علامہ اقبال کی "شکوہ جواب شکوہ" 107 برس بعد جدید موسیقی کے ساتھ پیش

کوک اسٹوڈیو سیزن 11 نے شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی شہرہ آفاق نظم "شکوہ جواب شکوہ" کو موسیقی کی دھنوں پر ترتیب دے کر شاندر گیت تیار کرلیا۔

علامہ اقبال کی "شکوہ جواب شکوہ" 107 برس بعد جدید موسیقی کے ساتھ پیش

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق کوک اسٹوڈیو سیزن 11 کے میوزک پروڈیسرز نے شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ اقبال کی شہر آفاق نظم ‘شکوہ جواب شکوہ‘ کے اشعار کو موسیقی کے موتیوں کی لڑی میں پرو دیا۔

کوک اسٹوڈیو کی جانب سے نئے گیت کی ویڈیو جاری کی گئی ہے۔

شکوہ جواب شکوہ کی دھن منشی رضی الدین نے ترتیب دی جبکہ اس کے پروڈیوسر زوہیب قاضی اور علی حمزہ تھے جبکہ نتاشہ بیگ نے اسے گایا اور قوال فرید ایاز، ابو محمد اینڈ برادرز نے بھی شاندار ساتھ نبھایا۔

بیکنگ گلوکاری شہاب حسین، وجیہہ نقوی، مہر قادر نے کی جبکہ بابر کھنّہ نے ڈھولک، کمی پاؤل (ڈرم)، کامران ‘منّو‘ (بیس گٹار) اور روفوس شہزاد نے (کی بورڈ) سمیت دیگر لوگوں نے مختلف آلاتِ موسیقی پر اپنی ذمہ داریاں انجام دیں۔

نظم کا پس منظر

شہر آفاق نظم کو علامہ اقبال نے لندن سے واپسی کے بعد اپریل 1911 میں ہونے والے انجمنِ حمایت اسلام کے جلسے میں پڑھا، جس کے بعد برصغیر کے مسلمانوں نے اپنی زبوں حالی پر غور شروع کیا اور حوصلہ شکنی کے زوال کے اسباب بھی تلاش کیے۔

علم و ادب سے وابستہ شخصیات کے مطابق علامہ اقبال نے پہلے نظم شکوہ تحریر کی جو اُن کے دل کی آواز تھی، اس نظم کے اصل مقصد کو لوگوں نے سمجھے بغیر پروپیگنڈا شروع کیا جس کے بعد شاعر مشرق نے ’جواب شکوہ‘ تحریر کی۔

اس نظم کے ذریعے اقبال نے مسلمانوں کی مذہب سے غلفت، بیزاری پر خوبصورتی سے روشنی ڈالی جس کے اثرات بھی نمودار ہوئے، شاعر مشرق کے قلم سے لکھی ہوئی تحریر نواب ذوالفقار علی خان نے 100 روپے میں خریدی اور پھر اسے ہدیہ کیا۔

اقبال نے نظم کے ابتدا میں رب کی بارگاہ میں شکوے کیے پھر ان کا جواب بھی خود ہی تلاش کر کے تحریر کیا، بعد ازاں اس کا اختتام دعائیہ کلمات پر ہوا۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی پاکستان خبریں
اہم ترین پاکستان خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری