رپورٹ | بات در اصل یہ ہے کہ وہ انصار اللہ ہیں !!!

یمن میں ایک جانب جہاں اقوام متحدہ کا مندوب مارٹن گیفتھ امن کے نام پر مشکوک کوششوں میں مصروف دکھائی دیتا ہے تو دوسری جانب ان کوششوں کے ساتھ ہی سعودی اماراتی امریکی فرانسیسی برطانوی افواج نے دیگر ایک درجن کے قریب ملکوں کی کرایے کی افواج کے ساتھ ساحل شہر پر حملہ شروع کردیا ہے۔

رپورٹ | بات در اصل یہ ہے کہ وہ انصار اللہ ہیں !!!

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق زمینی حملے سے پہلے ایک اندازے کے مطابق پانچ سو سے زائد فضائی حملوں سے اس شہر کے لوگوں کو نشانہ بنایا گیا لیکن حملہ آوروں کو اس وقت سخت حیرت کا سامنا کرنا پڑا کہ جس وقت ان کی پیادہ فوج کے کئی دستے اچانک اس نرغے میں پھنس گئے جسے یمن کی افواج اور عوامی رضاکاروں نے جال کے طور پر بنایا تھا۔

حملہ آور افواج کی جانب سے اعلان کردیا گیا کہ وہ الحدیدہ کی جنوبی ساحلی پٹی پر قبضہ کرچکے ہیں جبکہ ان کی پیشقدمی الحدیدہ کے ائرپورٹ کے قریب تک ہوچکی ہے۔

شائد یہی وجہ تھی کہ ان کے میڈیا نے نفسیاتی جنگ کے حربے کے طور پر ائرپورٹ پر قبضے کی خبریں مسلسل نشر کرنا شروع کردیا اور کئی سال پرانی کچھ فوٹیج بھی دیکھا دیں۔

لیکن دوسری جانب انصار اللہ کے میڈیا نے ائرپورٹ کی تاز وڈیو فوٹیج جاری کرکے اس جھوٹ کا بھانڈا پھوڑ دیا۔

آزاد اور غیر جانب دار میڈیا کے مطابق الحدیدہ میں جس انداز سے حملہ آور افواج کے مقابلہ کیا گیا وہ غیر متوقع تھا جبکہ یمن کی فوج اور انصار اللہ نے اہم ساحلی مرکزی راستے کو التحیتا نامی علاقے میںشہر کے جنوب کی سمت ایک سو کلومیٹر تک اپنے کنٹرول میں کرنے کے بعد یہاں ہر قسم کی مومنٹ کا راستہ روکنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

اور کہا جاتا ہے کہ اس راستے پر کنٹرول کے بعد سعودی اماراتی افواج کے درمیان شمالی اور جنوبی حصے کا رابطہ کٹ چکا ہے۔

شائد یہی وجہ ہوسکتی ہے کہ بڑی تعداد میں حملہ آور فوجی مارے گئے ہیں جبکہ سو سے زائد گرفتار کئے جاچکے ہیں۔

اس وقت اس شہر کے مغربی حصے میں گھمسان کی جنگ کی اطلاعات موضول ہورہی ہیں جہاں سینکڑوں کی تعداد میں حملہ آور ٹینکوں اور بکتر گاڑیوں اور فضائی حملوںسے پیشقدمی کی کوشش کررہے ہیں تو دوسری جانب یہاں موجود یمنی فورسز اور انصار اللہ کی جانب سے زبردست قسم کی مزاحمت کا انہیں سامنا ہے۔

انصار اللہ کا کہنا ہے کہ ان کی کوشش ہے کہ معرکہ مغربی حصے میں شہری آبادی سے دور ہی رہے تاکہ سویلین کو متاثر ہونے سے بچایا جاسکے۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی اسلامی بیداری خبریں
اہم ترین اسلامی بیداری خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری