خصوصی تجزیہ | عمران خان کی جیت پر امریکہ و سعودیہ اور امارات کو کیوں پریشانی لاحق ہو گئی ہے؟

کیا عمران خان ایرانی دم ہونے کا رول ادا کرے گا جیسا کہ ایک خلیجی شہزادے نے اسکے متعلق کہا ہے؟ اور یہ باتیں کہاں تک درست ہیں کہ وہ یمن میں جاری جنگ پر احتجاج کرتے ہوئے چالیس ملکی اسلامی اتحاد سے کنارہ کشی اختیار کر لے گا؟

خصوصی تجزیہ | عمران خان کی جیت پر امریکہ و سعودیہ اور امارات کو کیوں پریشانی لاحق ہو گئی ہے؟

خبر رساں ادارہ تسنیم: پاکستان میں ہونے والے حالیہ پارلیمانی انتخابات میں عمران خان کی جیت پر امریکہ و سعودیہ اور امارات کو کیوں پریشانی لاحق ہو گئی ہے؟ کیا عمران خان ایرانی دم ہونے کا رول ادا کرے گا جیسا کہ ایک خلیجی شہزادے نے اسکے متعلق کہا ہے؟ اور یہ باتیں کہاں تک درست ہیں کہ وہ یمن میں جاری جنگ پر احتجاج کرتے ہوئے چالیس ملکی اسلامی اتحاد سے کنارہ کشی اختیار کر لے گا؟

پاکستانی پارلیمانی انتخابات میں سعودیہ کے اتحادی نواز شریف کی جماعت کے ہارنے اور اسکے سخت مخالف عمران خان جو کہ سابقہ کریکٹر رہ چکا ہے کی جیت پر سعودی حکومت کو بڑی بے چینی اور اضطراب سی کیفیت کا سامنا ہے کیونکہ عمران خان سعودی حکومت کے لیے کسی خاص محبت و احترام کا قائل نہیں اور ساتھ ہی وہ یمن کی جنگ میں پاکستان کے کسی بھی قسم کے رول کا مخالف ہے اور ایران کے ساتھ مضبوط تعلقات رکھنے کے لیے پر تول رہا ہے. 

نواز شریف تو کرپشن کے کیس میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے سزا بھگت رہا ہے بالکل سعودیہ کے اس دوسرے اتحادی ملائشیا کے وزیراعظم نجیب عبدالرزاق کی طرح، اور جب ڈاکٹر محمد مھاتیر نے حکومت سنبھالنے کے بعد پہلا فیصلہ ہی یہ کیا کہ وہ سعودیہ کی سربراہی میں ہونے والے اسلامی اتحاد سے اپنی افواج کو واپس بلاے جو کہ یمن کی جنگ میں شریک تھے تو ممکن ہے کہ عمران خان بھی اسی کے قدم پر قدم رکھتے ہوئے یہ ہی فیصلہ کرے اور اس نام نہاد اسلامی اتحاد سے علیحدگی اختیار کر لے جسکو 2015 میں ولی عہد محمد بن سلمان نے بنایا تھا جو کہ یمن کی جنگ میں شریک ہونے کے لیے 41 ممالک سے قائم ہوا تھا. 

چلیں مان لیتے ہیں کہ عمران خان جو کہ آکسفورڈ یونیورسٹی سے علوم اقتصادی میں اعلی نمبروں سے کامیاب ہوا ہے( 1995 کا ڈگری ہولڈر ہے) جب اس نے 1992 میں اپنے پاکستانی ٹیم کو کریکٹ ورلڈ کپ میں فتح دلوائی تھی اور یہ بھی مان لیتے ہیں کہ اس پر اور اسکی پارٹی تحریک انصاف پر اس جیت کے حوالے سے شکوک شبہات پیدا کئے جا رہے ہیں اور ساتھ ہی فوج پر انتخابات میں دھاندلی اور الیکشن رزلٹس کو عمران خان کے حق میں کئے جانے کا الزام لگایا جا رہا ہے لیکن ان تمام چیزوں کے باوجود یہ بھی حقیقت ہے کہ خود عمران خان اس وقت بڑی عوامی مقبولیت کا حامل ہو چکا ہے اپنے اس انتخابی منشور کی بناء پر جو پاکستانی قوم کے لئے انصاف پر مبنی ہو گا چونکہ اسکی بنیاد مستقل عدالتی سسٹم، انسانی حقوق کا احترام، قانون کی حکمرانی اور کرپشن کا خاتمہ ہے. 

پاکستان میں تیسری دنیا کے بہت سے ممالک کی طرح جیسا کہ عراق، شام، جزائر، مصر اور ترکی (اردگان کی حکومت سے پہلے تک)  ملک کی حفاظت اور اسمیں امن و امان قائم کرنے کے حوالے سے حتی کہ حکمرانوں کے انتخاب میں فوج کا اہم کردار ہوتا ہے، اور پاکستان کے حوالے سے تو اتنا اشارہ کرنا ہی کافی ہے کہ جب سے پاکستان آزاد ہوا ہے تقریباً اب تک آدھا عرصہ فوج نے حکومت کی ہے. لہذا اس وقت فوج کا عمران خان کو سپورٹ کرنا اسکی مضبوطی کا باعث ہے نہ کہ کمزوری کا سبب جیسا کہ پاکستان کے امور سے واقف اکثر سیاسی مبصرین کا یہ ہی خیال ہے. 

اور اگر ایک طرف پاکستان میں عمران خان کی حکومت بننے پر سعودیہ اور امارات پریشانی میں مبتلا ہیں تو دوسری طرف امریکہ اور برطانیہ اور دوسرے یورپین ممالک کی پریشانی دوگنا ہو گئی ہے کیونکہ عمران خان مکمل طور پر مشرق وسطیٰ میں امریکی سیاست کی مخالفت کرتا ہے اور جرات و دلیری کے ساتھ مسئلہ فلسطین کی حمایت کرتا ہے یہ ہی وجہ ہے کہ جب خان آکسفورڈ یونیورسٹی کا سٹوڈنٹ تھا تو اس وقت اس نے بہت سی ایسی سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیا تھا جو اسرائیلی دہشت گردی کی مذمت اور مخالفت پر مبنی تھیں. اور سپورٹس کو چھوڑنے اور اپنی موجودہ پارٹی کو بنانے کے بعد خان نے بھرپور طریقے سے امریکی صدر ٹرامپ کے ان بیانات پر ردعمل ظاہر کیا تھا جو پاکستان کی اہانت پر مبنی تھے کہ جن میں ٹرامپ نے کہا کہ امریکہ نے پاکستان کو پندرہ سالوں میں 33 ارب ڈالر دیئے لیکن پاکستان نے بدلے میں صرف جھوٹ، دغا اور دہشت گرد جماعتوں کو پناہ دی تو پھر عمران خان نے بھرپور غصے کا اظہار کرتے ہوئے ٹرامپ کو کہا کہ تم ایک بیوقوف، جاہل اور احسان فراموش انسان ہو بلکہ یہاں تک کہہ دیا کہ امریکہ ہی نے پاکستان کو شدت پسندی میں دھکیلا ہے کیونکہ اسی کی دہائی میں امریکہ ہی نے پاکستانی حکومت سے جہادی تنظیموں کا تقاضا  کیا تھی جو کہ سی آئی اے ایجنسی کی مدد سے بنائی گئی تھیں، پھر دس سال بعد ہی اور نائن الیون کے واقعے کے بعد ان ہی تنظیموں سے دہشت گردی ختم کرنے کے عنوان سے لڑنے کو کہا گیا. 

آل سعود میں سے اپنی پریشانی کا اظہار کرنے والوں سے سر فہرست شہزادہ خالد بن عبداللہ ہے جس نے عمران خان کے جیتنے کے فورا بعد ٹویٹ کیا تھا کہ خان ایران کی دم ہے اور قم کا نمائندہ اسلام آباد میں ہو گا اگرچہ بعد میں اس نے اس ٹوئٹ کو ڈیلیٹ کر دیا تھا. 

عمران خان جو کہ اب مشترکہ حکومت بنانے کی کوشش کر رہا ہے اور دو ہفتوں تک حلف اٹھاے گا حتما پاکستانی سیاست کا رخ مکمل طور پر بدل کر رکھ دے گا اگر اسے اپنی منشأ کے مطابق چلنے دیا گیا کیونکہ اس نے انڈیا کے لیے کشادہ دلی کا مظاہرہ کیا ہے جب مسئلہ کشمیر کے لیے مودی کو ٹیبل ٹاک کی دعوت دی ہے اور افغانستان کے صدر اشرف غنی کو ملک میں امن و امان قائم کرنے کے لیے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے اور ایران کے ساتھ اچھے اور مضبوط تعلقات قائم کرنے کی امید دلائی ہے اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکی بلاک سے نکلنے کا کہا ہے. 

سعودیہ اور امارات کا حق بنتا ہے کہ وہ پریشانی میں مبتلا ہوں اور اسی طرح ٹرامپ کا بھی کیونکہ پاکستان کا نیا وزیراعظم سابقہ وزرائے اعظم کی طرف کھٹ پتلی نہیں ہو گا اور ممکن ہے کہ وہ اپنے ملک کو اس خطے میں ایک بڑی ایٹمی پاور کے طور پر پیش کر سکے کیونکہ اس سے پہلے والے کرپٹ وزرائے اعظم نے یہ رول ادا نہیں کیا جن میں سے آخری نواز شریف ہے.. 

اور ہم تو انتظار ہی کر سکتے ہیں ۔۔۔

مترجم: ذیشان الحسنی

خبار: رأی الیوم کا اداریہ

سب سے زیادہ دیکھی گئی مقالات خبریں
اہم ترین مقالات خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری