الیکشن 2018 اور ہمارا لائحہ عمل! (حصہ اول)

ہمارا تنظیمی بنیادوں پر پاکستانی سیاست میں داخلا 6 جولائی ١٩٨٧ء لاہور"قرآن وسنت کانفرنس" میں قائد شہید عارف حسین الحسینی کے اعلان سے ہوا, جس کے بعد ہم نے کئی تجربات کیے، مثلا ...

الیکشن 2018 اور ہمارا لائحہ عمل! (حصہ اول)

خبر رساں ادارہ تسنیم: 1۔ بغیر کسی سے اتحاد کیے اپنی شیعہ شناخت پر انتخاب لڑا اور ناکام ہوئے۔ کیونکہ: ایک: گلگت بلتستان کو چھوڑ کر باقی پاکستان میں ایسا کوئی حلقہ انتخاب قومی یا صوبائی اسیمبلی کا نہیں ہے جس میں شیعہ افراد اکثریت میں ہوں۔ اسلیے اگر اس حلقے کے سب شیعہ بھی ووٹ دیں تو بھی کامیابی ممکن نہیں ہے۔ 
دو: خود ملت جعفریہ کے اندر ہماری تنظیموں نے کوئی ایسا سیاسی کام نہیں کیا جس کو بنیاد بناکر ووٹ مانگا جائے۔ 
تین: پاکستان میں الیکشن کی کامیابی کی اپنی جدا ہی سیاست ہے، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں ہے۔ ہم وہ سیاست کرہی نہیں سکتے۔

2۔ سیکیولر پارٹیوں سے اتحاد کرکے انتخاب لڑا اور ناکام ہوئے: مثال پیپلز پارٹی سے اتحاد کیا لیکن کچھ بھی نہیں ملا۔ کیونکہ یہ پارٹیان صرف ووٹ لینے کے دور میں ووٹرس کو اہمیت دیتی ہیں اسکے بعد الوداع کرتی ہیں۔ کوئی بھی سیکیولر پارٹی اپنے اوپر شیعہ چھاپ قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔

3۔ دینی پارٹیوں کے ساتھ اتحاد بناکر انتخاب لڑے اور کچھ بھی نہیں پایا: متحدہ مجلس عمل دینی طور پر تو فائدمند ہے کہ مسلمانوں کے اتحاد کا مظہر ہے، لیکن جب یہ اتحاد بھی ماضی میں خیبرپختونخواہ میں اقتدار میں آیا تو ہمیں کچھ بھی نہیں دیا گیا۔

سوال یہ ہے کہ جب ہمیں تجربہ ہوگیا ہے کہ یہ تینوں طریقے اپنا کر ہم نے کچھ بھی نہیں پایا تو پھر دوبارہ وہی طریقہ اپنانا کہاں تک درست ہو سکتا ہے؟ جبکہ ان راہوں پر تجربے کی ضرورت ہی نہیں تھی یہ نتیجہ معمولی سوچ سے بھی حاصل ہو سکتا تھا، بلکہ حاصل تھا:

مجھے وہ واقعہ اچھی طرح یاد ہے کہ جب کراچی میں قائد ملت سید عارف حسین الحسینی سے مہاجر قومی موومینٹ کے وکلا کا ایک وفد ملنے آیا تھا۔ وکلا نے سوال کیا کہ آپ نے انتخابی سیاست میں آنے کا اعلان کیا ہے آپ کس طرح کامیاب ہونگے؟ کیونکہ کسی بھی حلقے میں شیعہ اکثریت میں نہیں ہیں۔ تو شہید قائد نے جواب دیا تھا کہ: ہم دیکھیں گے اور مقامی سطح پر دوسری پارٹیوں سے اتحاد کرینگے۔ وکلا نے کہا کہ آپ تو انقلابی نعرے لگاتے ہیں اور امریکا سے کھلی مخالفت کر رہے ہیں جبکہ پاکستان میں کوئی ایسی پارٹی نہیں ہے جو امریکی اشاروں پر نہ چلتی ہو۔ پھر آپ ان سے کیسے اتحاد کرینگے؟ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ قائد شہید کوئی جواب نہیں دے پائے اور انہوں نے دو کام کیے۔ ایک: کمرے کے ایک طرف آقای سید ساجد علی نقوی صاحب کان پر ریڈیو رکھ کے کچھ سن رہے تھے، شہید نے ان پر اپنی برہمی کا اظہار کیا کہ جب بھی سنجیدہ بات ہوتی ہے آپ ریڈیو سنتے ہیں۔ دوسرا: آپ نے وکلا کے وفد سے معذرت چاہی کہ مجھے کسی جگہ جانا ہے وہاں وقت دیا ہوا ہے۔ آپ کسی اور وقت تشریف لائیں تو بات ہوگی۔

سوال یہ بھی ہے کہ آخر پھر ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ 

مشرق وسطیٰ کی صورتحال دینی اور مذہبی آبادی کے لحاظ سے کچھ اس طرح ہے کہ تاریخی عمل کی وجہ سے وہاں علاقے تقسیم شدہ ہیں۔ مثال: ایران میں سیستان و بلوچستان میں برادران اہلسنت ہی ہیں، یہی صورتحال کردستان کی بھی ہے۔ وہاں دوسرے مذہب کی آبادی یا تو بلکل نہیں ہے یا پھر نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایران کے باقی اکثر صوبے ایسے ہیں جن میں شیعہ آبادی رہائش پذیر ہے دوسرے مذھب والے یا تو بلکل نہیں ہیں یا نہ ہونے کے برابر ہیں۔ یہی صورتحال حجاز، عراق، لبنان، یمن اور بحرین کی ہے۔ اس لیے وہاں اگر انتخابی حلقے بنتے ہیں تو اس حلقے میں ایک ہی مذھب کے ماننے والے ہوتے ہیں۔ اسلیے وہاں کی آبادی اپنے ہی ہم مذھب امیدوار کو ووٹ دیتی ہے۔ مشترکہ حلقے بہت کم ہیں۔

بر صغیر کی صورتحال بلکل مختلف ہے بہت کم علاقوں کے سوا ہر شہر اور ہر محلہ میں کئی مذاہب و ادیان کے ماننے والے رہتے ہیں۔ بلکہ کئی گھر ایسے ہیں کہ جن میں مختلف مذاہب کے ماننے والے ہیں۔ اسلیے مشرق وسطیٰ کی کاپی برصغیر میں ہو ہی نہیں سکتی۔ عوام نہ یہاں ووٹ کے ذریعہ سے حزب اللہ بنا سکتے ہیں نہ ہی داعش یا طالبان۔ ہاں اگر ریاست کی قوت کے مراکز خود ایسا کرنا چاہیں تو پھر اور بات ہے۔

ہمارے ملک کے مسائل سے ہر دین و مذھب کا ماننے والا یکسان متاثر ہوتا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، عدل و انصاف کا ناپید ہونا، ریاستی اداروں کے کام میں سستی اور رشوت ستانی وغیرہ جیسے مسائل کا شکار جیسے شیعہ ہے ویسے سنی بھی ہے، جیسے مسلمان ہے ویسے ہی ہندو بھی ہے۔ اسلیے سن 1977ء کی الیکشن تک سیاست میں مذہبی تفریق نہیں تھی۔ سیاست میں مذہبی تفریق کا سلسلہ ضیاء الحق کی طرف سے ایک خاص فقہ کے مطابق قانون سازی سے شروع ہوتا ہے۔ 

سب سے پہلے ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ ہمارے وہ کونسے مسائل ہیں کہ جن کے حل کے لیے ہم الیکشن میں آکر اسیمبلیوں میں جانا چاہتے ہیں؟ عام شیعہ عوام کی نظر تو صرف ایک مسئلے کی جانب ہے اور وہ ہے جان بچانا۔ حکومتی سطح سے دین کے نفاذ کا سلسلہ تو ختم ہو چکا ہے۔ اگر ہمیں جان کی امان مل جائے اور افراد و دینی مراکز پر حملے بند ہوجائیں تو پھر بھی ہمارا کوئی مسئلہ ہے کہ جسے حل کرنے کے لیے ہم مذہبی تفریق کے ساتھ میدان میں آئیں؟

یہ بھی یاد رہنا چاہیے کہ پاکستان کی سیاست ایسی ہے جس میں جو بھی پارٹی گئی ہے وہ کمزور ہی ہوئی ہے۔ جماعت اسلامی کی کیا شان تھی الیکشن کی سیاست میں آنے سے پہلے؟ اور پھر خود اس کے بانی سید مودودی کی ہی زندگی میں الیکشن میں آنے کے بعد کیا ہوئی؟ اب وہ پاکستان کی منظم ترین جماعت کس حال میں ہے؟ پیپلز پارٹی کی کیا شان تھی ذوالفقار بھٹو کے دور میں ابتدائی ایام میں۔ پھر بھٹو ہی کے دور میں جب اس پر جاگیرداروں اور وڈیروں کا قبضہ ہوا تو کیا قوت رہہ گئی اور ایک زرداری نے اسے کہاں پہنچا دیا ہے۔ 

اب سوال یہ ہے کہ ہماری کتنی قوت ہونی چاہیے کہ ہم الیکشن کے اکھاڑے میں اتریں اور کن مسائل کو حل کرنے کے لیے ہم شیعہ شناخت کے ساتھ الیکشن میں آئیں؟ 

سن 1986 میں جب قائد شہید حسینی الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان کرنے والے تھے تو پورے صوبہ سندھ کا یہی موقف تھا کہ ہمارا ہوم ورک مکمل نہیں ہے ہمیں ووٹ نہیں ملیں گے اور ہم ناکام ہونگے۔ لیکن شہید پر دباؤ تھا اس لیے اعلان ہوگیا۔ 

سن 1988 سے تو ہم اپنا ہوم ورک کیے بغیر ہی الیکشن میں اترے ہیں اور ناکام ہوئے ہیں۔ کچھ لوگ ایک تجربہ اور کرنے کے لیے میدان میں آئے ہیں۔

تحریر: سید حسین موسوی

سب سے زیادہ دیکھی گئی مقالات خبریں
اہم ترین مقالات خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری