دھرتی میری، مرضی میری؛ میں گلگت بلتستان ہوں... میں پاکستان ہوں.. !

گھر میرا، زمین میری، لوگ میرے، مگر اس میں %60 حصہ ریاست پاکستان کا، کارگل سے لے کر ضرب عضب تک، ضرب عضب سے لے کر ردلفساد تک ریاست پاکستان کی خاطر لہو میرا، میری سرزمین میں رہ کر میرے لوگوں کو ایجینسیاں جب چاہے، جتنے چاہے، گھروں سے اُٹھا لے اور ...

دھرتی میری، مرضی میری؛ میں گلگت بلتستان ہوں... میں پاکستان ہوں.. !

خبر رساں ادارہ تسنیم: گھر میرا، زمین میری، لوگ میرے، مگر اس میں %60 حصہ ریاست پاکستان کا، کارگل سے لے کر ضرب عضب تک، ضرب عضب سے لے کر ردلفساد تک ریاست پاکستان کی خاطر لہو میرا، میری سرزمین میں رہ کر میرے لوگوں کو اجینسیاں جب چاہے جتنے چاہے  گھروں سے اُٹھا لے، ریاست پاکستان ٹورزم انڈسٹری سے کروڑوں کمائے میرے نام پہ، ننگا پربت، کے ٹو، اور انڈس کا نام آئے تو پاکستان کے، سی پیک کی خاطر سب سے پہلے میرا سینہ چیرا جائے، میں نے اپنی آزادی خود لڑی، خود پاکستان کا انتخاب کیا، اپنی مر ضی سے اس ریاست کی بقا کے لئے خون دیا۔۔۔۔ ان سب کے باوجود میرا اس ریاست میں کوئی حق نہیں، سپریم کورٹ میرا نہیں، نیشنل اسمبلی میری نہیں، سینیٹ مجھے نہیں پہچانتی، میری قسمت کی فیصلے اس ریاست کی وہ اسمبلی کرتی ہے جس میں میری آواز بھی نہیں پہنچتی، میں نے آج تک اس ریاست کی حفاظت اور حرمت کو اپنی جان و مال اور عزت و آبرو سے مقدم رکھا، مگر آج اسی ریاست نے مجھے ایک تیسرے درجے کا شہری قرار دیا، پوری ریاست میں سب سے زیادہ لٹریسی ریٹ میرا، مگر میرے پاس ایک یونیورسٹی نہیں، دوسرے صوبوں کی پروفیشنل یونیورسٹیز میں کوٹہ کے نام سے مجھے داخلے کی اجازت نہیں، سرکاری نوکریوں میں مجھے تیسرے درجے میں رکھا جاتا ہے، مولوی ضیاء الحق نے اسلام کے نام سے اس سرزمین میں فرقہ ورانہ فسادات متعارف کرائے، ہم وہ بھی سہتے رہے۔

کیا نہیں کیا ہم نے اس ملک کے لئے۔۔۔ اس کے باوجود مجھے میرے بنیادی حق سے بھی محروم رکھا جاتا ہے۔ ان کے لئے طالبان ہی ٹھیک ہیں پہلے فوج کے ساتھ جتنا ممکن ہوا لڑے اس کے بعد آواز اُٹھا کے اپنا حق لے لیا اور اگر میں اپنے حق کے لئے کھڑا ہو جاؤں تو مجھے تخریب کار اور پاکستان مخالف قرار دیا جائے گا۔۔۔ اگر میرے یہی نظریات اور اپنے حق  کے لئے بولنا تخریب کاری اور غداری ہے تو ہاں میں  سب سے بڑا غدّار اور تخریب کار ہوں، 

میں گلگت بلتستان ہوں... 

میں پاکستان ہوں..

نوٹ: زیر نظر مضمون مصنف نے اپنے نقطہ نظر سے لکھا ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر میں پھیلے، تو قلم اٹھائیں اور اپنے ہی الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس: tasnimnewsurdu@gmail.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی مقالات خبریں
اہم ترین مقالات خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری