افغانستان: ثابت کردیا کہ دہشتگرد ہماری سرزمین استعمال نہیں کرسکتے، اب پاکستان ثابت کرے !


افغانستان: ثابت کردیا کہ دہشتگرد ہماری سرزمین استعمال نہیں کرسکتے، اب پاکستان ثابت کرے !

اعلیٰ افغان امن کونسل نے کہا ہے کہ کابل حکومت نے تحریک طالبان کے سرغنہ کو ہلاک کرکے یہ ثابت کردیا کہ دہشتگردوں کو مزید افغان سرزمین کسی ملک کیخلاف استعمال نہیں کرنے دیں گے اور اب اسلام آباد حکومت کی باری ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق تحریک طالبان کے سرغنہ کی ہلاکت کابل حکومت کی اسلام آباد کے ساتھ تعاون کے سبب انجام پائی ہے۔

واضح رہے کہ تحریک طالبان کی افغانستان کے سرحدی علاقوں میں موجودگی کی وجہ سے دونوں ملکوں کے روابط میں پیچیدگیاں پیدا ہوئی ہیں اور جس طرح کابل حکومت اسلام آباد پر دہشتگرد گروہوں کی حمایت کا الزام لگاتا رہا ہے بالکل اسی طرح پاکستان بھی ہمیشہ کیلئے کابل حکومت کی جانب سے دہشتگرد گروہوں کی حمایت پر تاکید کرتا آیا ہے۔

ایسی حالت میں افغانستان کی "اعلیٰ سطح کی امن کونسل" نے تحریک طالبان کے سرغنہ ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کابل حکومت نے ثابت کردیا ہے کہ دہشتگرد مزید افغان سرزمین کو ہمسایہ ممالک کیخلاف استعمال نہیں کرسکتے۔

اس کونسل نے تاکید کی ہے کہ کابل حکومت بھی اس انتظار میں ہے کہ اسلام آباد عملی اقدام کا مظاہرہ کرتے ہوئے امن مذاکرات کیلئے راہ ہموار کرے گا۔

اعلیٰ افغان امن کونسل کے ترجمان سید احسان طاہری نے "آزادی ریڈیو" کو بتایا کہ کابل حکومت اور افغان طالبان کے درمیان صلح کی صورت میں ملک میں بین الاقوامی دہشتگرد گروہوں کا خاتمہ بھی ہوجائے گا۔

انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستان کی جانب سے افغان امن مذاکرات میں عملی اقدامات کیلئے پرامید ہیں کیونکہ کابل حکومت کی سرپرستی میں طالبان کیساتھ مذاکرات ہمارے لئے اہمیت رکھتے ہیں۔

طاہری نے وضاحت کی کہ اگر کابل حکومت اور افغان طالبان کے درمیان اتفاق ہوا اور صلح و آشتی پر پہنچ گئے تو بین الاقوامی دہشتگردوں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔

افغان تجزیہ کار جنرل جاوید کوہستانی کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ افغانستان کے سرحدی علاقوں میں تحریک طالبان کی موجودگی ہمیشہ سے ہمسایہ ممالک کے روابط میں سردمہری کا باعث بنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کابل حکومت کو بھی بدلے میں مفادات اور کامیابیاں حاصل کرنی چاہئیں۔

واضح رہے کہ افغان میڈیا میں یہ خبر گردش کررہی ہے کہ کابل حکومت نے پاکستان کے مطالبے پر تحریک طالبان کو نشانہ بنایا لہذا اسلام آباد سے بھی اسی قسم کے عملی اقدامات کی توقع رکھتا ہے۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی دنیا خبریں
اہم ترین دنیا خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری