ہومیوپیتھک الیکشن

پاکستان میں جہاں انتخابات کے ہونے یا نہ ہونے کی بحث پورے زوروشور سے جاری ہے وہیں ڈی جی آئی ایس پی آر، سپریم کورٹ آف پاکستان، اور نگران وزیراعظم کے بیانات نے ان تمام لوگوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے جن کی سیاست ہی ان اداروں پرگندگی اچھالنے اور جمہوریت مخالفت کی طعنہ زنی پر ٹکی ہوئی تھی۔

ہومیوپیتھک الیکشن

خبر رساں ادارہ تسنیم: پاکستان میں اس وقت انتخابات کے ہونے یا نہ ہونے کی بحث پورے زوروشور سے جاری ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر، سپریم کورٹ آف پاکستان، اور نگران وزیراعظم کے بیانات نے ان تمام لوگوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے جن کی سیاست ہی ان اداروں پرگندگی اچھالنے اور جمہوریت مخالفت کی طعنہ زنی پر ٹکی ہوئی تھی۔ لیکن قارئین کرام بیانات کچھ بھی کہیں درج ذیل معاملات و مسائل کی روشنی میں آپ خود فیصلہ کریں کہ کس طرح کے الیکشن ہونے جا رہے ہیں اور انکے نتائج کیا ہوں گے۔

جمہوریت کا تسلسل کہیں یا طاقت کا کھیل، عام آدمی اس کھیل سے کوسوں دور ہی رہتا ہے۔ بے چارہ صرف تماشہ دیکھ کر تالی ہی بجا سکتا ہے کیونکہ اس کھیل میں شمولیت کے لیے نہ تو اسکے پاس وسائل ہیں اور نہ ہی اتنا وقت کہ وہ اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی کمانے کی بجائے ایک ایسے کھیل کا حصہ بنے جس میں آخر کار اسکا اپنا اور اسکے گھر والوں کا نقصان ہی نقصان ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ پاکستان کی کل آبادی کا نصف کبھی ووٹ ڈالنے جاتا ہی نہیں اور الیکشن کے دن کو ایک چھٹی کے طور پر اپنے ماں ، باپ، بیوی، بچوں کے ساتھ کزارنے کو ترجیح دیتا ہے۔ اس مرتبہ بھی کچھ بدلنے والا نہیں لہذا آدھا پاکستان ووٹ کاسٹ نہیں کرے گا اور ٹرن آوٹ ہمیشہ کی طرح لگ بھگ پچاس فیصد تک ہی رہنے کا امکان ہے ۔ لہذا باقی کے پچاس فیصد سے متعلق ہی گفتگو کی جا سکتی ہے۔

آپکو یاد ہو گا کہ پچھلے سال الیکشن آرڈر دوہزار سترہ کے عنوان سے ایک قانون نافذ العمل قرار پایا جس کے بعد پاکستان بھر میں علامہ خادم حسین رضوی کی جماعت تحریک لبیک پاکستان نے نہ صرف اسلام آباد میں دھرنا دیا بلکہ اپنے سر اسٹیبلشمنٹ کی جماعت ہونے کا تعنہ بھی لیا۔ وجہ کاغذات نامزدگی فارم سے ناموس رسالت ﷺ کا حلف نامہ نکالا جانا تھا اوریہ دھرنا اوراس کے بعد کے احتجاج اسی یقین دہانی پر اختتام پذیر ہوئے تھے کہ یہ حلف نامہ اور کاغذات نامزدگی پرانی شکل میں ہی بحال کیے جائیں گے۔ سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کلعدم قرار دیتے ہوئے نئے ترمیم شدہ فارم کوہی بحال رکھتے ہوئے الیکشن کروانے کا حکم صادر فرما دیا ہے۔ اس کے نتیجہ میں نہ تو اب کسی بھی امیدوار کو حلف نامہ دینا ہے کہ وہ قادیانی نہیں، نہ ہی اپنے تمام  مالی قوائف بیان کرنے کی ضرورت ہے، اور نہ ہی سفری تفصیلات بیان کرنے کی حاجت باقی رہی ہے۔دیگر معاملات بھی ہیں لیکن اگراختصار کے ساتھ کہوں تو تمام اہل اقتدار نے مل کر فیصلہ کر لیا ہے کہ کاغذات نامزدگی فارم آئین کی شق باسٹھ اور تریسٹھ کے مطابق نہیں کیا جائے گا۔ لہذا نہ رہا ہے بانس اور نہ بجے گی بانسری۔عزرداروں نے تو عزر یہ ہی پیش کیا ہے کہ اگر فارم میں تبدیلیاں کی گئیں تو الیکشن ملتوی ہونے کا خطرہ ہے۔ کاش کہ انہیں اللہ رب العزت کے پیارے محبوب ﷺ کے ناراض ہونے کا بھی اتنا ہی خطرہ ہوتا جتنا زمینی آقائوں کے ناراض ہونے کا ہوتا ہے۔ میرے پیارے بھائی خواجہ فراز حیدر صاحب اکثر کہاکرتے ہیں کہ "اتنی جلدی تو ہانڈی بھی نیچے نہیں لگتی جتنی جلدی کٹھ پتلی ارباب اختیارزمینی آقائوں کے نیچے لگتے ہیں " ۔

تیس مئی دوہزار اٹھارہ کو بلوچستان اسمبلی نے ایک قرارداد پاس کی جس میں استدعا کی گئی کہ الیکشن کی تاریخ اختتام اگست تک بڑھا دی جائے کیونکہ سخت موسمی حالات کی وجہ سے علاقہ مکین نقل مکانی کر جاتے ہیں اور دوسرا یہ کہ حج کے دنوں میں تاریخ الیکشن رکھنا حج پر جانے کا ارادہ رکھنے والوں کے لیے باعث پریشانی ہو سکتا ہے۔ کیونکہ یہ بات درست ہے کہ پچاس فیصد آبادی الیکشن کا حصہ نہیں بنتی لیکن باقی ماندہ پچاس فیصد میں سے ایک کثیر تعداد الیکشن کو بہت زیادہ سیریس لیتی ہے۔ اس قرارداد کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھا گیا اور جسطرح چھوٹے صوبہ کا استحصال نہ جانے کتنی دہایوں سے کیا جا رہا ہے اس ملک کے جمہوریت پسندوں نے اس خواہش کو بھی ردی کی ٹوکری کی نظر کر دیا۔ گو کہ یہاں یہ سوال تو بنتا ہے کہ اگر یہ ہی قرارداد پنجاب اسمبلی نے پاس کی ہوتی تو کیا اسکا اثر مختلف نہ ہوتا؟ چلیں چھوڑیں! گو کہ میری خواہش ہے کہ اگلا وزیراعظم بلوچستان کا ایک عام آدمی ہو لیکن بہت ساری خواہشات پوری ہونے کے لیے نہیں ہوتیں۔

چلیں جناب انتظامی امور کی ہی بات کر لیتے ہیں ۔  اس وقت جب راقم یہ تحریر لکھ رہا ہے اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے حلقہ بندیوں سے متعلق لگ بھگ ایک سو سے زائد درخواستیں موجود ہیں جن پر حلقہ این اے پندرہ اور این اے سولہ پر دیے گئے فیصلوں کی طرح دوبارہ حلقہ بندیوں کے احکامات کا فیصلہ متوقع ہے۔ اب یا تو ان حلقوں میں الیکشن سرے سے کروائے ہی نہیں جائیں گے اور حلقہ بندیوں پر وقت دیا جائے گا یا جہاں ہے اور جیسے ہے کی بنیاد پر الیکشن کروا دیے جائیں گے؟ اس صورت میں نتائج ہمیشہ جیسے ہی ہوں گے جن پر بہت سے سوالیہ نشان اٹھ رہے ہوں گے اور بہت سے لوگ یہ کہتے پائے جائیں گے کہ اسٹیبلشمنٹ نے سازش کر لی حالانکہ یہ باقاعدہ ایک انتظامی معاملہ ہے۔ یاد رہے کہ دو حلقے صوبہ خیبرپختونخواہ اور آٹھ حلقہ جات کوئٹہ کے ایسے ہیں جن پر حلقہ بندیاں دوبارہ کروانے کا فیصلہ ہائی کورٹ دے چکا ہے۔ گو کہ اس معاملہ پر بھی الیکشن کمیشن سپریم کورٹ سے رجوع کرے گا اور ہو سکتا ہے کہ سپریم کورٹ ہائی کورٹ کا فیصلہ کلعدم قرار دےدے لیکن پھر بھی سوالیہ نشان تو اپنی جگہ قائم ہے۔

دوہزارسترہ میں مردم شماری مکمل کر لی گئی لیکن مسلم لیگ ن کی حکومت نے ایک سوچے سمجھے منصوبہ اور سیاسی حکمت عملی کے تحت آزاد زرائع سے اسکا آڈٹ ہی نہیں کروایا جسکی وجہ سے ایک علاقہ بہت زیادہ آبادی کا حامل ہے جبکہ پنجاب اور بالخصوص لاہور جیسے شہروں کی آبادی پر کوئی فرق ہی نہیں پڑا۔ مردم شماری پر اٹھنے والے سوالات کے جوابات نہ دیے گئے تو تمام الیکشن پر ہی سوالیہ نشان تیار ہے۔

جبکہ دوسری جانب پلڈاٹ ۔ جو کہ ایک آزاد ادارہ ہے۔ نے اپنی حالیہ شائع کردہ رپورٹ میں الیکشن کمیشن کے اب تک کے تمام عمل کو غیر شفاف قراردے دیا ہے۔ خادم کی ایک امیدوار برائے ایم این اے سے گفتگو ہوئی تو معلوم ہوا کہ صاحب اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے دفتر میں اپنے اثر و رسوخ کے استعمال سے اپنے حمایتی علاقہ جات کو  اپنے حلقہ میں شامل کروانے اور اپنے غیر حمایت یافتہ علاقہ جات کو اپنے حلقہ سے نکلوانے میں کامیابی کے بعد واپس لوٹ رہے تھے۔ زرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسطرح کی انجینئرنگ پاکستان کے تقریبا تمام حلقہ جات کے ساتھ کی جا چکی ہے۔ اور ظاہر ہے کہ الزام تو اسٹیبلشمنٹ کے ہی سر آنا ہے جیسے رمضان المبارک میں شیاطین قید کر دیے جاتے ہیں لیکن پھر بھی ہر غلط کاری کا الزام تو شیطان کے ہی سر رہتا ہے۔

ووٹر لسٹوں کی بے ضابطگیاں اپنی جگہ موجود ہیں اور عوام کی عدم دلچسپی کے طفیل من پسند ووٹر اور ممبران آج بھی اپنی جگہ پر براجمان ہیں ۔ یاد رہے کہ سابقہ الیکشن میں بھی ووٹر لسٹوں کے متعلق شکایات کا ایک امبار تھا جو کہ تاحال درستگی کا متلاشی ہے۔ جعلی ووٹ اصل ووٹر کے حق رائے دہی پر ڈاکہ ہے جو نہ جانے کتنے عرصہ سے تواتر کے ساتھ مارا جاتا رہا ہے اور مستوبل قریب میں بھی اس کے تدارک پر کوئی خاطر خواہ منصوبہ بندی نظر نہیں آتی۔ امید ہے کہ چچا رحمت جن کی بیگم کو انتقال فرمائے پندرہ سال گزر چکے وہ اس سال بھی حسب سابق اپنا ووٹ چچا کے ووٹ کاسٹ کرنے سے پہلے پہلے ہی کاسٹ کرجائیں گی۔

الیکشن کے لیے کل پچاسی ہزار پولنگ اسٹیشن ہیں جن میں سے سیکریٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب کے مطابق بیس ہزار حساس قرار دیے جاچکے ہیں ۔ پورے پاکستان میں تین لاکھ پولیس اہلکار الیکشن ڈیوٹی پر تعینات کیے جائیں گے۔ ایک پولنگ اسٹیشن پر چار سے پانچ اہلکاروں کو تعینات کرنے کا پروگرام بنایا گیا ہے جو کہ ناکافی ہے۔ اس اثنائ میں پاکستان آرمی کی خدمات حاصل کرنے کا ارادہ رکھا جاتا ہے ۔ آرمی اپنا آئینی فرض ادا کرنے کو تیار ہے لیکن نتائج من پسند نہ آنے کے بعد کیچڑ کی بالٹی لے کر نکلنے والے اس سوال کا جواب پہلے ہی دے دیں کہ کون ہو گا جو انتخابات کے پرامن انعقاد کا ذمہ دار ہو گا۔ پاکستان آرمی پر ہمیشہ نتائج پر اثر انداز ہونے کا الزام تو لگایا جاتا رہا ہے لیکن یہ صرف الزام برائے الزام ہی رہا ہے اور کبھی کسی فورم پر ثبوت فراہم نہیں کیے گئے اور نہ ہی کسی بھی جانب سے ایسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ انتخابات کے لیے افواج پاکستان کو مدعو ہی نہ کیا جائے اور پولیس غیر سیاسی بنیادوں پر اپنا کام بطریق احسن سرانجام دے لیکن خاک اچھالنے والے کیا جانیں کہ خاک کی حفاظت کے لیے لہو کس کا بہا ہے۔

فاٹا کے خیبر پختونخواہ میں انضمام کے بعد قومی اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات ایک ہی وقت میں کروانا انتہائی اہم ہے تاکہ عوام میں عدم اعتماد پیدا نہ ہونے پائے۔ الیکشن کمیشن اس معاملہ میں ابھی بہت دور دکھائی دیتا ہے۔

گفتگو طول پکڑ گئی اور کرپشن، کرپٹ نمائندوں، سیاسی وابستگی تبدیل کرنے والوں ، اور ایک خاص طبقہ کو الیکشن میں کامیاب کروانے کے الزامات کو ایک طرف رکھتے ہوئے ایک آخری بات کر کے اجازت چاہوں گا کہ ایک نااہل شخص اور اسکا پورا خاندان ایک بیانیہ بناتا آیا ہے کہ "ووٹ کو عزت دو"۔ اور اس بیانیہ پر عمل کرنے کا یہ عالم ہے کہ بیگم صاحبہ نے سیٹ جیتنے کے باوجود حلف نہیں اٹھایا اور اسمبلی نے اپنی مددت پوری کر لی۔ اب جبکہ انکی جانب سے روز کسی نہ کسی انداز میں یہ کہا جا رہا ہے کہ الیکشن کو تعطل کا شکار انکی عوامی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے کرنے کا ارادہ بنایا جارہا ہے اور وہ اداروں کو حرف تنقید بنائے ہوے ہیں تو جناب کو کوئی بتائے کہ آپ جس کھیل کو کھیل رہے ہیں اس کا حصہ نہ تو ادارے بننا چاہتے ہیں اور نہ ہی دیگر شخصیات ۔ اگر آپ ہار گئے تو آپ کہیں گے کہ دھاندلی ہو گئی اور آپ اگر خدانخواستہ جیت گئے تو کہیں گے کہ دیکھا میں مقبول ہی بہت تھا عوام میں ۔ جبکہ دوسری جانب الیکشن کا تعطل سب سے زیادہ آپ کو ہی نقصان پہنچائے گا کیونکہ آپ اور آپکے رفقائ کار جیل جانے والے ہیں ملکی دولت لوٹنے کی پاداش میں اور آپ اسے ایک سیاسی کارڈ کے طور پر کھیلنا چاہتے ہیں ۔

الیکشن آئے اور گئے لیکن نہ بدلے تو عام آدمی کے حالات نہ بدلے۔ ختم نبوت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر حملے کرنے والے اور لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کے دعوے کرنے والے بھی کمال ڈھیٹائی کے ساتھ اس الیکشن میں نہ صرف امیدوار ہیں بلکہ خود کو مسیحا گردان رہے ہیں۔ میری رائے میں یہ ہومیوپیتھک الیکشن ہو جانے چاہیں تاکہ عام آدمی کے سر سے ایک عذاب مزید کم ہو جائے اور وہ آنے والے عذابوں کے لیے تیار ہو جائے ۔ کیونکہ جن نمائندوں نے کروڑوں روپیہ پانی کی طرح بہا کر جیتنے کے بعد اسمبلیوں میں پہنچنا ہے انہوں نے کرپشن کا بازار تو گرم کرنا ہی ہے بلکہ ساتھ ہی ساتھ یہ اعلان عام بھی کرنا ہے کہ "چلو دوبارہ سے شروع کرتے ہیں" کیونکہ حالات راتوں رات تو بدلتے ہوئے نظر نہیں آتے۔

تحریرو تحقیق : مسعودچوہدری

سب سے زیادہ دیکھی گئی مقالات خبریں
اہم ترین مقالات خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری