خصوصی ویڈیو رپورٹ | مقدس سرزمین پر ابلیسیت کا راج اور سادہ لوح مسلمانوں کی اندھی تقلید

ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی خواتین کا سعودی عرب میں مردوں کے ساتھ رقص مقدس سرزمین پر ابلیسیت پھیلانے کا پیش خیمہ ہے جب مکہ مکرمہ میں مغربی ممالک کی مانند خواتین مردوں کیساتھ سڑکوں پر رقص کریں گی تو کیا سادہ لوح مسلمان پھر بھی نام نہاد خادمین شریفین کی اندھی تقلید کریں گے جبکہ ایسا ہوگا نہیں بلکہ ہوچکا ہے۔

خصوصی ویڈیو رپورٹ | مقدس سرزمین پر ابلیسیت کا راج اور سادہ لوح مسلمانوں کی اندھی تقلید

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، ویسے تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی گزشتہ برس مئی میں اپنے پہلے غیر ملکی دورے کے آغاز پر سرزمین مقدس کا انتخاب کرتے ہوئے وہاں رقص کیا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مئی 2017 میں اپنے پہلے سعودی عرب کے دورے کے دوران مربع پیلس میں سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے ساتھ وہاں کے روایتی رقص میں حصہ لیا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی تلوار ہاتھ میں پکڑ کر سعودی عرب کے قومی رقص "العرضہ" پر پرفارمنس کرنے کی کوشش کی تھی، جس کی ویڈیوز وائرل ہوگئی تھیں۔

ماہرین کی نظر میں یہ رقص سرزمین مقدس پر مغربی ممالک کیلئے ایک ایسی فرصت تھی کہ جس کے بعد اب ان ممالک سے آئے ہوئے خواتین کیلئے راہ ہموار ہوگئی یا یوں کہئے کہ یہ رقص سعودی شہزادے کی جانب سے اپنے ملک میں سیکولرزم پر مبنی پالیسیوں کو رائج کرنے کا پیش خیمہ تھا۔ ایسی حالت میں اب سعودی عرب کے اسی قومی رقص العرضہ پر امریکی سیاح خواتین نے سعودی عرب کے مردوں کے ساتھ رقص کرکے شہرت حاصل کی اور ساتھ ہی بن سلمان کے ایجنڈے کی تکمیل بھی ہوئی۔

سعودی امریکی تعلقات کے حوالے سے کام کرنے والی تنظیم سعودی امریکن پبلک ریلیشن افیئرز کمیٹی (ساپراک) کی جانب سے ٹوئیٹ کی گئی ایک مختصر ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے، جس میں امریکی سیاح خواتین کو مردوں کے ساتھ رقص کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

ساپراک کی جانب سے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے بتایا گیا کہ "امریکی سیاح سعودی عرب کے قومی رقص العرضہ پر پرفارمنس کے دوران محظوظ ہوتے ہوئے"۔

خیال رہے کہ ’العرضہ‘ کو سعودی عرب کے قومی رقص کے طور پر پہچانا جاتا ہے، اس رقص میں مرد قطار میں کھڑے ہوکر ہاتھوں میں تلوار تھام کر رقص کرتے ہیں۔

رقص میں حصہ لینے والے مرد 2 مختلف سمت کی قطاروں میں کھڑے ہوتے ہیں اور جوڑوں کی صورت میں اشعار گاتے وقت سازوں کی دھن پر ایک دوسرے سے تلواریں بھی ٹکرانے کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

اس رقص میں نہ صرف عام سعودی مرد بلکہ خود سعودی شاہ فرماں روا اور ولی عہد بھی جھومتے نظر آتے ہیں۔

عام طور پر اس خیال کو صرف مردوں کا رقص ہی سمجھا جاتا ہے، تاہم اس میں پہلی بار امریکی سیاح خواتین بھی شامل ہوئی ہیں، جس کے بعد خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ آنے والے وقت میں اس رقص میں خود سعودی خواتین بھی شامل ہوں گی کیونکہ بن سلمان کی جانب سے مقدس سرزمین پر ابلیسیت کے راج کا سودا کیا جاچکا ہے۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی اسلامی بیداری خبریں
اہم ترین اسلامی بیداری خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری