پاکستان: عالمی برادری بھارتی مظالم پر یو این او رپورٹ کو سنجیدگی سے لے

آزاد جموں و کشمیر کے صدر کا عالمی برادری سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر اقوام متحدہ کی رپورٹ کو سنجیدگی سے لینے پر تاکید کیساتھ ساتھ کہنا تھا کہ بھارتی حکام صحافی شجاع بخاری کے قتل کی ایک جامع اور معتبر تحقیقات کروائے، اور صحافی کے قاتلوں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔

پاکستان: عالمی برادری بھارتی مظالم پر یو این او رپورٹ کو سنجیدگی سے لے

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق آزاد جموں و کشمیر کے صدر مسعود خان نے بھارتِ کے زیرِ انتظام کشمیر میں ریاستی مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کا خیر مقدم کرتے ہوئے عالمی برادری بالخصوص اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے مطالبہ کیا ہے کہ اس رپورٹ کو سنجیدگی کے ساتھ دیکھا جائے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق صدر مسعود خان کا کہنا تھا کہ اس رپورٹ پر غیر تقسیم شدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ جنگ زدہ کشمیر سے انسانی حقوق کا بحران روکا جاسکے۔

انہوں نے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق (ایچ سی ایچ آر) کی پیشکش کا بھی خیر مقدم کیا، جس میں انہوں نے بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی آزادانہ تحقیقات کروانے کی تجویز پیش کی تھی۔

برہان وانی کے قتل کے بعد سے اب تک وادی میں قتل، اقدامِ قتل، حراست، جبری گمشدگی اور جنسی ہراساں کرنے کے واقعات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی یہ فہرست جامع نہیں ہے، یہ تو سمندر میں بہتی چٹان کی صرف چوٹی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت نے اس سے قبل انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا جائزہ لینے کے لیے حقائق کی تلاش کرنے والے ایچ سی ایچ آر کے وفد کو مقبوضہ وادی میں جانے سے روک دیا تھا۔

صحافی شجاع بخاری کے قتل کی تحقیقات کا مطالبہ

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں ذرائع ابلاغ کے نگراں ادارے نے بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں صحافی شجاع بخاری کے قتل کی تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔

صحافیوں کی حفاظت کے لیے بنائی گئی کمیٹی (سی پی جے) کا کہنا ہے کہ بھارتی حکام صحافی شجاع بخاری کے قتل کی ایک جامع اور معتبر تحقیقات کروائے، اور صحافی کے قاتلوں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔

تاہم ذرائع ابلاغ کے نگراں ادارے نے حکومتی تحقیقات پر اعتراض بھی اٹھاتے ہوئے کہا کہ وادی میں متعدد صحافیوں اور سیاسی شخصیات کی غیر حل شدہ تحقیقات سے اس بات کے خدشات ہیں کہ شجاع بخاری کے قتل کی تحقیقات بروقت وار موثر انداز میں نہیں ہو سکتی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جب تک شجاع بخاری کے قتل کی تحقیقات نہیں ہوجاتیں تب تک وادی میں اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں نبھانے والے صحافیوں کو کام کرنے میں خوف طاری رہے گا۔

خیال رہے کہ روزنامہ رائزنگ کشمیر کے ایڈیٹر شجاع بخاری کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے جاں بحق کردیا تھا، جس میں ان کے محافظ بھی جاں بحق ہوگئے تھے۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی اسلامی بیداری خبریں
اہم ترین اسلامی بیداری خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری