سید مقتدی الصدر کیا چاہتے ہیں ۔۔۔ ؟ (پہلی قسط)

عراق کے عوامی حلقوں میں مشہور مذہبی و سیاسی رہنما سید مقتدی الصدر سقوط صدام کے بعد سے ہی اپنے منفرد اور کسی حدتک متنازعہ موقف کے سبب ہمیشہ علاقائی اور عالمی ذرائع ابلاغ میں موضوع گفتگو رہے ہیں۔

سید مقتدی الصدر کیا چاہتے ہیں ۔۔۔ ؟ (پہلی قسط)

خبر رساں ادارہ تسنیم: اس بات سے بالکل بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ مقتدای الصدر عراقی عوامی حلقوں اور سیاسی میدان میں ایک نمایاں پوزیشن رکھتا ہے۔

سقوط صدام کے بعد عراق کے پہلے ہی انتخابات میں اس کی جماعت نے چالیس سیٹیں حاصل کی تھیں، آج صورتحال ایسی ہے کہ عراقی میدان سیاست میں اس کی حلیف بہت سی سیاسی جماعتوں کا ووٹ بنک متاثر دیکھائی دیتا ہے تو دوسری جانب مقتدی الصدر کا ووٹ بنک بڑھ چکا ہے۔ دوسرے الفاظ میں اب بھی اس کی مقبولیت میں کچھ زیادہ کمی دیکھائی نہیں دیتی۔
لیکن کیا جو کچھ وہ عراق کی بہتری کے لئے کرناچاہتا ہے وہ ایک راست قدم ہے ؟ہم اسی سوال کے جواب کی تلاش میں ہونگے ۔

سن 1973 میں پیدا ہونے والے مقتدی صدر کا تعلق معروف مذہبی خاندان آل صدر سے ہے جہاں ان کے والد آیت اللہ صادق صدر سے لیکر عالمی شہرت یافتہ شخصیت اور عظیم فقیہ و دانشور آیت اللہ باقر الصدر جیسی شخصیات گذری ہیں کہ ان دونوں شخصیات کو عراق کے سابق ڈکٹیٹر صدام نے قتل کردیا تھا۔

مقتدی کے والد کے قتل کے بعد اس نے اپنے والد کی وصیت کے مطابق عراق میں مقیم افغانی نژاد مرجع آیت اللہ شیخ فیاض کی قربت حاصل کرنا شروع کردیا جہاں آیت اللہ فیاض نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ  سیاست میں دراندازی کےبجائے مذہبی علوم کے اعلی مدارج کے حصول میں خود کو مصروف کرے۔

ایسے ہی صورتحال کا انہیں اپنے قریب سمجھے جانے والی دوسری اہم شخصیت آیت اللہ کاظم حائری کے ساتھ مشاورت کے وقت بھی پیش آئی۔

بظاہر یوں لگ رہا تھا کہ وہ بدلتے عراق میں اپنا سیاسی اور سماجی کردار دیکھنا چاہتا تھا۔

کہا جاتا ہے کہ وہ عراق میں مذہبی قیادت کو خالصتا عراقی قومیت کے اندر تلاش کرنے کی کوشش میں تھا اور اسے نجف اشرف میں مقیم مذہبی قیادت جو کہ قومی اعتبار سے ایرانی یا افغانی بیگ گرونڈ رکھتی ہیں پر کچھ اعتراضات بھی رہے ہیں۔

شائد یہ ان کی عراقی یا عربی قومی تشخص کی تلاش ہی ہے جو آج ہمیں ان کو عرب ممالک کے ساتھ ذاتی نوعیت سے لیکر سیاسی و سماجی تعلقات بناتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔

یہاں تک کہ اس ایشو میں اسےعراقی معاشرے میں ایک مذہبی رہنما کے لئے معین شدہ ایسے خطوط کو بھی پھلانگتے ہوئے دیکھتے ہیں کہ جس کے بارے میں کم ہی تصور کیا جاتا ہے۔

لیکن عراق میں اس کی اس سوچ کو سراہنے والوں کی کمی نہیں جو اسے وطنیت اور قومی تشخص کے عنوان سے بڑھاوا بھی دیتے ہیں تو دوسری جانب عراق کو عربی تشخص کے دائرے میں محدود رکھنے کی خواہش رکھنے والے خلیجی عرب ملکوں کے لئے بھی یہ ایک لبھانے دینے والی سوچ ہے۔

ماضی میں مقتدی الصدر کے بہت سے انتہائی متنازعہ قسم کے اقدامات اور بیانات کے مقابل نجف اشرف میں مذہبی قیادت کو انتہائی صبر و تحمل اور خاموشی کے ساتھ دیکھا جاسکتا ہے یہاں تک کہ ان میں سے بہت سی شخصیات کو خاموش اور ساکت مذہبی شخصیت تک کے الزامات کاسامنا کرنا پڑا۔

مقتدی الصدر کی پذیرائی میں اس وقت اضافہ ہوا جب سن 2004 میں جیش المہدی اور امریکی فورسز کے درمیان زبردست کی جھڑپیں ہوئیں۔

اسی طرح جیش المہدی کے بعض غیر مقبول اقدامات کے سبب انہوں نے امریکی قابض افواج سے مقابلے کے لئے وعدالموعود نامی ایک فورس بنائی جبکہ سن 2014 میں انہوں نے اعلان کردیا کہ مقدس مقامات کے دفاع کے لئے وہ سریا اسلام می نئی فورس بنانے جارہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ وہ اس قسم کے سیاسی و عسکری اقدامات سے یہ ثابت کرنے کی کوشش میں دکھائی دیتا ہے کہ وہ عراق کا ایک ایسا رہنما ہے جو عراقی عوام میں ایک خاص پوزیشن رکھتا ہے اور بہت کچھ کر سکنے کی اس میں دم بھی ہے۔

دوسری جانب عراق کے بارے میں خلیجی ممالک کی مخصوص پالیسی اور ذہنیت اس تلاش میں تھی کہ کس طرح اس عرب لیکن شیعہ اکثریتی ملک میں اپنا اثر ورسوخ پیدا کیا جاسکتا ہے اور کیسے عراق کو عرب قومی تشخص کے دائرے میں ہی رکھا جانا ممکن ہوسکتا ہے۔

مقتدی الصدر کا عربی اور عراقی قومی تشخص کی جانب بڑھتا ہوا رجحان اور یہاں تک کہ اس کی مذہبی تقاریر تک میں اس موضوع کو اہمیت کےساتھ بیان کرنا، خطے میں عربیت یا پان عرب ازم کے نعرے لگانے والوں کو فطری طور پر ان کے قریب کررہاہے۔

عراق میں بہت سے ایسے مذہبی رہنماووں کو دیکھا جاسکتا ہے جو یہ کہتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ سید مقتدی الصدر سیاسی مرجع ہیں جس کی عراق کو اس وقت انتہائی ضرورت ہے۔

تو کیا سید مقتدی الصدر ایک مذہبی مگر عربی قومی تشخص کے علمبردار رہنما ہیں ؟ اور کیا بات صرف اتنی ہے کہ خطے میں ان کی پذیرائی کی وجوہات ان کے پان عرب ازم کے نعرے ہیں ؟ یا پھر ا س کے درپردہ کچھ اور بھی مسائل ہیں ؟

ہم جس قدر ممکن ہو اور جس قدر بیان کیا جانا چاہیے اس موضوع پر وقتا فوقتا کچھ نہ کچھ لکھتے رہے گے ہماری کوشش ہوگی کہ عراق کی تازہ ترین صورتحال کے ساتھ ساتھ اس موضوع پر تجزیات اور تبصرے پیش کرتے رہیں ۔۔۔

بشکریہ: Focus on West & South Asia - URDU

سب سے زیادہ دیکھی گئی مقالات خبریں
اہم ترین مقالات خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری