آئینی ادارہ، غیرقانونی اقدامات، اور معاشرتی رہبری

کل ایک خبر نظر سے گزری جس نے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا۔ خبر تھی کہ "پنجاب اسمبلی میں افسران کی قواعد کے خلاف ترقیوں کو روک دیا گیا"۔

خبر رساں ادارہ تسنیم: معاشرہ کی رہنمائی قوم کے بڑوں نے کرنی ہوتی ہے اور ہم عام طور پر انہیں بڑا تصور کرتے ہیں جن  کے ذمہ اصول و قوانین وضع کرنے کی اہم ترین ذمہ داری ہوتی ہے۔ گو کہ آخری فیصلہ سیاستدان کا ہی ہوتا ہے اور کسی بھی فیصلہ کا کریڈٹ بھی اسی کو حاصل ہوتا ہے لیکن میرے پیارے پاکستان میں سیاستدان کو ایک اچھے فیصلہ تک پہنچانے میں ایک بیوروکریٹ کا انتہائی اہم کردار ہوتا ہے۔ یہ کردار چونکہ کبھی عام حالات میں نظر نہیں آتا اس وجہ سے کبھی زیربحث بھی نہیں آتا۔ لیکن باوجود اس کے کہ کسی ایک فرد یا شخصیت کا کردار ہماری آنکھوں سے اوجھل رہے اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ کردار اس جگہ پر موجود نہیں بالکل اسی طرح جس طرح معاشرتی برائی ہمیشہ اپنی جگہ پر موجود ہوتی ہے خواہ ہم اسے دیکھیں یا اس سے صرف نظر کیئے رکھیں۔

کل ایک خبر نظر سے گزری جس نے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا۔ خبر تھی کہ "پنجاب اسمبلی میں افسران کی قواعد کے خلاف ترقیوں کو روک دیا گیا"۔

کتنی ترقیاں کی گئیں تھیں ؟

کل 27! مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا اور سمجھا کہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کا ایک انتہائی اہم آئینی ادارہ جس کے ذمہ قانون بنانے کی انتہائی اہم ذمہ داری ہے اس میں موجود انتہائی اہم دماغوں سے ناراض ہو کر کسی صحافی بھائی نے خبر لگا دی ہے۔ لہذا کچھ صحافتی تحقیق کے بعد مجبور ہو گیا کہ حقیقت حال اپنے قارئین کی نظر کی جائے اور مل کر اپنی قوم کے بڑوں کی بے حسی کا ماتم کیا جائے۔

تو جناب والا سب سے پہلے سمجھ لیں کہ یہ 27 ترقیاں غیر قانونی کیسے ہیں؟ اور انہیں نئے آنے والے سیکریٹری محمد خان بھٹی نے روکنے کے احکامات کیوں جاری کیئے اور محکمہ خزانہ اور آڈیٹر جنرل پنجاب کو معاملات کو دیکھنے کا کیوں کہا؟

اس سوال کا انتہائی آسان جواب ہے۔ ان ترقیوں کو عمل میں لانے کے لیئے مطلوبہ قانونی تقاضے پورے نہیں کیئے گئے۔ ذرائع تو یہ بھی دعوی کرتے ہیں کہ سابق اسپیکر صوبائی اسمبلی  رانا محمد اقبال خان اور سینیئر سیکریٹری پنجاب اسمبلی رائے ممتاز حسین بابر نے اپنے منظور نظر افسران کو نواز دیا۔ لیکن یہ بات نہ تو اس تمام عمل کو غیر قانونی بنانے کے لیئے کافی ہے بلکہ ہم اس پر یقین کیئے بغیر آگے بڑھتے ہیں۔

 جس وجہ سے یہ ترقیاں غیر قانونی قرار پائی ہیں وہ دو ہیں۔ ایک تو یہ کہ یہ ترقیاں اس وقت عمل میں لائی گئی ہیں جبکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے اسمبلیاں تحلیل ہونے کے بعد31 مئی 2018 کے بعد سے کسی بھی ادارہ میں نہ تو ترقیاں اور نہ ہی ٹرانسفرز عمل میں لائی جا سکتی ہیں لیکن پنجاب اسمبلی میں ان منظور نظر افراد کو ترقیاں دے دی گئیں۔ جبکہ دوسری اور انتہائی سنگین وجہ یہ ہے کہ آئین پاکستان کے فراہم کردہ مینڈیٹ اور پنجاب اسمبلی کے انیس سو چھیاسی کے افسران کی ترقیوں سے متعلق مروجہ اصول کے مطابق ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی (DPC) تین ممبران سے کم پر مشتمل نہیں ہو سکتی اور گریڈ 17 یا اس سے اوپر کی ترقیوں کے لیئے ڈی پی سی ممبران میں سپیکر پنجاب اسمبلی کا شامل ہونا لازمی ہے جبکہ سپیکر کی غیر موجودگی میں یہ فرائض ڈپٹی اسپیکر سرانجام دیتا ہےلیکن اس صورت میں بھی وہ بطور اسپیکر ہی فرائض سرانجام دے رہا ہو گا ۔ جبکہ باقی ماندہ کے لیئے سیکریٹری کا موجود ہونا لازمی ہے۔ ان ترقیوں کے لیئے بلائی جانے والی ڈی پی سی بغیر سپیکر یا ڈپٹی اسپیکر کے کیسے عمل میں لائی جا سکتی تھی؟ کیونکہ یہ بات ہم سب جانتے ہیں کہ جون کے مہینہ میں جبکہ یہ ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کے اجلاس بلا کر منظور نظر خواتین و حضرات کو نوازا جا رہا تھا اس وقت سپیکر اور ڈپٹی اسپیکر اپنے اپنے حلقہ انتخاب میں الیکشن لڑ رہے تھے اور اپنے مناصب کے قلمدان عملی طور پر الیکشن کمیشن کے حوالہ کر چکے تھے۔ یہ صاف صاف مروجہ قوانین کے ساتھ وہ مذاق ہے جس پر جتنا بھی افسوس کیا جائے کم ہے۔ اس سب کے مرتکب افراد شاید کبھی قانون کی گرفت میں نہ آسکیں کیونکہ آخر کار اتنی بڑی تعداد کے افسران ہی نے کار سرکار بھی تو چلانے ہیں۔

 یہاں یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ یہ سب کرنے کی اتنی جلدی کیوں تھی؟

تو جناب اس کی مجھ جیسے کم علم و دانش کی سمجھ میں جوتین وجوہات آتی ہے وہ یہ ہیں کہ اول تو ہو سکتا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کو اپنی ہار کا خدشہ تھا اور انہوں نے چاہا کہ یہ ستائیس افسران آنے والے وقت میں جوڑ توڑ میں ان کے لیئے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں لہذا انہیں ترقیاں دیا جانا انتہائی ضروری ہے ۔ دوسرا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سیکریٹری صاحب نے چاہا ہو کہ کیا پتہ آنے والی حکومت کیا فیصلے کرے لہذا اس سے پہلے کہ وہ کچھ فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں ہو اپنا فیصلہ مجبوری بنا کر آنے والوں کے سامنے رکھ دیا جائے تاکہ بادل نخواستہ انہیں اس پر من و عن عمل کرنا ہو۔ جبکہ تیسری وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ رازداری کے ساتھ کی جانے والی ترقیاں جانے والی حکومت کے مستقبل کی بقاء کی ضامن ہو جائیں ۔

وجہ خواہ جو بھی ہو ایک غیر قانونی عمل ہمارے سامنے بوساطت محمد خان بھٹی آگیا ہے۔ گوکہ مجھے یہ یقین ہے کہ نہ تو محمد خان بھٹی جیسا مرد مجاہد اور نہ ہی آنے والی حکومت اس نوازشات و عنایات سے مستفیدمافیا کے سامنے کچھ زیادہ اقدامات کر پائے گی لیکن وقتی طور پر تو انہیں ایک مظبوط اپوزیشن کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ اللہ محمد خان بھٹی کے کندھوں کو سلامت رکھے جنہوں نے کرپشن اور بدعنوانی کے گند کی صفائی کا بیڑا اٹھایا ہے لیکن اس سفر میں انہیں نہ صرف ایماندار اور محب وطن افسران کی بلکہ معاشرہ کے دیگر طبقات کی جانب سے بھی اخلاقی امداد کی ضرورت پڑنے والی ہے۔ انہیں پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ کے سب سے بڑے آئینی ادارہ کے تشخص کو بحال رکھنے کی خاطر سخت اور نہ پسندیدہ فیصلوں کے زہر کے پیالے بھی پینا پڑ سکتے ہیں جبکہ دوسری جانب غیر قانونی طریقہ سے ترقی پانے والے درج ذیل افراد باقاعدہ انکے فیصلوں کے مخالفین پائے جانے والے ہیں۔ یہ بالکل وہ لکیر ہے جس کا عکس ہمیں آنے والی حکومت کے خلاف مظبوط اپوزیشن کے اعلامیہ میں بھی نظر آ رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ وہ محاذ ہے جس پر عوامی نظروں سے اوجھل رہتے ہوئے لڑائی لڑی جانی ہے۔ یہ فیصلہ تو وقت کرے گا کہ کون حق کے ساتھ کھڑا ہوا اور کون باطل کا ساتھی نکلا لیکن مستفید شدگان کی تفصیلات سے آپکو آگاہ کرنے سے پہلے میں صرف دو باتیں ضرور کہنا چاہوں گا کہ ایک تو "میرا میرٹ اور تیرا میرٹ" کی پالیسی کی وجہ سے ہم بہت نقصان اٹھا چکے اور اب ہمارے بڑوں کو "صرف اور صرف میرٹ" کی پالیسی مکمل طور پر اپنا لینی چاہیئے تاکہ پاکستان ترقی کی منازل طے کر سکے جبکہ دوسری جانب مروجہ قوانین ( گو کہ ان میں بہت سی خامیاں اور لوپ ہولز موجود ہیں ) پر من و عن عملدرآمد کیا اور کروایا جانا چاہیئے۔

عارف شاہین صاحب اورعلی عمران صاحب کو ایڈیشنل سیکریٹری گریڈ 19 سے اسپیشل سیکریٹری گریڈ 20 ،طارق محمود صاحب کو AAA گریڈ 18 سے ڈائریکٹر آئ ٹی گریڈ 19، حافط خورشید صاحب کو پرائیویٹ سیکریٹری گریڈ 18 سے سٹاف افسر گریڈ 19 ، نوید اسلم صاحب کو سینئراسٹیٹ افسر گریڈ 18 سے ایڈیشنل سیکریٹری گریڈ 19، غلام معین الدین ، عامرحبیب ، اور فیض الباسط صاحبان کو ڈپٹی سیکریٹری گریڈ 18 سے ایڈیشنل سیکریٹری گریڈ 19، سجاد صدیقی صاحب کو ڈپٹی ڈائیریکٹر گریڈ 18 سے ڈائیریکٹر گریڈ 19 میں ترقی دے دی گئی۔

فیصل بٹر صاحب، تہمینہ تابش صاحبہ، نعیم اختر صاحب، اور رائے سلیم صاحب کو اسسٹنٹ سیکریٹری گریڈ 17 سے ڈپٹی سیکریٹری گریڈ 18 میں ترقی دے دی گئ۔ سلطان احمد صاحب سینئر ٹرانسلیٹر گریڈ 17 کو ڈپٹی ڈائیریکٹر گریڈ 18 جبکہ خالد محمود صاحب سینئر ٹرانسلیٹر گریڈ 17 کو ڈپٹی سیکریٹری گریڈ 18 میں ترقی دے دی گئ۔ جبکہ دیگر ترقی پانے والوں میں رائے مظہر صاحب، عادل شہزاد صاحب، عبدالصمدصاحب، عدنان ریاض صاحب، عبدالقہارصاحب، محمد جمیل صاحب ، عظیم بٹ صاحب، منور صاحب، مصطفی صاحب، اشفاق صاحب، اور محسن نور صاحب شامل ہیں۔

جب ایک عام آدمی قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس سے اس جگہ پر موجود چند ایک افراد متاثر ہوتے ہیں ۔ جب ایک قانون کا رکھوالا قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس سے لوگوں کا قانون پر سے اعتماد اٹھ جاتا ہے اور عوام الناس قانون کی پاسداری سے منحرف ہونے لگ جاتی ہے لیکن جب ایک قانون بنانے والا جس کے ذمہ معاشرہ کی رہبری کی اہم ترین ذمہ داری ہوتی ہے قانون کی دھجیاں اڑاتا پایا جاتا ہے اور قانون کو کسی خاطر میں نہیں لاتا تو یہ عمل معاشرہ کی تباہی پر مہرتصدیق ثبت کر دیتا ہے۔ بجائے اس کے کہ ہمارے آئینی اداروں میں بیٹھے بڑے اعلی معاشرتی اقدار کا نمونہ بنیں وہ تو خود اس جستجو میں ہیں کہ کیسے اپنے منظور نظر خواتین و حضرات کو نوازنا ہے۔ اب ہر جگہ تو چیف جسٹس نوٹس نہیں لے سکتے اور نہ ہی نیب پہنچ سکتاہے۔ کچھ تو ہمیں خود بھی آئینہ دیکھنا ہو گا۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی مقالات خبریں
اہم ترین مقالات خبریں
اہم ترین خبریں