عام شہریوں کو مارنے سے امریکی سلامتی محفوظ؟ / افغانستان میں رواں برس 1700 شہری مارے گئے

جارح امریکی فوج اور اس کے اتحادیوں نے افغانستان میں رواں برس کے دوران سترہ سو عام شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا، ایسے نہتے شہری جو امریکہ کے مطابق، واشنگٹن کی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں۔

عام شہریوں کو مارنے سے امریکی سلامتی محفوظ؟ / افغانستان میں رواں برس 1700 شہری مارے گئے

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق افغانستان میں رواں برس کی پہلی ششماہی کے دوران ریکارڈ تعداد میں عام شہری ہلاک ہوئے،جنوری سے جون تک پرتشدد واقعات اور حملوں میں زخمی ہونے والے عام شہریوں کی تعداد5 ہزار 100 سے زائد ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق 2018 میں اب تک تقریبا 1700ہلاکتیں ہوئی ہیں، جو گزشتہ برس کے پہلے 6 ماہ میں ہونے والی ہلاکتوں سے ایک فیصد زیادہ ہیں۔

جنوری سے جون تک پرتشدد واقعات اور حملوں میں زخمی ہونے والے عام شہریوں کی تعداد 5 ہزار 100 سے زائد ہے، جو گزشتہ برس کی پہلی ششماہی کے مقابلے میں 5 فیصد کم ہے۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق طالبان عسکریت پسندوں اور ملکی دستوں کے مابین3 روزہ محدود فائر بندی کے باوجود ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

خیال رہے کہ امریکہ افغانستان سمیت یمن، شام اور عراق میں نہتے شہریوں کو خاک و خون میں غلطاں کررہا ہے اور اس بات کا ڈھونگ مچا رہا ہے کہ ان ممالک میں موجود دہشتگرد جنہیں خود امریکہ نے تشکیل دیا ہے، واشنگٹن کی سلامتی کیلئے خطرہ ہے جبکہ عالمی ذرائع ابلاغ آئے روز امریکی اور اس کے حواریوں کے حملوں میں عام شہریوں کے مارے جانے کی خبریں نشر کرتے ہیں۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی دنیا خبریں
اہم ترین دنیا خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری