مغربی افغانستان میں شیعہ علماء کی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری ہے

کابل حکومت کی بے حسی اور تکفیری دہشتگردوں کی روز افزوں بڑھتی سرگرمیوں کے سبب صوبہ ہرات میں ایک اور سیعہ عالم دین کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے شہید کردیا ہے۔

مغربی افغانستان میں شیعہ علماء کی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری ہے

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق افغانستان کے صوبہ ہرات کے جید عالم دین آیت اللہ حکیم کے نمائندے اور حکمت ریڈیو کے بانی "شیخ محمد جعفر توکلی" نامعلوم افراد کی فائرنگ سے "صادق" نامی علاقے میں شہید ہوگئے ہیں۔

صوبہ ہرات کے پولیس ترجمان عبدالاحد ولی زادہ نے شیخ توکلی کی شہادت کی تصدیق کی ہے۔

خیال رہے کہ افغان صوبے ہرات میں شیعہ علماء کی ٹارگٹ کلنگ کوئی نیا واقعہ نہیں بلکہ اس سے قبل بھی محمدیہ مسجد کے خطیب حجت الاسلام عزیز اللہ نجفی کو تکفیری دہشتگردوں نے فائرنگ کرکے شہید کردیا تھا۔

اس کے علاوہ حجت الاسلام سید یونس علوی بھی اس صوبے کے دیگر جید علمائے دین میں سے تھے جنہیں مسلح افراد نے گولیوں سے چھلنی کردیا تھا۔

یہ ایسی حالت میں ہے کہ افغان سیکورٹی اداروں نے تاحال ماضی میں شہید ہونے والے شیعہ علماء کے قاتلوں کو گرفتار کرنے کے حوالے سے کسی قسم کا اقدام نہیں کیا ہے۔

صوبہ ہرات کے اہل تشیع کمیونٹی نے تکفیری دہشتگردوں کے ہاتھوں شیعہ علماء کی ٹارگٹ کلنگ کیخلاف مظاہروں کا آغاز کیا ہے جس میں شرکاء کا کہنا ہے کہ کابل حکومت نے تکفیریوں کو کھلی چھوٹ دی ہوئی ہے جبکہ علماء کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے حکام کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی اسلامی بیداری خبریں
اہم ترین اسلامی بیداری خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری