اصغریہ کیجانب سےفکر شہید حسینی سیمینار + تصاویر

اصغریہ کیجانب سےفکر شہید حسینی سیمینار، شہید میدان عمل کے پیکر تھے، کردار کے غازی تھے، ان کی تبلیغ کردار کی تبلیغ تھی ، اس وقت ملت پاکستان کو ایسے رہنما کی ضرورت ہے جو کردرار خمینی، کردار خامنہ ای ، کردار حسن نصر اللہ ہو۔

اصغریہ کیجانب سےفکر شہید حسینی سیمینار + تصاویر

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق  ان خیالات کا اظہار مقررین نے اصغریہ علم و عمل تحریک پاکستان اور اصغریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کی جانب سے فرزند امام قائد ملت اسلامیہ  پاکستان شہید علامہ عارف حسین الحسینی کی 30ویں برسی کے موقع پر کیا جس میں شہید عارف حسینی رح کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔

سیمینار سے خطاب حجتہ السلام والمسلمین علامہ غلام قنبر کریمی، حجتہ السلام علامہ ناظر عباس تقوی، حجتہ السلام مولانا غلام عباس حسینی، اصغریہ تحریک کے مرکزی صدر سید پسند علی رضوی، اور اصغریہ اسٹوڈنٹس آرگنائیزیشن پاکستان کے مرکزی صدر قمر عباس غدیری نے فکر شہید حسینی سیمینار ھالا میں خطابات میں  کیا۔

سیمینار کا اغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا، حمد باری تعالیٰ، نعت مقبول ﷺ، منقبت و قصیدہ اور انقلابی ترانے پڑھے گئے، اصغریہ علم و عمل تحریک پاکستان کے مرکزی صدر سید پسند علی رضوی نے کہا کہ شہید قائد عارف حسین الحسینی وارث انبیا تھے، آپ نے ملت کو بیدار کیا، سیاسی شعور دیا علمائے کرام کو میدان میں لیکر آئے اور اسلام کے تمام پہلوں سیاسی، سماجی، مذہبی طور پہ متحرک کیا جس کے نتیجہ میں ملت بیدار ہوئی اور اپنے کردار ادا کررہی ہے، شہید عارف حسینی نے اتحاد بین المسلمین کے لیئے گراں قدر خدمات دیں جب وطن عزیز پہ قابض ڈکٹیٹر نے امت مسملہ میں انتشار اور فرقہ واریت کو فروغ دی تو قائد شہید نے دن رات جدوجہد سے اس سازش کو ناکام بنایا اور لاہور  میں امت مسلمہ کو جمع کرکے وحدت کی عظیم مثال قائم کی، دشمن نے آپ کی تحریک سے خائف ہوکر شہید کروایا ہے مگر 30 سال گذرنے کے باوجود آج بھی ملت اسلامیہ میں آپ کی جدوجہد زندہ و پائندہ ہے۔

اصغریہ اسٹوڈنٹس آرگنائیزیشن پاکستان کے مرکزی صدر قمر عباس غدیری نے کہا کہ شہید عارف حسین الحسینی کے کردار سے متاثر ہوکر کئیں نوجواں ملت میں متحد اور متحرک ہوکر اپنے زمہ داریوں کا احساس کیا اور آپ کے افکار کی روشنی میں جدوجہد کا عزم کیا، اصغریہ کو یہ سعادت حاصل ہے کہ سندھ بھر میں شہید قائد کے ساتھ مل کر نوجواںوں میں علمی اور فکری تربیتی عمل کو انجام دیا اور آج تک اسی سیرت کو زندہ رکھتی آرہی ہے، شہید قائد عارف حسینی سے نہ فقط ملت جعفریہ بلکہ دیگر اسلامی مکاتب کے علمائے کرام بھی متاثر ہوئے، آپ کی با بصیرت قیادت نے آمریت کے دور میں بھی فرقہ واریت کی سازش کو بے نکاب کیا اورسازش کو ناکام بنایا تھا، دشمن آج بھی شہید حسینی کے فکر سے خائف ہے، اور ملت کو فرقہ واریت میں لڑہانے کی ناکام سازشوں میں مشغول ہے ہم اس کو اتحاد بین المسلمین سے ناکام بنائیں گے اور پاکستان کو امن کا گہوارہ بنائیں گے۔

شیعہ علما کونسل کے رہنما حجتہ السلام علامہ سید ناظر عباس تقوی نے کہا اگر ہم چاہتے ہیں کہ اہل بیت علھیم السلام اور قلب حضرت ولی عصر امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف ہم سے خوش ہوں توں ہمیں ایک دوسرے کے خلاف کیچڑ نہیں اچھالنا چاہئیے، اگر ہمیں عزاداری عزیز ہے تو ہمیں متحد ہونا چاہیئے، یہ حقیقت ہے کہ ہمارے مورچے مختلف ہیں عالم ہو، خطیب ہو، ذاکر ہو، پیش نمازہو، ملنگ ہو سب کے سب قرآن و اہل بیت کے سپاہی ہیں لیکن کسی کا مورچہ منبر ہے، کسی کا محراب ہے، کسی کا مورچہ مسجد ہے، کسی کا مورچہ مدرسہ ہے کسی کا مورچہ امامباڑہ ہے، کوئی قلم کے ذریعے ، کوئی زبان کے ذریعے سب کے سب ایک مقصد کے لئے کام کررہے ہیں، جب سب کا مقصد ایک ہے تو اتحاد کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی اسلامی بیداری خبریں
اہم ترین اسلامی بیداری خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری