سید مقتدی الصدر کیا چاہتے ہیں ۔۔۔ ؟ (دوسری قسط)

ہم نے گذشتہ مضمون میں واضح کرنے کی کوشش کی تھی کہ مقتدی الصدر عراق میں بہت سوں کے لئے ایک سیاسی مرجع کی پوزیشن رکھتے ہیں اور خطے کے بہت سے عرب ممالک ان کے عربی تشخص کے نعرے کوپسند کرتے ہیں۔

سید مقتدی الصدر کیا چاہتے ہیں ۔۔۔ ؟ (دوسری قسط)

خبر رساں ادارہ تسنیم: خاص طور پر وہ خلیج فارس کے عرب ممالک جو عراق کے بارے میں مخصوص ذہنیت کے سبب ایک خاص پالیسی کو پیش نظر رکھتے ہوئے کہ کس طرح اس عرب لیکن شیعہ اکثریتی ملک میں اپنا اثر ورسوخ پیدا کیا جاسکتا ہے اور کیسے عراق کو عرب قومی تشخص کے دائرے تک محدود رکھا جانا ممکن ہوسکتا ہے۔

عراقی انتخابات میں سید مقتدی الصدر کے الائنس السائرون کو حاصل نسبی عدد برتری کے بعد ان ممالک سمیت بین الاقوامی سطح پر میڈیا کا ایک حصہ یہ یقین دلانے کی کوشش میں دکھائی دیتا ہے کہ عراق میں مزاحمتی بلاک کی سوچ کو شکست ہوئی ہے۔

ان کے الفاظ کے مطابق وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ عراق میں سعودی عرب اور خلیج فارس کے عرب ممالک نے ایران کو شکست دی ہے اور مقتدی الصدر کو وہ بطور نمونہ اپنی کامیابی کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

تو حقیقت کیا ہے ؟

الف: مقتدی الصدر کے انتخابات سے پہلے سعودی عرب کی دعوت کو قبول کرکے ریاض کا سفر کرنا اور پھر سعودی عرب کی جانب سے انہیں کچھ تحائف دینا ۔
ب: انتخابات میں سنی اکثریتی علاقوں میں مقتدای الصدر کے الائنس ایک قابل توجہ تعداد میں ووٹ کا مل جانا 
ج: مقتدی الصدر کا عربی تشخص اور ہمسائیہ عرب ممالک کے ساتھ تعلقات پر زور دینا اور کیمونسٹ پارٹی کے ساتھ الائنس بنانا ۔

یہ وہ تمام باتیں ہیں جس کی بنیاد پر مخصوص میڈیا یہ باور کرانے پر تلا ہوا ہے کہ گویا مقتدی الصدر عراق میں سعودی عرب اور مزاحمتی بلاک مخالف اتحاد کا نمایندہ ہے۔

ہمیں چند چیزیں نہیں بھولنا چاہیے کہ

الف: مقتدی الصدر خاندان صدر کے چشم و چراغ ہیں اور ان کی شناخت اس عنوان سے ہی نمایاں دکھائی دیتی ہے اور خاندان صدر کی شناخت شیعہ مبارز مجتہدین اور عالم ہونے کے سبب ہے۔ 
ب: مقتدی الصدر واضح کرچکے ہیں کہ وہ عراق میں بیرونی مداخلت کے سخت مخالف ہیں اور ایران کے ساتھ دیرینہ تعلقات رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں یہاں تک کہ انہوں نے یہ بات اس وقت بھی کی تھی جب وہ سعودی میڈیا کو انٹریو دے ر ہے تھے۔
ج: مقتدی الصدر کا الائنس سائرون باوجود عددی برتری رکھنے کے اکیلے حکومت بنانے کی پوزیشن نہیں رکھتا اور انہیں کسی نہ کسی سیاسی جماعت کے ساتھ اتحاد کرنا پڑے گا۔

یہ وہ اہم نکتہ جو اس وقت میڈیا کے ایک خاص حصے کا فوکس ہے وہ چاہتے ہیں کہ عراق میں ایک مضبوط اتحادی حکومت تشکیل نہ پائے۔

واضح رہے کہ سید مقتدی الصدر کا الائنس آنے والی حکومت میں ضرور شامل ہوگا نہ اپوزیشن میں اور شائد عراق کے سیاسی مستقبل کے لئے ان کا حکومت میں شامل رہنا اپوزیشن سے زیادہ مفید واقع ہوسکتا ہے۔

دـ: ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ عراقی انتخابات میں آغاز سے ابتک مقتدای الصدر اچھی سیٹیں لیتے رہے ہیں 

موجودہ حکومت میں بھی ان کے پاس 35سیٹیں ہیں اور وہ ماضی چھ وزارتیں اور حالیہ حکومت میں پانچ وزارتیں بھی رکھتے ہیں۔

لہذا یہ کہنا کہ اچانک کچھ ایسا ہوا کہ مقتدی الصدر کی کامیابی سعودی عرب کی کامیابی شمار ہوگی ایک غیر منطقی بات دیکھائی دیتی ہے۔

واضح رہے کہ عراق میں سعودی عرب کی جانب سے جس سیاسی لیڈر کی کھلے معنوں حمایت رہی ہے وہ ایادعلاوی ہیں جو سیاسی طور پر عبرت کا نشان بن چکے ہیں۔

عراقی سیاسی گرونڈ میں یہ بات تو کہی جاسکتی ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان سیاسی معرکہ ہے اور یہ کہنا عملی طور پر کسی حدتک درست بھی ہوسکتا ہے لیکن سعودی عرب عراق میں اس قسم کا کوئی سیاسی اثرورسوخ نہیں رکھتا کہ کہا جاسکے اس کی کامیابی ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ امریکیوں کے ساتھ معرکے میں مقتدی الصدر کی جیش المہدی پیش پیش رہی ہے۔
انتخابی عمل کے جذباتی نعرے ۔

عراقی عوام کا ایک حلقہ اس بات کو لیکر بہت حساس ہے کہ ہرقسم کی بیرونی مداخلت یا اثرورسوخ عراق میں نہیں ہونا چاہیے خواہ وہ امریکی ہو یا کسی اور ملک کا بشمول ایران کے۔

شائد اس کی ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے دہشتگردوں کیخلاف جنگ میں ایران کا مرکزی کردار کے سبب بہت سے افراد اس بیرونی پروپگنڈے اور خدشات کا شکار ہوئے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ اب ایران عراق کی ہرچیز پر قابض ہونے جارہا ہے ۔

لہذا بہت سے امیدواروں نے عوام کے اس حلقے کو اپنی جانب متوجہ کرنے اور ان کے ووٹ بینک کے حصول کی خاطر ایسے نعرے ضرور لگائے ہیں کہ جس میں کہا گیا امریکی اور ایرانی مداخلت نامنظور ۔۔

واضح رہے کہ ایران سمجھتا ہے کہ عراقی سیاسی عمل میں بیرونی مداخلت عراقی معاشرے کے لئے بالکل بھی مفید نہیں لیکن ساتھ ساتھ وہ عراق میں امریکی مداخلت کی جانب بھی عراقیوں کو متوجہ رکھنے کوشش کرتا رہتا ہے۔

نئی عراقی حکومت کی تشکیل مقتدی الصدر اور موجودہ وزیراعظم ،حشد الشعبی کے سربراہ ،سید عمار الحکیم جیسے الائنس سے مل کر ہی تشکیل پائے گی ہوسکتا ہے کہ مقتدی الصدر کے الائنس میں سے بعض گروہ اس کا ساتھ چھور جائیں ۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی مقالات خبریں
اہم ترین مقالات خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری