سابق فوجی افسران کو وزارتِ داخلہ کی مدد سے وطن واپس لایا جائے گا، نیب

احتساب عدالت نے ریلوے اراضی کیس میں ملوث پاک فوج کے کچھ سابق اعلیٰ افسران سمیت دیگر ملزمان کے خلاف بدعنوانی کے مقدمے کی سماعت قومی احتساب بیورو کی درخواست پر ڈیڑھ ماہ کے لیے ملتوی کردی۔

سابق فوجی افسران کو وزارتِ داخلہ کی مدد سے وطن واپس لایا جائے گا، نیب

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق نیب کی جانب سے یہ درخواست ملزمان کی بیرون ملک موجودگی کے پیشِ نظر کی گئی،جس میں کہا گیا تھا کہ ملزمان کو وزارتِ داخلہ کی مدد سے واپس لانے کی کوششیں کی جائیں گی۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے رائل پام گالف کلب میں بدعنوانی پر دائر کیے گئے ریفرنس کی سماعت 3 اگست تک ملتوی کی۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز ہونے والی اس سماعت میں بریگیڈئر(ر) اختر علی اور ملائیشیا سے تعلق رکھنے والے 3 ملزمان کے علاوہ دیگر تمام ملزمان غیرحاضر رہے, پر عدالت نے تمام ملزمان کو پیش ہونے کی ہدایت کی تا کہ ریفرنس کی نقول فراہم کی جاسکیں اور بعد ازاں ان پر فرد جرم عائد کی جائے۔

اس حوالے سے نیب حکام کی جانب سے عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ ایک ملائیشین شہری سمیت تمام ملزمان کو پاکستان میں واپس لانے کے لیے وزرت داخلہ سے مدد لینے کی کوشش کی جارہی تھیں۔

خیال رہے کہ 17 سال تک یہ معاملہ دبا رہنے کے بعد رواں برس برس اپریل میں نیب نے اس کے خلاف ریفرنس دائر کیا تھا۔

نیب کی جانب سے جن ملزمان کو نامزد کیا گیا تھا ان میں انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سابق سربراہ لیفٹننٹ جنرل (ر) جاوید اشرف قاضی، جو سابق چیئرمین ریلوے اور وزیر برائے مواصلات اور ریلوے بھی رہ چکے ہیں، ریلوے کے سابق سیکریٹری اور ریلوے بورڈ کے سابق چیئرمین لیفٹننٹ جنرل (ر) سعیدالزماں، میجر جنرل (ر) حامد حسن بٹ، بریگیڈیئر (ر) اخترعلی بیگ، اقبال صمد خان، خورشید احمد خان، عبدالغفار، رمضان شیخ، پرویز قریشی، رائل پالم گالف کلب کے سپانسر سمیت دیگر 5 افسران شامل ہیں۔

مذکورہ ملزمان پر الزام ہے کہ یہ افراد مبینہ طور پر لاہور میں ریلوے گالف کلب کی غیر قانونی لیز دیے جانے میں ملوث ہیں۔

واضح رہے کہ نیب کی تحقیقیات میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ سال 2001 میں محکمہ ریلوے نے لاہور میں واقع گالف کلب کے لیے 33 سالہ لیز فراہم کرنے کی پیشکش کی تھی جس کے لیے کئی کمپنیوں نے بولی جمع کرائی تھی۔

واضح رہے کہ نیلامی کی کارروائی کے دوران لیز کی مدت میں غیر قانونی طور پر توسیع کرتے ہوئے اسے 49 سال تک کردیا گیا تھا جبکہ اس ضمن مں فراہم کیے جانے والے رقبے کو بھی غیر قانونی طور پر 103 ایکڑ سے بڑھا کر 140 ایکڑ کردیا گیا تھا جس کے لیے ریلوے آفیسر کالونی کو منہدم کیا گیا تھا۔

اس سے قبل مختص کی جانے والی زمین بھی غیر قانونی طور پر ’مین لینڈ حسنین پاکستان لمیٹڈ‘ کے مالک اور شیئر ہولڈر کو ناجائز فائدہ پہچانے کے لیے غیر شفاف طریقے سے فراہم کی گئی۔

نیب ک مطابق تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ملزمان نے سال 2001 میں مین لینڈ حسنین پاکستان لمیٹڈ کو اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے 140 ایکڑ زمین کی 49 سال کی مدت کے لیے لیز فراہم کی، جس سے قومی خزانے کو تقریباً 2.2 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔

اس سلسلے میں پاک فوج کے 4 سابق افسران کے خلاف ریفرنس اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے اس رائے کا اظہار کیے جانے کے بعد دائر کیا گیا جس میں عدالت کا کہنا تھا کہ سابق فوجی افسران آرمی کے احتسابی عمل کے پیچھے چھپ نہیں سکتے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ 2012 میں نیب نے اسی مقدمے میں سابق فوجی افسران کو اپنے بیانات ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کیا تھا لیکن ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔

اس سلسلے میں 14 ستمبر 2012 کو ہونے والے قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں متنازع لیز کے معاہدے کو منسوخ کرنے کا حکم دیا گیا تھا، اور مذکورہ زمین کے لیے نئے سرے سے نیلامی کے انعقاد اور ریلوے کے سابق حکام سمیت 3 ریٹائر جنرلز کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی ہدایت کی تھی، جنہوں نے اس معاہدے کی توثیق کی تھی۔

اس حوالے سے قومی اسمبلی خصوصی کمیٹی برائے ریلوے کی جانب جاری کردہ ضنحیم رپورٹ میں گالف کلب کی تعمیر کے لیے زمین فراہم کرنے کے معاملے میں کئی مالی اور انتظامی بے ضابطگیوں کیا انکشاف کیا گیا تھا اور محکمہ ریلوے کی ایگزیکٹو کمیٹی میں شامل تمام اراکین کے خلاف مقدمہ چلانے کی تجویز دی تھی۔

دوسری جانب وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے کمیٹی کی ہدایات پرعلیحدہ سے تحقیقات کی گئیں، ایف آئی اے کی رپورٹ کے مطابق 141 ایکڑ زمین معمولی قیمت پر الاٹ کی گئی، جس سے قومی خزانے کو 4 ارب 82 کروڑ روپے کا نقصان پہنچا، کیونکہ زمین کی مالیت 52.43 روپے فی مربع گز کے بجائے 4 روپے فی مربع گز رکھی گئی تھی۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی پاکستان خبریں
اہم ترین پاکستان خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری