ہیں تاہم براہ راست کوئی لنک نہیں۔ امریکہ میں نیئرزیدی کے ساتھ معاملات خراب ہونے کے بعد کوئی بھی صحافی سنجیدہ معاملوں میں امریکہ سے گفتگوکرنے کو تیار نہیں اور نہ اس حد تک جانا چاہتا ہے کہ ان کے امریکی انٹرسٹ خراب ہوں۔ ضیا شاہد کی جانب سے سوال کیا گیا کہ چینل 5 اور خبریں کے لندن آفس کا کہنا ہے امریکہ اور انڈیا سے نہیں زیادہ لندن میں اسرائیلی سفارتخانہ پاکستانی معاملات میں دلچسپی لے رہا ہے۔

اسرائیلی سینئر سفارتکار خاتون اس سلسلے میں بہت بھاگ دوڑ کر رہی ہیں جبکہ نوازشریف بھی لندن جانے پر ان لوگوں سے گہرے رابطے میں رہتے ہیں۔ امریکی اور اسرائیلی حقوق کو نوازشریف کو بحال کرانے میں کیا دلچسپی ہے۔ جس پر نذر چوہان نے کہا کہ نوازشریف کو بحال کرانے میں کوئی دلچسپی نہیں لی جا رہی۔ نوازشریف غلط تاثر پھیلا رہے ہیں۔ امریکی یا عالمی حلقوں میں ایسی کوئی بات نہیں۔ امریکہ پاکستان کو بہت مستحکم دیکھنا چاہتا ہے۔ پاکستان غیر مستحکم ہوتا ہے تو افغانستان میں موجود امریکی فوجیوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ جائیں گی۔

اسرائیل اور انڈیا کی جانب سے نوازشریف کی حمایت کے سوال پر انہوں نے کہا کہ نوازشریف انڈیا اور اسرائیل کو سپورٹ کرتے ہیں اور ان کے انٹرسٹ دیکھتے ہیں۔ نوازشریف پاکستان کو اس طرف جانے نہیں دے رہے جہاں وہ پاکستان کو دھکیلنا چاہتے ہیں۔ وہ پاکستان کی ایٹمی طاقت ختم کرنا چاہتے ہیں۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی دنیا خبریں
اہم ترین دنیا خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری