الیکشن 2018ء اور ہمارا لائحہ عمل! (حصہ دوم)

پاکستان میں ایک شیعہ جن صورتوں میں الیکشن میں حصہ لے کر منتخب ہو سکتا ہے وہ اس طرح ہیں ...

الیکشن 2018ء اور ہمارا لائحہ عمل! (حصہ دوم)

خبر رساں ادارہ تسنیم: شیعه شناخت اور شیعہ پلیٹ فارم سے انتخاب میں حصہ لیکر کو ئی بھی شیعہ اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک دو میں سے ایک صورت موجود نہ ہو:

پہلی: یہ کہ انتخابی حلقہ میں شیعہ افراد اکثریت میں ہوں، اس اکثریت میں سیاسی اور نظریاتی کام کیا جائے اور پھر اس کی بنیاد پر الیکشن میں کھڑا ہوا جائے۔ اس اکثریت کو پیدا کرنے کے لیے کیا کچھ کرنا پڑے گا یہ ایک علحیدہ داستان ہے۔ اس طرح کی صورتحال نہ اس وقت موجود ہے نہ ہی مستقبل قریب میں نظر آ رہی ہے۔

دوسری: انتخابات کا نظام متناسب نمائندگی پر ہو۔ جس میں ووٹ کسی فرد کو نہیں دیا جاتا بلکہ پورے ملک میں ہر جگہ سے کسی پارٹی کو ووٹ ڈالا جاتا ہے، پارٹی اپنے امیدواروں کی ایک لسٹ شایع کرتی ہے اور پھر حاصل شدہ ووٹ کے تناسب سے اس پارٹی کو اسیمبلی کی نشستیں ملتی ہیں۔ اس طرح کے انتخابی نظام میں آنے سے پہلے بھی اپنی ملت میں سیاسی و نظریاتی کام لازمی ہے تاکہ انکو ووٹ دینے کے لیے آمادہ کیاجائے۔

خطرہ: شیعہ شناخت اور شیعہ پلیٹ فارم کی الیکشن سیاست سے مثبت نتائج کے ساتھ جو ایک اہم منفی نتیجہ برآمد ہو سکتا ہے بلکہ برصغیر کی نفسیات کو سامنے رکھتے ہوئے جس کا قوی امکان ہے وہ فرقہ واریت ہے۔ کیونکہ ہمارے خطے میں الیکشن کے اندر اپنا منشور پیش کرنے سے زیادہ مخالف امیدوار کے نقائص بیان کرنے کا رواج ہے۔ جب الیکشن مذہبی بنیادوں پر ہوگا تو امیدوار ایک دوسرے کے مذہب پر ہی حملہ آور ہونگے جس کے نتیجے میں فرقہ واریت کا پھیلنا یقینی امر ہے۔ اس منفی اثر سے بچنے کے لیے ہمارے پاس الیکشن میں جانے سے پہلے کوئی لائحہ عمل ہونا چاہیے۔ دوسری صورت میں فائدے سے زیادہ نقصان کا امکان ہے۔

شیعہ شناخت اور شیعہ پلیٹ فارم سے الیکشن میں حصہ لیکر منتخب ہونے کا ایک اور طریقہ اتحاد بین المسلمین کا پلیٹ فارم ہے۔ جس کی مثال موجودہ متحدہ مجلس عمل ہے۔ لیکن اس طرح کے اتحاد نے بھی سب سے پہلے اپنا ہوم ورک کرنا ہے۔ ایسے اتحاد کو سب سے پہلے دینی اتحاد کی سوچ نچلی سطح تک پیدا کرنی ہے اور اسے اس حد تک لے جانا ہے کہ لوگ ایک دوسرے کے مخالف فرقے کے امیدوار کو ووٹ دینے کے لیے آمادہ ہوں۔ جو کہ اس وقت نہایت کم درجے پر موجود ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ شیعہ پلیٹ فارم کو اپنے سیاسی اور سماجی کردار کو اس حدتک بہتر کرنا پڑیگا کہ دیگر جن مذھبی جماعتوں سے وہ اتحاد کرے اسکے برے سیاسی کردار کی وجہ سے شیعہ پلیٹ فارم بدنام نہ ہو جائے۔ کیونکہ لازمی نہیں ہے کہ جن مذھبی جماعتوں سے ہم اتحاد کریں وہ سیاست میں صاف ستھری ہوں۔ اس طرح کے اتحاد میں اپنے شیعہ تشخص کے ساتھ حصہ لینے سے فرقیواریت کے پھیلنے کا خطرہ رفع نہیں تو بہت کم رہ جاتا ہے۔

ایک شیعہ فرد اپنے سماجی تشخص کے ساتھ الیکشن میں کھڑا ہو۔ ایک شیعہ فرد اپنے حلقے میں ہر انسان کی بغیر کسی تفریق کے سماجی خدمات کرے اور اسی بنیاد پر اپنی شخصیت بناتا ہے۔ اور پھر اسی سماجی شخصیت کی بنیاد پر الیکشن میں حصہ لیتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ یہ کسی پارٹی میں شامل ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آزاد امیدوار کے طور پر کھڑا ہو۔

ان طریقوں میں سے کسی کا انتخاب کرنے سے پہلے ہم نے یہ طئی کرنا ہے کہ ہمارے اہداف کیا ہیں؟ کیونکہ ہر وسیلہ ہر ہدف تک نہیں پہنچاتا ہے۔ جب ہم یہ طئی کر لیں گے کہ الیکشن میں جانے اور منتخب ہونے کے بعد ہم کیا کرنا چاہتے ہیں تو پھر ہم طئی کر پائیں گے کہ ہمیں کونسا طریقہ اپنانا ہے؟

جاری ہے۔۔۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی مقالات خبریں
اہم ترین مقالات خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری