صدی کی سب سے بڑی ڈیل کیاہے؟ (حصہ دوئم)

صدی کے سب سے بڑی ڈیل کے حوالے سے دوسری قسط میں پاکستان کے معروف عالم دین، دانشور اور مفکر علامہ راجہ ناصرعباس جعفری کا تبصرہ پیش کرتے ہیں۔

صدی کی سب سے بڑی ڈیل کیاہے؟ (حصہ دوئم)

خبر رساں ادارہ تسنیم: اس عنوان کے ساتھ لکھنے جانے والے مضمون پر معروف عالم دین اور مغربی ایشیا سمیت دنیا کے حالات پر انتہائی گہری اور عمیق نگاہ رکھنے والی شخصیت جو مزاحمتی بلاک کو نہ صرف قریب سے سمجھتے ہیں بلکہ وہ بذات خود اس عظیم مزاحمتی بلاک کا ساوتھ ایشیا میں ایک اہم حصہ ہیں ،جو سامراج اور اس کی چالوںسے نہ صرف باخبر ہیں بلکہ انہیں پہلے سے بھانپ لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں، تجزیہ نگاری میں انتہائی مہارت کے ساتھ مکتبی و الہی نکتہ نظر کو عمیق انداز سے روحانیت اور معنویت کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔

ہماری مراد علامہ راجہ ناصر عباس جعفری صاحب جیسے ایک عالم مبارز اور دانشور و مفکر کی ہے۔

یہ بات واضح ہے کہ کم از کم کہا جاسکتا ہے کہ اردو زبان میں مغربی ایشیا سمیت دنیا کے حالات پر اس قدر گہری عمیق نگاہ رکھنے والوں میں واحد فرد ہوسکتے ہیں۔

اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے ہمیں کسی قسم کی نہ صرف جھجھک نہیں ہوگی بلکہ ہمارے لئے باعث فخر ہوگا کہ ہم فکری اعتبار سے ہمیشہ ان سے بھرپور استفادہ کرتے ہیں جو زیادہ تر ہماری تحریرمیں بھی جھلکتی ہے۔

مغربی ایشیا پر فوکس کرنے اور توجہ رکھنے کی جانب ہماری کوشش کے پیچھے اصل رہنمائی ان کی جانب سے ہی رہی ہے۔ 

ذیل میں اس مضمون پر آپ کا تبصرہ بلکہ بجا کہا جائے تو اس مضمون کی اصل روح اور ڈائریکشن کو آپ ملاحضہ کرسکتے ہیں۔

آپ نے درست لکھا ہے؛

لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نتین یاہو اور محمد بن سلمان کی جلد بازی نے اس نام نہاد "صدی کے معاملے اور ڈیل" کو وقت سے پہلے ہی مختلف چیلینجز کا شکار کر دیا ہے اور وہ جلد بازی در حقیقت، ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارلحکومت اعلان کرنا اور اپنے سفارت خانے کو وہاں منتقل کرنا تھا جس کے بعد (فلسطینی صدر) ابو مازن محمود عباس نے جامع الازھر میں یہ اعلان کیا کہ کوئی ایسا فلسطینی پیدا ہی نہیں ہوا جو اس ذلت نامے (صدی کی ڈیل ) پر دستخط کرے۔

اس وقت عرب رائے عامہ کا اتنا دباؤ ہے کہ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سعودی عرب میں عرب لیگ کا اجلاس بلا کر فلسطینیوں کے قتل عام اور امریکہ کی یروشلم میں سفارتخانے کی منتقلی کی مذمت کی گئی اسی طرح ترکی میں او آئی سی کا اجلاس بھی عربی اسلامی رائے عامہ کے دباؤ کے تحت ہی ہوا جو اپنی حد تک ایک مفید قدم تھا۔

فلسطینی رائے عامہ بھی اس خیانت کو قبول کرنے کو تیار نہیں،گذشتہ دنوں فلسطین میں ہونے والے مظاہرے اور شہادتیں اور قربانیاں اس بات پر گواہ ہیں کہ فلسطینی کئی دہائیاں گزرنے کے بعد بھی اپنی سرزمین اور قبلہ اول کے لئے قربان ہونے سےپیچھے نہیں ہٹیں گے۔

اب جبکہ ان کی مدد کے لئے صحرائے کربلا سے طلوع ہونے والا مزاحمت اور مقاومت کا مکتب اور نظام ولایت فقیہ بھی موجود ہے جو فلسطینی مظلوموں کو کسی صورت بھی تنہا چھوڑنے کو تیار نہیں، جو تمام تر مشکلات کے باوجود راستے کی رکاوٹوں کو عبور کرتا آگے بڑھ رہا ہے۔

اور اس کا رہبر ایک الہی رہبر ہے جو صرف اور صرف اپنے الہی فریضے اور ذمہ داری کو انجام دینے کی بات کرتا ہے جن کی سنن الیہ پر گہری نظر ہےاس لیے ببانگ دہل یہ اعلان کرتے ہیں کہ "یہ سنت الہی ہے کہ اسرائیل نے نابود ہونا ہے"۔

اس وقت صدی کی نام نہاد ڈیل کرنے والے یہ تینوں مستکبرین بہت کمزور ہیں ہر ایک کو اندرونی مشکلات کا سامنا ہے، ان کا نقطہ نظر یہ ہے کہ جنگ و جدال کے بغیر ان کے منصوبے کامیاب نہیں ہو سکتے جبکہ مقاومت کے ساتھ لڑی جانے والی اب تک کی ساری جنگیں یہ ہار چکے ہیں۔

خاص طور پر پراکسی وار میں یہ بھرپور شکست کھا چکے ہیں تو کیا یہ اب براہ راست جنگ لڑ کر جیت سکتے ہیں؟ جواب منفی ہے۔

یمن میں یہ براہ راست جنگ ہار رہےہیں، شام میں اب یہ براہ راست جنگ لڑنے سے گھبرا رہے ہیں جس کی دلیل حالیہ دنوں میں جولان کے مقبوضہ علاقے پر (بقول اسرائیل ایران کا) حملہ جو دو گھنٹے سے زیادہ رہا اور امریکہ سمیت کوئی ملک بھی اسرائیل کی مدد کو نہیں آیا۔

اسرائیل پر سراسیمگی چھائی ہوئی تھی اور مختلف ممالک کی منت و سماجت کر رہا تھا کہ مزید حملے نہ کئے جائیں تو اب کیا اسرائیل یہ چاہے گا کہ اس کے ہمسائے میں ایسی جنگ شروع ہو جو اس کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے۔

لہذا اب وہ کوشش کریں گے کہ سیاسی طریقوں سے وہ اپنے نقصانات کو کم سے کم کریں اور مخالفین کے خلاف سیاسی پلاننگ کے ذریعے اپنے فی الجملہ مقاصد کو حاصل کر سکیں۔

لیکن مدمقابل مقاومت کی قیادت جہاں عسکری طور ہر بہت ماہر اور زبردست ہے وہیں سیاسی طور پر بھی ایسے ہی ہے، سیاسی پراسیس کے ذریعے مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے زیادہ وقت چاہئے اور صبر بھی چاہئے جو امریکی اسرائیلی اور آل سعود کی اسٹیبلشمنٹ میں نظر نہیں آتے۔

انہیں بہت جلدی ہے لیکن وقت تیزی کے ساتھ ان کے ہاتھ سے نکل رہا ہے۔

لہذا ہمارے عارف باللہ رہبر عزیز کے بقول اسرائیل آئندہ 25 سال نہیں دیکھ سکے گا اور اب تو چند سال شاید گزر بھی چکے ہیں۔

در حقیقت اس صدی کی سب سے بڑی ڈیل کی جگہ اس صدی کے وہ سب سے بڑے حوادث ہیں جن میں امریکہ کا ٹوٹنا، اسرائیل کی غاصب حکومت اور سسٹم کا خاتمہ اور آل سعود کے یزیدوں کا عبرتناک انجام ہے۔

انشاء اللہ عدل کا سورج طلوع ہو کر رہے گا وہ بھی دیکھیں گے اور ہم بھی دیکھیں گے۔ ہم پرامید مستقبل کے عقیدے کے حامل اور لقاء اللہ کے عاشق جو جنت سے بھی بالاتر اور یہ ہمارے دشمن، ابلیس زادے مستقبل کے حوالے سے مایوس اور ناامید۔ یہ دھوکے باز، فریب کار اور جھوٹے اور ہم (یعنی مقاومت) صداقت کے امین اور حق و حقیقت کے علمبردار۔ وہ شراب کے نشے میں مست مدہوش اور بے ہوش اور ہم عشق خدا اور اس کی محبت کی شراب پیے سرمست و بصیرت کی روشنیوں میں آگاہ اور باخبر۔ وہ انسانوں کو ان کی توحیدی فطرت سے دور لیجا کر دنیا پرستی کے دیار غربت کے زندان میں قیدی بنانے والے اور ہم انسانوں کو ان کی توحیدی فطرت کی طرف لیجا کر "ھیھات منا الذلة" کا جام آزادی پلا کر انہیں ہر قسم کی غلامی کی زنجیروں کو توڑنے اور حریت کی بہشت میں لے جانے والے۔

بالآخر ھم صراط مستقیم کے مسافر سب کچھ اللہ کی راہ میں لٹا کر بھی خوش بختی اور سعادت اور کامیابی کا احساس کرنے والے۔ شہادت کے (ظاہری موت) حیات و زندگی ہونے پر ایمان رکھنے والے یعنی ہمیشہ حیات کے نعمت سے مالا مال رہنے والے اور یہ موت سے فرار کرنے والے بزدل۔ آپ خود ہی سوچ لیں اس معرکہ حق و باطل، اس جنگ فقر و غنا کا انجام کیا ہوگا؟

"فاستقم کما امرتکم من فئة قلیلة غلبت فئة کثیرة بإذن الله والله مع الصابرین۔"

بالآخر یہ مادہ پرست کب تک لوگوں کو دنیا کی اس جعلی بہشت کے دھوکے (اور لالچ) میں انہیں خدا سے دور رکھیں گے۔ مکتب کربلا جو آزادی خواہی اور عدالت خواہی کی اصلی اور حقیقی "خواستگاہ" یعنی سرچشمہ ہے، جو 14 صدیاں گزرنے کے بعد آزادی خواہی اور عدالت خواہی (عدالت طلبی یعنی آزادی اور عدالت کے مطالبے) کے شجرہ طیبہ کو نہ صرف اسے خشک نہیں ہونے دیتا بلکہ اسے صدا بہار رکھے ہوئے ہے۔ 14 صدیوں سے یہ تحریک مختلف مراحل سے گزرتی ہوئی اب ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ شیطان بزرگ کے اکثر "ترفند اور حربے" یعنی حیلے اور چالیں کربلائی بصیرت رکھنے والے مقاومت کے بلاک اور اس کی قیادت نے ناکام بنا دیے، قدم قدم پر غیبی مدد صاف دکھائی دے رہی ہے۔

کربلائی پرچم اب سیدہ کائنات کے بہادر، شجاع، مدبر اور بابصیرت بیٹے اور ان کے چٹانوں سے زیادہ بلند ہمت اور مضبوط ارادوں کے حامل پیروکاروں (قاسم سلیمانی، سید حسن نصراللہ، سید عبدالمالک الحوثی، حشد شعبی ۔۔۔۔۔۔) کے مظبوط ہاتھوں میں ہے۔

اربعین وچہلم سید الشھداء یعنی مکتب تشیع کی جہانی و عالمی تجلی اور ظہور، یعنی آزادی خواہی، حریت پسندی اور عدالت طلبی یعنی عدل و انصاف کی تلاش کی راہ کے سرفروشوں کے آزادی اور حریت کے امام کی بارگاہ میں لبیک یا حسین علیہ السلام کے فلک شگاف نعرے بلند کرتے عاشقانہ حضور، یعنی ظہور امام عصر عج کی طرف ایک عظیم"جھش" و حرکت یعنی ہم صرف ظلم کے مٹ جانے، آزادی کے حاصل ہو جانے پر اکتفا کرنے والے اور راضی ہونے والے نہیں بلکہ نظام عدل بھی چاہئے، یعنی آزادی و حریت عدل کے ساتھ چاہئے، عدل کے بغیر آزادی یعنی ایک گڑھے سے نکل کر دوسرے گڑھے میں گرنا ھے۔

بشکریہ: Focus on West & South Asia - URDU

سب سے زیادہ دیکھی گئی مقالات خبریں
اہم ترین مقالات خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری