رپورٹ | ملی مسلم لیگ پر پابندی جبکہ پاکستان راہ حق پارٹی کو کھلی چھوٹ، آخر کیوں ؟

ملی مسلم لیگ کو الیکشن کمیشن نے یہ کہہ کر سیاسی جماعت کے طور پہ درج کرنے سے انکار کیا کہ اس کے سربراہ کے جماعت الدعوہ سے مبینہ تعلقات ہیں اور یہ جماعت الدعوہ کا ہی دوسرا نام ہے جبکہ پاکستان راہ حق پارٹی کے سائے تلے الیکشن لڑنے والوں کے دامن پہ 22 ہزار شیعہ اور 45 ہزار سے زائد صوفی سنّی، کرسچن، احمدی و دیگر کے خون کے دھبے ہیں۔

رپورٹ | ملی مسلم لیگ پر پابندی جبکہ پاکستان راہ حق پارٹی کو کھلی چھوٹ، آخر کیوں ؟

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ملی مسلم لیگ نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔ اس نے فیصلہ دوبارہ الیکشن کمیشن کے پاس بھیجا۔ الیکشن کمیشن کے چار رکنی بنچ نے ملی مسلم لیگ کی درخواست کی سماعت کی اور درخواست مسترد کردی۔

انگریزی روزنامہ ڈان کی آفیشل ویب سائٹ پہ مسترد کیے جانے کی خبر کی تفصیل میں رپورٹ فائل کرنے والے نے ای سی پی کے چار رکنی بنچ کا مختصر حکمنامہ یوں درج کیا:

In its short order, the bench stated that the decision had been taken in light of observations of the Ministry of Interior which had expressed its reservations because of the party’s alleged links with the banned Jamaatud Dawa’s (JuD) leader Hafiz Saeed.

لیکن کالعدم تنظیم اہلسنت والجماعت جس کے دامن پہ 22 ہزار شیعہ اور 45 ہزار سے زائد صوفی سنّی، کرسچن، احمدی ودیگر کے خون کے دھبے ہیں اور جو اعلانیہ تکفیری اور فرقہ وارانہ تشدد میں ملوث جماعت ہے کو راہ حق پارٹی کے نام سے اپنے ہاں رجسٹر کرلیا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ الیکشن کمیشن پاکستان کے پاس جب راہ حق پارٹی کے سربراہ ابراہیم قاسمی جب اپنی پارٹی اندراج کروانے کے لیے پہنچے تھے تو کیا ای سی پی نے وزرات داخلہ سے اس پارٹی کے بارے میں انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پہ رپورٹ مانگی تھی؟ کیا اس رپورٹ میں اس پارٹی بارے اس کے مرکزی صدر کی جمع کرائی جانے والی عہدے داران کی فہرست میں شامل ناموں کا کالعدم اہلسنت والجماعت/ کالعدم سپاہ صحابہ پاکستان سے کوئی رابطہ نہیں بتایا گیا تھا؟

کیا ای سی پی کے چئیرمین جو سپریم کورٹ کے سابق جج بھی رہے ہیں اور ان کا تعلق بھی خیبرپختون خوا سے ہے یہ پتا نہ تھا کہ اس کے سربراہ کا کالعدم سپاہ صحابہ یا کالعدم اہلسنت والجماعت اور اس کی قیادت سے کیا تعلق ہے؟

پاکستان راہ حق پارٹی کے مرکزی صدر، چاروں صوبائی صدور، صوبائی جنرل سیکرٹریز اور دیگر آفس ہولڈر کالعدم اہلسنت والجماعت کے بھی عہدے دار ہیں۔تو ان سارے روابط کے باوجود راہ حق پارٹی کو کیسے الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعت کے طور پہ رجسٹر کرلیا؟

کیا یہ دوہرا معیار نہیں ہے؟

راہ حق پارٹی کے پلیٹ فارم سے اہلسنت والجماعت کے سرپرست محمد احمد لدھیانوی،مرکزی سربراہ اورنگ زیب فاروقی،قائم مقام سربراہ خیبرپختون خوا مولوی رب نواز طاہر، صوبائی صدر بلوچستان رمضان مینگل، ضلعی صدر کوئٹہ،صوبائی جنرل سیکرٹری بلوچستان،صوبائی صدر سندھ، صوبائی جنرل سیکرٹری سندھ، صدر کراچی ڈویژن، جنرل سیکرٹری کراچی ڈویژن سمیت اہلسنت والجماعت کے 43 کے قریب اراکین و رہنماؤں نے کاغذات نامزدگی داخل کیے ہیں۔ کیا اس کے بعد بھی اس بات کی گنجائش رہ جاتی ہے کہ راہ حق پارٹی ایک کالعدم تنظیم اے ایس ڈبلیو جے کا دوسرا نام نہیں ہے۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی پاکستان خبریں
اہم ترین پاکستان خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری