کیا روس اور ایران میں اختلافات جنم لے رہے ہیں ؟

مغربی ایشیا میں میڈیا کا ایک حصہ یہ یقین دلانے کی کوشش میں دیکھائی دیتا ہے کہ شام اور اس کے اتحادی ممالک و فورسز کے درمیان کسی قسم کا کوئی اختلاف پیدا ہوا ہے۔

کیا روس اور ایران میں اختلافات جنم لے رہے ہیں ؟

خبر رساں ادارہ تسنیم: میڈیا کا یہ حصہ کبھی یہ باور کرانے کی کوشش میں دیکھائی دیتا ہے کہ روس اور شام میں اختلافات ہورہے ہیں تو کبھی ایران اور روس میں تو کبھی روس اور دیگر مدد گار فورسز میں ۔

اس وقت جنوبی حصہ میں ممکنہ آپریشن کو لیکر ایک بار پھر مختلف قسم کی افوائیں زیر گردش ہیں اور ہوسکتا ہے کہ آگے جاکر ان افوائوں میں من گھڑت کہانیاں اور واقعات بھی جنم لینے لگیں۔

اس موضوع کو لیکر المیادین چینل میں عبد اللہ شمس الدین نے ایک مضمون لکھا ہے جس کے کچھ اہم اقتباسات کو ہم یہاں نقل کرنا مناسب سمجھے گے ۔

اسرائیل اور روس کے درمیان اسرائیلی سرحدی علاقوں میں شام اور اس کی حامی فورسز کی موجود گی کو لیکر ہونے والی بات چیت کے بارے میں اسرائیلی یہ کہہ رہے کہ "روس کے ساتھ ہونے والی بات میں اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ گولان ہائٹس یا جولان کی سرحد کے پاس صرف شام کی آرمی ہوگی ایرانی یا حزب اللہ کی فورسز نہیں ہونگی ،اور یہاں موجود شدت پسندوں کیخلاف آپریشن کے دوران شام کی آرمی اس بات کو خیال رکھے گی کہ سرحد کے اس جانب کسی قسم کی گولہ باری نہ ہو"۔

لیکن روس کی جانب سے بیان ہونے والی باتوں میں اس قسم کے کوئی نکات شامل نہیں"۔

واضح رہے کہ شام کے صدر بشار الاسد میں اپنے تازہ ترین انٹریو میں کہا ہے کہ ’’شام کی سرزمین میں ایران کی کوئی فوج یا فورسز نہیں ہیں اور اگر ایسی کوئی فوج ہوتی تو ہم برملا اظہار کرتے شرماتے نہیں ،جس طرح ہم نے روسی فورسز کو دعوت دی اس طرح ہم ایرانی فورسز کو بھی دعوت دے سکتے تھے ،ایران کے عسکری مشاروین شام میں آرمی کی مدد کے لئے موجود ہیں ،وہ جھوٹ بولتے آئے ہیں جبکہ مسلسل کہہ رہے ہیں کہ ایران کے صرف عسکری مشاورین موجود ہیں۔

دوسری جانب مضمون نگار عبداللہ شمس بھی لکھتا ہے کہ ’’اسرائیلی اور روسی ملاقات کے بارے میں دونوں روایات کو پیش نظر رکھتے ہوئےچند نکات بیان کرتا ہے جن کا خلاصہ زیل میں ہم پیش کرتے۔

الف:اسرائیل یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ ان کے درمیان طے ہونے والی باتیں یہ ہیں کہ سرحدی علاقے سے ایران اور حزب اللہ کی فورسز نکل جائیں گی ،وہ درحقیقت اسے اپنی ایک کامیابی بنا کر پیش کرنا چاہتا ہے ۔

وہ کہنا چاہتا ہے کہ یہ وہ تھا کہ جس نے شام کی فوج کو اسرائیلی سرحد کے قریب آنے کی اجازت دی ہے۔

جبکہ شام کی فورسز کی جولان سے لیکر اردن کی سرحد تک موجودگی بذات خود مزاحمتی بلاک کی ایک کامیابی ہے کہ جس میں شام کی آرمی ایک بنیادی رکن اور ایران وحزب اللہ کی فورسز اسے ہی مدد فراہم کررہی ہیں۔

ب:اسرائیل پہلے دن سے ہی اپنی کوششوں میں ناکام رہا تھا کہ جب وہ شام کے جنوبی حصے میں ایک ایسا علاقہ تشکیل دینا چاہتا تھا کہ جہاں ان کے حامی شدت پسندوں کا راج ہو۔

ج:اس علاقے میں موجود شدت پسندوں کی پوزیشن انتہائی ناگفتہ بہ اور ان کامستقبل کا کوئی پتہ نہیں خاص طور پر کہ روس ،اردن اور امریکہ کے درمیان اس علاقے کو لیکر طے ہونے والے معاہدے کے بعد وہ خود کو بے یار ومدد گار پاینگے کہ اسرائیل انہیں تنہاچھوڑ چکا ہے اور اب وہ قربانی ہونے جارہے ہیں۔

دـ:شام میں ایرانی افواج کی موجودگی پرزبردستی زوردیکر یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ جیسے یہ اس کی ایک کامیابی ہے جبکہ وہ سیاسی طور پر یہ یقین دلانے کی کوشش میں ہے کہ روس اور ایران کے درمیان اختلافات ہوچکے ہیں اور ماسکو میں اسرائیلی روسی ملاقات میں اسرائیل روس کے موقف میں اپنے جانب کرنے میں کامیاب ہوا ہے جو کہ بالکل ہی ایک بوگس بات ہے جس کے بارے میں روسی بھی نفی کرچکے ہیں۔

رـ:اسرائیلی بھول چکے ہیں کہ روس مزاحمتی بلاک کاحصہ نہیں لیکن وہ اتحادی ہے کہ جس نے شام کے ایشو میں امریکہ اور یورپ کا سامنا کیا ہے اور شام میں دہشتگردی کیخلاف آپریشن میں کاندھے سے کاندھا ملاکر شرکت کی ہے۔

اسرائیل یہ بھی بھول چکا ہے کہ ایران اور روس کے درمیان تعلقات کی سطح شام سے کہیں آگے کے ہیں کہ جو سیکوریٹی معیشت اور ہمسائے گی کے پہلو سے اسٹراٹیجکل حد کو چھو تے ہیں۔

اسرائیلی یہ بھی بھول گئے ہیں کہ آستانہ مذاکرات ہی شام کے بحران کے حل کا پلیٹ فارم ہے جس کی تشکیل روسی ایرانی کوششوں سےپائی ہے اور اب ترکی بھی اس کا حصہ ہے۔

عبداللہ شمس کے ان نکات کے بعد ضروری تو نہیں سمجھا جارہا ہے کہ مزید کوئی بات لکھی جائے لیکن صرف اس پہلو کو بیان کرنا ضروری ہے کہ بعض اوقات جو کچھ اسرائیلی باور کرانے کی کوشش میں لگے ہیں وہ نفسیاتی جنگ کا حصہ ہے لیکن قابل توجہ بات یہ ہے کہ بعض اوقات روسی میڈیا کا ایک حصہ خاص کر سرکاری موقف کے قریب سمجھا جانے والا میڈیا بھی ایسی گفتگو کرتا ہے کہ جس کے سبب ہوسکتا ہے کہ کنفیوژن پیدا ہو۔

دوسری جانب ہم یاد رکھنا ہوگا کہ شام کے اس بحران میں سینکڑوں بار ایسے موڑ آئےہیں کہ جہاں میڈیا اور تجزیہ کاروں کے تجزیات کے بالکل برعکس چیزیں فیصلہ ساز افراد و ممالک کی جانب سے سامنے آئی ہیں۔

آخر کار میڈیا کو کسی نہ کسی پہلو اپنی ریٹنگ کا بھی کچھ خیال رکھنا پڑتا ہے ۔۔۔

یہاں یہ بات واضح کردینی ضرور ی ہے کہ جوں جوں معرکہ جولان کی پہاڑیوں کی جانب بڑھے گا توں توں نفسیاتی جنگ اور من گھڑت خبروں کا بازار بھی گرم ہوتا جائے گا۔

بشکریہ: Focus on West & South Asia - URDU

سب سے زیادہ دیکھی گئی مقالات خبریں
اہم ترین مقالات خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری