تخلیقی افراتفری کی ہوا کا رخ بحرین کی جانب

"تخلیقی افراتفری" یعنی Creative Chaos ایک سیاسی اصطلاح ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ چند مخصوص افراد یا گروہ کسی ملک میں اپنے خاص مقاصد کے حصول کے لئے خود کو پوشیدہ رکھتے ہوئے افراتفری یا بحران پیدا کریں تاکہ اس بحران کے بعد تمام تر صورتحال کو اپنے حق میں کیا جاسکے۔

تخلیقی افراتفری کی ہوا کا رخ بحرین کی جانب

خبر رساں ادارہ تسنیم: اس وقت اس افراتفری کا رخ بحرین کی جانب بڑھنے جارہا ہے جس کا مقصد اس چھوٹے سے خلیجی ملک میں اقتدار کی تبدیلی ہے۔

سن 1971سے وزیراعظم کی کرسی پر براجمان شیخ خلیفہ بن سلمان آل خلیفہ کو بحرین کی مضبوط ترین شخصیت سمجھا جاتا ہے کہ جہاں اب ملک کے تمام امور پر صرف انہی کا ہی کنٹرول ہے اور ہر فیصلہ اس کی مرضی کے مطابق ہوتا ہے۔

میڈل ایسٹ آئی اور الجزیرہ عربی کے مطابق ابوظبی کے ولی عہد بن زائد اور سعودی ولی عہد بن سلمان اب بحرین میں تبدیلی چاہتے ہیں ،انکا خیال ہے کہ اب خلیفہ کی جگہ بادشاہ حمد بن عیسی کو لینی چاہیے۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بن زائد بحرین میں مزید اثر ورسوخ کی خاطر اس تبدیلی کو ناگزیر سمجھتا ہے۔ 

واضح رہے کہ حمد بن عیسی مسند شاہی پر ہونے کے باوجود عملی طور پر بحرین میں ا سطرح کا کنٹرول نہیں رکھتا جیسا وزیراعظم شیخ خلیفہ بن سلمان رکھتا ہے۔

واضح رہے کہ بادشاہ حمد بن عیسی اور بن زائد کی دوستی کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں۔

الجزیرہ چینل نے برطانیہ کے ڈیپلومیسی کے کوریڈورز میں اپنے ذرائع سے خبر دی ہے کہ بن سلمان اور بن زائد اس وقت بحرین کے بادشاہ حمد بن عیسی کے ساتھ کھڑے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ وزیراعظم شیخ خلیفہ سے ہر قسم کے اختیارات کو ختم کردیے جائیں۔

ذرائع کے مطابق سعودی حالیہ بادشاہ سلمان بھی سابق بادشاہ عبداللہ کی طرح  شیخ خلیفہ کو ہٹانے کے حق میں نہیں ہیں جبکہ کویت کے شیخ صباح بھی اس کے مخالف ہیں ،انکا خیال ہے کہ شیخ خلیفہ اس عہدے پر ایک مناسب فرد ہیں۔

دوسری جانب عرب میڈیا مسلسل اس بات کو نشر کرتا رہا ہے کہ سعودی ولی عہد بن سلمان بحرین کے وزیراعظم کے ساتھ کچھ اچھے تعلقات نہیں رکھتے اور نہ ہی وہ اس موضوع کو لیکر کسی قسم کی کوئی ذاتی دلچسپی رکھتے ہیں ان کی دلچسپی کی اصل وجہ بن زائد کی جانب سے کی جانے والی ڈیمانڈ ہے اور وہ صرف بن زائد کی وجہ سے ہی بحرینی وزیراعظم کو ہٹتا دیکھنا چاہتے ہیں۔

جبکہ بن زائد کا خیال ہے کہ بحرین میں اب پرانے چہروں کو چلتا کرنا چاہیے اور نئے افرادکو سامنے آنا چاہیے۔

اسی دوران القدس العربی نیوز کے مطابق بحرین میں کی جانے والی ممکنہ تبدیلیوں میں ولی عہدی کے عہدے کے لئے مناسب ترین ناصربن حمد یعنی شیخ حمد کا چوتھابیٹا لگتا ہے۔

القدس العربی کا کہنا ہے کہ یہ بات تو طے ہے کہ بحرین میں جلد ہی بہت سی تبدیلیاں رونما ہونے جارہی ہیں۔

سن 2011میں ملک میں جمہوریت اور بنیادی حقوق کے لئے شروع ہونے والی عوامی زبردست قسم کی تحریکوں کو جس انداز سے وزیراعظم شیخ خلیفہ نے کنٹرول کیا ہے اس نے نہ صرف بحرین کے بادشاہ حمد کو بلکہ خلیجی دوسرے بادشاہوں کو بھی سخت حیرت زدہ کردیا ہے۔

طویل تجربے اور گہرے اثر و رسوخ کے حامل شیخ خلیفہ کے خلاف ملک کے اندر اور ملک سے باہر زہینت اسی وقت سے بنتی دیکھائی دیتی ہے۔

یہ بات بھی واضح ہے کہ بحرینی عوامی تحریک کے خلاف بدترین تشدد اور طاقت کا استعمال کرنے میں سعودی عرب سمیت تمام خلیجی ممالک کا تعاون حاصل تھا جس کی بنیادی وجہ عرب دنیا میں اٹھتی عوامی لہر تھی جو ان ممالک میں جمہوریت اور آزادیوں کا مطالبہ کررہی تھی۔

اس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ شیخ خلیفہ ملک میںطاقت کے بے دریغ استعمال اور عوام پر جاری سختیوں کے سبب ایک ناپسندیدہ شخصیت بن چکے ہیں۔

واضح رہے کہ بحرین میں جاری عوامی احتجاج کی لہر میں پہلی جیسی شدت نہیں رہی لیکن اب بھی بنیادی حقوق اور آزادیوں کے لئے یہ تحریک جاری ہے۔

جس وقت لولواسکوائر پر آبادی کا نصف سے بھی زیادہ حصہ دھرنا لگائے بیٹھا تھا تو اس وقت صورتحال اس قدر خراب ہوچکی تھی کہ ملک کا بادشاہ حمد بن عیسی فرار اختیار کرنا چاہتاتھا۔

کہا جاتا ہے کہ اسے خاندان سمیت ملک کے بین الاقوامی ائرپورٹ سے اس امید کے ساتھ واپس بلایا گیا کہ اس کی بادشاہت کو بچانے سعودی افواج ملک میں داخل ہورہی ہیں۔

بحرینی وزیر اعظم ملک میںاب تک اقلیت کو اکثریت کیخلاف استعمال کرتا آیا ہے اور اس نے اپنی عوام کو دبانے کے لئے کرایے کی فورسز استعمال کی ہے یہاں تک کہ وہ پاکستان ،بنگلہ دیش ،مصر وغیرہ سے افراد کو بھرتی کرنے اور انہیں بحرینی شہریت دیتے رہے ہیں تاکہ عوامی احتجاج کو روکا جاسکے۔

لیکن اس وقت اگر اسے اپنے اقتدار کو بچانا ہے توعوامی طاقت کا ہی سہار لینا پڑے گا جسے وہ پہلے ہی کھو چکاہے۔

خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ وزیراعظم شیخ آل خلیفہ کو ہٹانے کے بعد بحرین میں موجود مضبوط کنٹرو ل کا بھی خاتمہ ہوسکتا ہے اور شائد یہی چیز اس ملک میں جاری عوامی تحریکوں کو پھر سے اٹھنے کا موقع فراہم کرے۔

اہم ترین سوال یہ ہے کہ تو کیا بحرین میں آنے والے دنوں میں ہم مخصوص گروہ کو افراتفری پھیلاتے دیکھ سکتے ہیں یا پھریہاں بھی سعودی عرب کی طرح اندرون خانہ ہی تبدیلی رونما کی جائے گی ؟

اور کیا اس تبدیلی کے بعد بحرین کی سیاسی و سماجی صورتحال اسی طرح برقرار رہے گی یا پھر بے چینی کا رخ اختیار کرے گی ۔۔۔؟

سب سے زیادہ دیکھی گئی مقالات خبریں
اہم ترین مقالات خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری