صرف دو سے بارہ منٹ, اور کھیل ختم !!!

روئے زمین پر اب تک دو ہی مملکتیں دو ہی ریاستیں کسی ٹھوس مذہبی اور منطقی نظریئے کی مرہون منت قائم ہوئیں ہیں اور دونوں کے قیام کا وقت بھی لگ بھگ ایک سا ہی ہے, دونوں مملکتیں بظاہر چھین کر وجود میں لائی گئیں ہیں پر دونوں میں سے ایک قانونی اور آئینی مراحل سے گزار کر بزور نظریہ اور سیاسی طاقت چھینی گئی ہے جبکہ ایک غیرقانونی اور غیر آئینی مراحل سے گزار کر بزور طاقت اور دھوکہ چھینی گئی ہے۔

صرف دو سے بارہ منٹ, اور کھیل ختم !!!

خبر رساں ادارہ تسنیم: روئے زمین پر اب تک دو ہی مملکتیں دو ہی ریاستیں کسی ٹھوس مذہبی اور منطقی نظریئے کی مرہون منت قائم ہوئیں ہیں اور دونوں کے قیام کا وقت بھی لگ بھگ ایک سا ہی ہے, دونوں مملکتیں بظاہر چھین کر وجود میں لائی گئیں ہیں پر دونوں میں سے ایک قانونی اور آئینی مراحل سے گزار کر بزور نظریہ اور سیاسی طاقت چھینی گئی ہے جبکہ ایک غیرقانونی اور غیر آئینی مراحل سے گزار کر بزور طاقت اور دھوکہ چھینی گئی ہے۔

جی ہاں میں پاکستان اور اسرائیل کی ہی بات کررہا ہوں۔

پاکستان اور اسرائیل دونوں ایک دوسرے کے الٹ اور متضاد نظریات اور مذاہب کی بدولت کبھی دوست نہ بن سکے اور نہ ہی بننے کی کوئی قوی امید ہے تو یہ ثابت شدہ بات ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے کی جانی دشمن ریاستیں اور قومیں ہیں۔

یہودیت اسرائیل کی بنیاد اور قیام کی اصل وجہ ہے جبکہ اسلام پاکستان کی بنیاد اور قیام کی وجہ ہے۔

اسرائیل کو مذہبی حوالوں سے دجال کی آماجگاہ اور حتمی جنگ کا میدان جنگ مانا جاتا ہے جبکہ پاکستان دراصل مذہبی حوالوں میں خراسان کو حتمی جنگ میں دجال کے خلاف اعلان جہاد بلند کرنے والی فوج کی آماجگاہ مانا جاتا ہے۔

اسرائیل باطل کااستعارہ اور علمبردار ہے جبکہ پاکستان حق کا استعارہ اور علمبردار ہے۔

دونوں ریاستوں کی عوام جنگجو اور ایک دوسرے سے شدید متنفر ہے اور ایسا ہونا بھی چاہیئے کہ یہود کو اللہ نے خود کلام الہی میں لعنت زدہ قوم پکارا ہے جبکہ مسلمانوں اور بالخصوص پاکستان کے حوالے سے نبی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی استعاری احادیث کا اچھا خاصہ ذخیرہ موجود ہے جو پاکستان کی مذہبی اہمیت اور وقعت کو اور اجاگر کرتا ہے کہ پاکستان کس طرح نبی ص کو محبوب تھا اور کس طرح اللہ اس مملکت کو ملعون یہود اور ان کے اتحادی نصاری و ہنود کے مقابلے دن بہ دن توانا کررہا ہے, کس طرح اس ملک کو طاقت اور جلاء بخش رہا ہے کہ یہ بوقت ہرمجدون یہود و ہنود, مشرکین اور باغی نصاری کا قلع قمع کرسکے۔

ویسے تو اس دنیا پر ساری سیاست اور سیادت کا دارومدار ان ہی دو ممالک پر ہے لیکن فی الوقت اسرائیل کے اعلانیہ اور غیراعلانیہ مددگار سب پاکستان کے پیش ہیں اور اس نظریاتی اور حق کی داعی ریاست کو سبوتاژ کرنے کے لیئے طرح طرح کے ہتھکنڈے اور دھمکیاں استعمال کررہے ہیں۔

پاکستان روز اول سے دشمنان اسلام کو کھٹک رہا ہے, یاد رہے دشمنان اسلام نا کہ دشمنان پاکستان کو۔

اسی لیئے ہر موقع اور ہر فورم پر جہاں جہاں کسی بھی طرح کا نقصان اسرائیل اور اسرائیل نواز ریاستیں پاکستان کو پہنچا سکتی تھیں, پہنچا سکتی ہیں یا پہنچا سکتی ہونگی تو کبھی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریں گی۔

ویسے تو قیام پاکستان سے اب تک اسرائیل اور پاکستان کی اعلانیہ و غیراعلانیہ دشمنی اور مسابقت کی تاریخ درج ہے جس میں

---پاکستان کا اسرائیل کو اسکے قیام سے لیکر آج تک ناتسلیم کرنا۔

---فلسطین پر یہودی قبضے کی اوائل دن سے ہرفورم پر اور ہر پاکستانی حکمران (سوائے نواز شریف) کی جانب سے شدید اور سخت مخالفت۔

---1967ء کے عرب اسرائیل تنازعے میں پاک فضائیہ کا شاندار کردار اور اسرائیل کو تاریخی فضائی ہار سے روشناس کروانا۔

---اسرائیل کی بھرپور کوششوں اور امریکہ و بھارت کی مدد کے باوجود پاکستان کے ایٹمی اثاثوں اور تنصیبات کی گرد کو بھی نہ پہنچ پانا۔

---فرانس کے سفیر کی مدد لیکر موساد کا کہوٹہ ایٹمی پلانٹ کو تلاش کرنے کی ناکام کوشش اور مارخوروں سے شاندار کٹاپا۔

---80ء کی دہائی میں اسرائیل کا پاکستان کے ایٹمی ری ایکٹر کی نامعلوم جگہ پر عراق طرز کی سرجیکل اسٹرائیک کی ناکام اور نامراد کوشش۔

اور 

---تازہ تازہ دوہزار اٹھارہ کی اوائل سہ ماہی میں امریکہ کے ذریعے القدس پر سفارت خانے کی آڑ میں قبضے کی کوشش اور اعلان پر پاکستان کی طرف سے شدید ردعمل موصول کرنا اور ساتھ ہی یو این او کے فورم پر پاکستانی اور ترکی کی قرارداد پر شدید حزمیت سے دوچار ہونا۔ 

(جبکہ گزشتہ ہفتے عارضی سفارت خانے کی شفٹنگ کے وقت سی آئی اے, موساد اور را نے اپنا مہرہ نواز شریف آگے کردیا جس نے ممبئی حملوں والی بکواس اور جھوٹی کہانی کو پاکستان کے سر تھوپ کر ساری عالمی اور ملکی توجہ القدس پر اسرائیلی امریکی قبضے کی خبر سے کھینچ لی۔)

یہ سب تو وہ باتیں ہیں جو تاریخ کے صفحوں پر درج ہیں لیکن حق و باطل کی تاریخ اتنی محدود نہیں, اسرائیل اور پاکستان قیام کے اول روز سے ایک سرد جنگ میں مبتلا ہیں جو دراصل دنیا کی حتمی اور گرم جنگ کی شروعات ہے۔

اس سرد جنگ کی وجہ سے پاکستان اور اسرائیل ایک دوسرے کے درپے ہیں جاسوسی اور سفارتی محاز پر۔

ایسا آن ریکارڈ ہے کہ کافی موساد کے ایجنٹ آئی ایس آئی کے ہاتھوں بری طرح زک اٹھا کر ہاتھ ملتے رہ گئے ہیں۔

موساد کے ٹریننگ سکول میں آج تک ساری ٹریننگ سے زیادہ اسی بات پر زور اور توجہ دی جاتی ہے کہ پاکستان اور آئی ایس آئی کو کبھی انڈر اسٹیمیٹ مت کرنا۔

اس کے باوجود اسرائیل پاکستان سے پنگے لینے سے باز نہیں آتا, خاص کر بھارتی اور امریکی شہہ پر جبکہ یہ تینوں ہی جانتے ہیں کہ پاکستان پر فتح یا اس کو توڑنا ان تینوں کے بس کی بات نہیں کیونکہ پاکستان کے کھانے کے دانت اور ہیں اور دکھانے کے اور۔

ساری بحث کو سمیٹ کر میں اس خبر کی طرف آتا ہوں جس کا پس منظر گستاخ رسول صل اللہ علیہ والہ وسلم اور غدار وطن و دشمن وطن نواز شریف اور امریکی پینٹا گون کی ایک سازش کا انکشاف ہے پاکستان کے خلاف اور اس پر اسرائیلی حملے کے حوالے سے کہ

"امریکہ نے اسرائیل کو پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر حملے کا گرین سگنل دیدیا۔"

یہ خبر ایک سابقہ بیوروکریٹ اور محب وطن امریکہ مقیم پاکستانی اور امریکی تھنک ٹینک تک رسائی رکھنے والے Rao  نذر محمد چوہان Rajput کے ذریعے پاکستانی اخبار "خبریں" کے مدیر اعلی ضیاء شاہد نے پاکستان میں بریک کی ہے۔

اس خبر سے متصل تفصیل میں اس امریکی گرین سگنل کو نواز شریف کی خاطر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ سے پینٹا گون کی بیک ڈور این آر او ڈیل سے جوڑا گیا ہے کہ اگر نواز شریف کو این آر او دینے پر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ راضی نہ ہو تو امریکہ کی طرف سے اسرائیل کو کھلی چھوٹ ہے کہ وہ پاکستان کی ایٹمی تنصیبات اور اثاثوں پر سرجیکل اسٹرائیک کرکے پاکستان کو ایٹمی دفاع سے محروم کردے۔

ذرا ایک منٹ کے لیئے سوچیں کہ وہ ایسا کیونکر کہنے کی ہمت کررہے ہیں اور ان کا کیا فائدہ ہے نواز شریف کو این آر او ملنے سے؟

میں پہلے سوال کا جواب دیتا ہوں;

نواز شریف دو تین بار عوامی و صحافتی حلقوں میں ببانگ دہل کہہ چکا ہے کہ وہ پاکستان کا تین دفعہ وزیر اعظم رہ چکا ہے اور وہ پاکستان کے ایٹمی رازوں سے بھی واقف ہے یعنی یا تو نواز شریف کسی محفوظ ذریعے سے پاکستان کے ایٹمی راز پینٹا گون, سی آئی اے, را اور موساد کو دے چکا ہے۔

اور دوسرے سوال کا جواب;

کہ یا پھر ان سے اس کا وعدہ کرچکا ہے کہ اگر وہ نواز شریف کو این آر او دلوا کر اسکی نااہلی ختم کروانے اور دوبارہ وزیر اعظم پاکستان بنانے میں مکمل مدد کرتے ہیں تو وہ امریکہ, بھارت اور اسرائیل کو پاکستان کے ایٹمی اور دفاعی راز دے دیگا جس کا استعمال پھر وہ جس طرح مناسب سمجھیں کرلیں۔

یعنی دونوں صورتوں یعنی پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے کورے جواب کی صورت یا مان جانے کی صورت نواز شریف کی ڈیل پکی ہے مذکورہ دشمن ممالک کی ایجنسیوں سے کہ وہ ایٹمی اور دفاعی راز طشت ازبام کردیگا ان کے سامنے۔

اب اس خبر پر افواج پاکستان کا ردعمل بھی پڑھ لیں لیکن پہلے پاکستان اور اسرائیل کے فوجی, سیاسی اور معاشی اعداد و شمار کا تقابلہ کرلیں کہ آیا اسرائیل پاکستان پر حملے کی سکت اور ہمت بھی رکھتا ہے یا ہمیشہ کی طرح بس ہوائی دھمکی ہی ہے۔

پاکستان اور اسرائیل بالترتیب 13ویں اور 15ویں نمبر پر ہیں دنیا میں۔

آبادی:

اسرائیل 81740000
پاکستان 201995000

جی ڈی پی (نومینل):

اسرائیل 311 بلین $ اور دنیا میں 35ویں نمبر پر
پاکستان 271 بلین $ اور دنیا میں 43ویں نمبر پر

جی ڈی پی (PPP):

اسرائیل 281 بلین $ اور دنیا میں 56واں نمبر
پاکستان 982 بلین $ اور دنیا میں 25واں نمبر

جی ڈی پی (Per Capita) PPP:

اسرائیل 34054 $ اور دنیا میں 34واں نمبر
پاکستان 4906 $ اور دنیا میں 133 واں نمبر

ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس یعنی HDI رینکنگ:

اسرائیل 18واں نمبر 188 ممالک میں
پاکستان 147واں نمبر 188 ممالک میں

مین پاور:

اسرائیل 3600000
پاکستان 95000000

فٹ فار سروس:

اسرائیل 3000000
پاکستان 75325000

ریچنگ ملٹری ایج:

اسرائیل 122000
پاکستان 4345000

ٹوٹل ملٹری پرسونل:

اسرائیل 718250
پاکستان 919000

ایکٹو ملٹری پرسونل:

اسرائیل 168250
پاکستان 637000

ریزرو ملٹری پرسونل:

اسرائیل 550000
پاکستان 282000

انٹیلی جنس ایجنسیز کی رینکنگ:

اسرائیل موساد تیسرے نمبر پر ٹاپ ٹین میں
پاکستان آئی ایس آئی پہلے نمبر پر ٹاپ ٹین میں

کومبیٹ ٹینکس کی تعداد:

اسرائیل 2620
پاکستان 2924

آرمرڈ فائیٹنگ وہیکلز کی تعداد:

اسرائیل 10185
پاکستان 2828

سیلف پروپیلڈ آرٹلری کی تعداد:

اسرائیل 650
پاکستان 465

ٹوچینڈ آرٹلری کی تعداد:

اسرائیل 300
پاکستان 3278

راکٹ پروجیکٹرز کی تعداد:

اسرائیل 48
پاکستان 134

ٹوٹل ائیر کرافٹ سٹرینتھ:

اسرائیل 652
پاکستان 951

فائٹرز ایئر کرافٹ کی تعداد:

اسرائیل 243
پاکستان 301

اٹیک ائیر کرافٹ کی تعداد:

اسرائیل 243
پاکستان 394

ٹرانسپورٹ ایئر کرافٹ کی تعداد:

اسرائیل 101
پاکستان 261

ٹرینر ائیر کرافٹ کی تعداد:

اسرائیل 219
پاکستان 190

ایئربورن ارلی وارننگ اینڈ کنٹرول (AEW&C) ائیر کرافٹ کی تعداد:

اسرائیل 3
پاکستان 8

ٹوٹل ہیلی کاپٹر:

اسرائیل 143
پاکستان 316

اٹیک ہیلی کاپٹر کی تعداد:

اسرائیل 48
پاکستان 52

ٹوٹل نیول ایسٹس:

اسرائیل 65
پاکستان 197

ائیر کرافٹ کیریئرز:

دونوں کے پاس نہیں ہے۔

فریگیٹ جہاز کی تعداد:

اسرائیل 0
پاکستان 10

ڈیسٹرائیررز کی تعداد:

اسرائیل 0
پاکستان 0

کوورٹس کی تعداد:

اسرائیل 3
پاکستان 0

سبمیرینز کی تعداد:

اسرائیل 6
پاکستان 8

پیٹرول کرافٹس کی تعداد:

اسرائیل 32
پاکستان 17

مائن وارفیئر کی تعداد:

اسرائیل 0
پاکستان 3

پیٹرولیم پروڈکشن:

اسرائیل 400 بیرل پر ڈے
پاکستان 93630 بیرل پر ڈے

پیٹرولیم کنزمپشن بیرل پر ڈے:

اسرائیل 240000
پاکستان 440000

پروون ریزروز بی بی ایل:

اسرائیل 13950000
پاکستان 400000000

لیبر فورس:

اسرائیل 3927000
پاکستان 65100000

مرچنٹ میرین سٹرینتھ:

اسرائیل 8
پاکستان 11

میجر پورٹ اور ٹرمینل:

اسرائیل 4
پاکستان 2

روڈوے:

اسرائیل 18290KM
پاکستان 260760KM

ریلوے:

اسرائیل 975KM
پاکستان 7791KM

واٹرویز:

اسرائیل 0KM N/A
پاکستان 25220KM

سیریویکیبل ایئر پورٹس:

اسرائیل 47
پاکستان 151

دفاعی بجٹ:

اسرائیل 15500000000$
پاکستان 7000000000$

ایکسٹرنل ڈیٹ:

اسرائیل 91080000000$
پاکستان 64040000000$

گولڈ فارن ایکسچینج:

اسرائیل $
پاکستان 20530000000$

پرچیزنگ پاور پیریٹی:

اسرائیل 297000000000$
پاکستان 988200000000$

نیوکلیئر پاور (ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد):

اسرائیل 80-120
پاکستان 100-120

سکوائر لینڈ ایریا:

اسرائیل 20770KM
پاکستان 796095KM

کوسٹ لائن:

اسرائیل 273KM
پاکستان 1046KM

مشترکہ سرحدیں:

اسرائیل 1068KM
پاکستان 7257KM

تو یہ ہے دونوں ممالک کی دفاعی, سیاسی اور معاشی استعداد لیکن جذبے, تجربے اور نظریئے پر پختہ یقین کے حوالے سے پاکستان اسرائیل پر ہر طرح سے برتر ہے۔

دونوں ممالک کی جنگی صلاحیت میں انیس بیس کا فرق ہی ہے لیکن جو نقصان پاکستان کی افواج اور آئی ایس آئی اسرائیل کو جذبے اور شوق شہادت و جہاد سے پہنچاسکتے ہیں اس کا وسیع تجربہ ہے اسرائیل اور بھارت و امریکہ کو۔

ہماری افواج چوکس اور بیدار ہیں جس کی ترجمانی پاکستان آرمی کے جوائنٹ چیف آف سٹاف جنرل زبیر محمود حیات نے اس خبر کے ردعمل میں یہ بیان دیکر کی ہے کہ

"اگراسرائیل نےپاکستان کی طرف دیکھا بھی تو بارہ منٹ کے اندر اندر پاکستان آرمی اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹا دیگی۔"

اور میں ساتھ ہی واضح کردوں کہ پاکستان بھارت کو دو منٹ میں تباہی سے دوچار کرنے کے بھی قابل ہے۔

اس سارے پس منظر اور زمینی حقائق کے مدنظر اسرائیل اگر کسی مہم جوئی کاحصہ بناتو وہ ضرور عبرت ناک مثال بھی بنے گا پاکستان کے ہاتھوں۔

پاکستان اس وقت بھارت اوراسرائیل کو بیک وقت دو سے بارہ منٹ میں تباہی اور خاتمے سے دوچار کرسکتا ہے۔

مطلب یہ کہ "صرف دو سے بارہ منٹ, اور کھیل ختم!!!"

رہ گئی بات نواز شریف کی کھلی غداری اور بیک ڈور روابط کی تو وہ دن گئے جب خلیل میاں فاختہ اڑایا کرتے تھے اور گولی ماری اور پہاڑ پر چڑھ گئے, یہ نواز شریف کی شدید بھول ہے کہ وہ یہ سب کررہا ہے اور فوج چوڑیاں پہن کر بیٹھی ہے, بس اکتیس مئی تک قوم اور ن لیگ خاص کر نواز شریف صبر کرے اور جو کرنا چاہے کرلے, اس کے بعد نواز شریف کا نام لیکر لوگ کانوں کو ہاتھ لگائیں گے ان شاء ﷲ۔

مارخور بیدار اور چوکنا ہیں, بہت جلد یہ نواز شریف نامی سانپ کا سرکچلا جانے والا ہے ان شاء ﷲ۔

اب اندھیر نہیں بس تھوڑی سی دیر ہے۔

تحریر: بلال شوکت

سب سے زیادہ دیکھی گئی مقالات خبریں
اہم ترین مقالات خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری