اٹھو کہ دشمن بہت قریب پہنچ چکا ہے

امریکہ اور اسرائیل پورے جہانِ اسلام کے دشمن ہیں ۔ البتہ پاکستان کا امریکہ و اسرائیل کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے ساتھ بھی ٹکراو ہے، یعنی پاکستان کو بھارت جیسے ایک اضافی دشمن کا بھی سامنا ہے۔

اٹھو کہ دشمن بہت قریب پہنچ چکا ہے

خبر رساں ادارہ تسنیم: عقلمند آدمی کبھی دشمن سے غافل نہیں رہتا، کوئی مانے یا نہ مانے جہان اسلام اس وقت دشمنوں میں گھرا ہوا ہے، امریکہ اور اسرائیل پورے جہانِ اسلام کے دشمن ہیں ۔ البتہ پاکستان کا امریکہ و اسرائیل کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے ساتھ بھی ٹکراو ہے، یعنی پاکستان کو بھارت جیسے ایک اضافی دشمن کا بھی سامنا ہے۔ اس وقت مصر ، شام ، اردن، عراق، ایران ، ترکی اور پاکستان کی افواج ، ان دشمنوں کا مشترکہ ہدف ہیں. اب مصر اور اردن کی فوجیں امریکا کی غلامی میں جا چکی ہیں. ترکی کی فوج کی گردن بھی امریکا نے معاہدے کے تحت سول ڈکٹیٹر شپ کے ہاتھ میں دے دی ہے اور عراق کی فوج کو امریکا تحلیل کر چکا ہے.

اب اس وقت پاکستان کو اکیلے تین مکار دشمنوں کا مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے۔ مسٹر ٹرامپ کھل کر انڈیا اور اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے. اور پھر پاکستان کو دھمکیاں بھی دے رھا ہے. اورپاکستان کے اندر اپنے مہروں کو بھی پاک فوج کے خلاف استعمال کر رہا ھے. ہمیں بحیثیت قوم اس حقیقت کو سمجھنا چاہیے کہ اگر ماضی میں ہماری آرمی سے کچھ غلطیاں ہوئی بھی ہیں یا اس وقت بھی کچھ لوگ فوج سے ناراض ہیں تو یہ وقت ہمارا پاک فوج کے ساتھ درگیر ہونے اور انتقام لینے کا نہیں ہے۔ ہمیں وقت کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے ملکی سلامتی اور وطن کے دفاع کے لئے اپنی آرمی کے ساتھ مکمل تعاون کرنا چاہیے۔

2013 سے اب تک میں متعدد کالمز میں اس خطرے کی طرف متوجہ کرتا رہا ہوں کہ جہان اسلام کی مسلح افواج دشمن کے نشانے پر ہیں. تقریبا 100 سال پہلے سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد جہان اسلام کی سابقہ سرحدیں اور ممالک کی تقسیم برطانیہ نے کی تھی کیونکہ اس زمانے میں وہ سپر پاور تھا. پھر جب امریکہ سپر پاور بنا تو اس نے نئے مشرق وسطیٰ کا پلان بنایا.

جب 9/11 کے بعد امریکہ اس خطے میں وارد ہوا تو اس کا ہدف جہان اسلام کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا تھا. اور نئے شرق الاوسط کےنقشے کے مطابق نئی سرحدوں کو خونی سرحدوں کا نام دیا گیا اور کہا گیا کہ ہمارے پاس وقت نہیں کہ ہم مختلف ممالک اور اقوام کو پہلے قائل کریں کہ ہم قومی ، لسانی ، نسلی اور دینی ومذھبی بنیاد پر خطے کے ممالک کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں اور واضح جارحانہ انداز اپنایا کہ ہم نے یہ فیصلہ کر لیا ہے اور اس کی راہ میں ہمیں جتنی تعداد میں لوگوں کو قتل کرنا پڑا کریں گےحتی کہ نیا شرق الاوسط جنم لے سکے.

اس مرحلے کے لئے جہان اسلام میں مذھبی فتنوں کو ہوا دینے کی ذمہ داری وہابیت کی تھی ، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے بقول ہم نے امریکہ کے کہنے پر وھابیت کی ترویج کی اور اس کی نرسریاں سعودی فنڈو مدارس کے ذریعے پورے جہان اسلام میں لگائی گئیں اور 20 سال کی مسلسل محنت کے بعد کھیپ بھی تیار ہو گئی اور انہیں چند سال افغانستان میں اقتدار کا چسکا بھی چکھا دیا گیا ۔ یوں اس امریکی فنڈڈ اور وہابی طبقے کی افغانستان میں مختصر عرصے کے لئے حکومت قائم کرواکے انہیں علاقے ویران کرنے اور عزتیں لوٹنے کی پریکٹس بھی کروا دی گئی. جہاد افغانستان کے عنوان پر پورے جہان اسلام سے مجاھدین کو اکٹھا کیا گیا اور آئندہ کے لئے پورے جہان اسلام میں مذھبی جنگ کو لیڈ کرنے والی لیڈرشپ بھی افغان کیمپوں میں تیار کی گئی۔

1- 9/11 کا ڈرامہ کیا گیا پھر اسکی بنیاد پر 2001 کو اس تکفیری جہادی تیار شدہ کھیپ کو پورے جہان اسلام میں منتشر کرنے کے لئے ان کے بیس کیمپ پر حملہ کر کے تباہ کر دیا گیا اور انکی منہ بولی خلافت کا خاتمہ کر دیا گیا.

اگلے راونڈ کے لئے عراق میں اوپنر کے طور پر ابو مصعب الزرقاوی اترا. وہ افغان جہاد کا تربیت یافتہ تھا. لیبیا میں عبدالحکیم بلحاج کو بھیجا گیا جس نے کرنل قذافی کے خلاف اٹھنے والی شورش کی قیادت کی. وہ بھی افغان جہاد کا تربیت یافتہ تھا. سوریہ میں کمانڈنگ رول عدنان عرعور کو دیا گیا وہ بھی جہاد افغان کا تربیت یافتہ تھا. اسی طرح مصر کے ابوحمزہ مھاجر ، ایمن الظواہری اور باقی بہت سے نام جن میں ابوبکر بغدادی ، ابو محمد جولانی ، ابو محمد عدنانی ، ابو علی انباری اور عدنان علوش وغیرہ وغیرہ جہادی گروہوں کے امیر بن کر ابھرے اور انٹرنیشنل میڈیا کی زینت بنے۔

2003 کو عراق پر حملہ کیا گیا باقی سارے جرائم اپنی جگہ لیکن عراق کے خلاف سب سے زیادہ بھیانک اقدام یہ کیا گیا کہ امریکی وائسرائے بول بریمر نے عراق کی فوج جو کہ عرب دنیا کی مضبوط اور تجربہ کار فوج تھی اسے تحلیل کر دیا. اور پھر دکھاوے کے لئے ایک کاغذی فوج بنائی کہ جس کی حقیقت اس وقت عیاں ہوئی جب چند سو داعشیوں نے موصل پر حملہ کیا تو ھزاروں کی تعداد میں فوجی پسپا ہو گئے. فوجی چھاؤنیوں میں گھس کر داعشیوں نے ان ھزاروں فوجی جوانوں کے گلے کاٹے جو ہتھیار ڈال چکے تھے. امریکہ کی تیار کردہ فوج پر اگر عراقی قوم اعتماد کرتی تو آج نجف اشرف اور کربلا معلی اور دیگر عراق کے تمام مقدس مقامات کو تباہ کیا جا چکا ہوتا. عوامی رضا کار فورس حشد الشعبی کہ جو تمام ادیان ومذاھب کے لوگوں سے مرجعیت کے فتوے کے مطابق تشکیل پائی اور انکی تربیت ایرانی سپاہ اور حزب اللہ لبنان کی لیڈرشپ نے کی ہے انھوں نے عراق کو داعش کے شر سے پاک کیا اور مقدسات اسلام کی حفاظت کی ۔

2003 کو ہی امریکی وزیر خارجہ کولن پاؤل نے شام کے صدر سے ملاقات کی اور کہا کہ اب ہم عراق پر قابض ہو چکے ہیں. آپ فیصلہ کریں کہ آپ نے ہمارا ساتھ دینا ہے یا فلسطینی ولبنانی مقاومت اور ایران کا ساتھ دینا ہے. شام کے صدر نے دو ٹوک الفاظ میں امریکہ سے تعاون کا انکار کیا. اس کے بعد امریکہ نے ان سے انتقام کی ٹھان لی.

2005 میں شام کو لبنان سے نکالنے اور لبنانی وفلسطینی مقاومت کو تنہا کرنے کے لئے اسرائیل کے ذریعے لبنان کے وزیراعظم رفیق الحریری کو قتل کروایا اور اس کا الزام شام اور حزب اللہ پر عائد کیا. شام کی فوج اب چونکہ امریکہ کا ہدف تھی تو لبنان میں شام آرمی کے خلاف وہ ماحول بنایا گیا کہ اقوام متحدہ کے فیصلے کے مطابق لبنقن میں قیام امن کے لئے تعینات شام کی فوج لبنان سے نکلنے پر مجبور ہوگئی.

2006 میں امریکی سازش کے تحت کہ جس میں خلیجی بادشاہ بھی شامل تھے اسرائیل نے اچانک لبنان پر حملہ کردیا. انکا ھدف حزب اللہ کا مکمل طور پر خاتمہ اور نئے مشرق وسطیٰ کے منصوبے کو عملی شکل دینا تھا. حزب اللہ نے اس جنگ میں اسرائیل کی عسکری برتری اور طاقت کے غرور کو خاک میں ملایا. امریکی نئے شرق الاوسط کے منصوبے پر یہ سب سے پہلی کاری ضرب تھی.

دوسری کاری ضرب عراقی رضا کار فورس حشد الشعبی نے لگائی جب داعش کی حکومت کا خاتمہ کیا. اور موصل سمیت عراق کو مکمل طور پر آزاد کروایا. بلکہ فتنہ کردستان اور تقسیم عراق کو دفن کردیا.

تیسری کاری ضرب پہلے القصیر اور پھر حلب کی فتح تھی کہ جس پر امریکا اور امریکا واسرائیل نواز قوتوں کی امیدوں پر پانی پھرا. اور شام کی جنگ کا نقشہ بدلا. اب داعش کی پسپائی اور مقاومت فورسسز کے غلبے کا دور شروع ہوا. امریکہ جس جنگ کو لبنان وشام وعراق سے شروع کر کے فتوحات کے ذریعے ایران ودیگر ہمسایہ ممالک سے گزرتے ہوئے پاکستان تک پہنچا ناچاہتا تھا اور پاکستان کے بلوچستان اور پختونخواہ علاقوں کو پاکستان سے جدا کرنا چاھتا تھا. اس نے عراق وشام کی شکست کے بعد داعش اور تکفیری دھشتگردوں کو وہاں سے افغانستان منتقل کرنے کا منصوبہ بنالیا ہے اور سعودیہ نے اس کے نقل و انتقال اور تسهیلات کے اخراجات ادا کر دئیے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کا اگلا ہدف پاکستان کی آرمی کیوں ہے!؟

چونکہ تقسیم پاکستان کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان کی فوج ہے ۔ لہذا دشمن بری طرح اس مقدس فوج کے درپے ہے۔

دشمن اچھی طرح جانتا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں تک رسائی پاک فوج کی موجودگی میں ممکن نہیں جبکہ اسرائیل ، انڈیا اور امریکا کو پاکستان کا ایٹمی طاقت ہونا ہرگز قبول نہیں.

پاکستان آرمی پاکستان میں وحدت کی سب سے بڑی علامت ہے اور اس میں شیعہ سنی یا پنجابی اور پٹھان کی بھی کوئی تفریق نہیں لہذا دشمن جانتا ہے کہ جب تک پاکستان آرمی موجود ہے اس کی چالیں کامیاب نہیں ہو سکتیں۔ پاک فوج کی موجودگی میں پاکستان میں کسی بھی قسم کی خانہ جنگی وہ خواہ شیعہ و سنی کی ہو یا مقامی و مہاجر یا سندھی و پنجابی کی ممکن نہیں۔ پاک فوج ان تمام سازشوں اور چالوں کے مقابلے میں ایک مضبوط ڈھال ہے۔

اسی طرح پاکستان آرمی اپنے ہمسایہ ممالک خصوصا چین اور ایران کے خلاف بھی اپنی سر زمین کو استعمال نہیں ہونے دیتی جس کا دشمن طاقتوں کوشدید رنج ہے۔ چینی و پاکستانی اقتصادی تعاون اور سی پیک منصوبہ پاک فوج کے ہوتے ہوئے سبوتاژ نہیں ہو سکتا چونکہ اسکی گارنٹی بھی فوج نے دی ہے.

دشمن جانتا ہے کہ اسی فوج کی وجہ سے 17 سال سے ناٹو فورسز افغانستان میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر سکیں۔ پاکستانی فوج امریکہ اور سعودیہ کی مرضی کے مطابق یمن کی جنگ میں کھل کر شریک بھی نہیں ہوئی. سعودی اور اماراتی شہزادے بھی پاکستان کے اس موقف پر انتقام کی دھمکیاں دے چکے ہیں.

پاکستانی فوج انڈیا کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح چبھتی ہے. انڈیا کیونکہ کھل کر امریکہ اسرائیل اور سعودیہ وامارات کا قریبی دوست اور مشترکہ منصوبوں میں شریک ہے. تو وہ پاکستان کے خلاف اور پاک فوج کے خلاف ماحول سازی اور سازشوں میں ہمہ وقت مصروف رھتا ہے اور نقصان دینے میں ہر فرصت سے استفادہ کرتا ہے.

بے شک ہم محسوس کر رہے ہیں کہ دشمن تیزی سے ہمارے قریب آ رہا ہے تاہم دشمن کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ملت پاکستان ،افواجِ ِپاکستان کے ساتھ کندھا ملا کر کھڑی ہے اور ملت پاکستان کی طرف سے کسی بھی سازش کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

ڈاکٹر سید شفقت شیرازی

سب سے زیادہ دیکھی گئی مقالات خبریں
اہم ترین مقالات خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری