سندھ اور بلوچستان اسمبلیوں کے نومنتخب ارکان نے بھی ایوان کی رکنیت کا حلف اٹھالیا/ بلوچستان میں سیاسی اتار چڑھاؤ

قومی اور خیبر پختونخوا کے بعد سندھ اور بلوچستان اسمبلیوں کے نومنتخب ارکان نے بھی ایوان کی رکنیت کا حلف اٹھالیا ہے۔

سندھ اور بلوچستان اسمبلیوں کے نومنتخب ارکان نے بھی ایوان کی رکنیت کا حلف اٹھالیا/ بلوچستان میں سیاسی اتار چڑھاؤ

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق اسپیکر آغا سراج درانی کی سربراہی میں سندھ اسمبلی کا پہلا اجلاس ہوا، کارروائی کے باقاعدہ آغازپرانہوں نے نومنتخب ارکان سے حلف لیا۔ 55 ارکان نے اردوجب کہ بعض نے سندھ اورانگریزی زبان میں حلف لیا۔ اس موقع پرمہمانوں کی گیلری میں شدید نعرے بازی ہوئی۔

اجلاس کے آغازپراسپیکر آغا سراج درانی نے کہا کہ وہ تمام نومنتخب ارکان کو ایوان میں خوش آمدید کہتے ہیں۔ اسی اسمبلی نے پاکستان کے قیام کے لیے قرارداد منظور کی تھی۔ یہی وہ اسمبلی ہے جس میں قائداعظم محمد علی جناح نے گورنر جنرل کا حلف لیا۔

واضح رہے کہ سندھ اسمبلی میں اس مرتبہ بھی پیپلزپارٹی واحد اکثریتی جماعت ہے۔

دوسری جانب بلوچستان اسمبلی میں بھی آج اجلاس منعقد کیا گیا جس میں صوبے سے نومنتخب اراکین نے حلف اٹھایا۔

اسپیکر بلوچستان اسمبلی راحیلہ حمید درانی نے نو منتخب اراکین اسمبلی سے حلف لیا۔

25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں نئی وجود میں آنے والی سیاسی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) صوبے میں سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے۔

بی اے پی کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہیں اسمبلی میں اکثریت حاصل ہوگئی ہے اور وہ صوبے میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے۔

خیال رہے کہ بی اے پی کو صوبے میں اتحادی حکومت بنانے کے لیے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حمایت کے بعد سادہ اکثریت حاصل ہوگئی تھی۔

مزید پڑھیں: جام کمال کو وزیراعلیٰ بلوچستان نامزد کرنے پر بی اے پی میں اختلافات

خیال رہے کہ بی اے پی کو بلوچستان اسمبلی کی 50 عام نشستوں میں اپنی جماعت کے اراکین سمیت کل 30 اراکین کی حمایت حاصل ہے۔

بی اے پی کی جانب سے متفقہ طور پر پارٹی سربراہ جام کمال کو نئے وزیرِ اعلیٰ بلوچستان نامزد کیا گیا تھا۔

جام کمال کو وزیرِ اعلیٰ نامزد کرنے کے بعد پارٹی میں اختلافات سامنے آگئے تھے جنہیں بہت جلد ختم کرلیا گیا۔

بلوچستان میں سیاسی اتار چڑھاؤ

یاد رہے کہ بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کے ناراض اراکین نے گزشتہ حکومت کے دوران ہی ہم خیال گروپ ترتیب دے دیا تھا اور صوبے سے مسلم لیگ (ن) کی حکمرانی ختم کردی تھی۔

بعدِ ازاں ہم خیال گروپ نے جام کمال کی سربراہی میں بلوچستان عوامی پارٹی کے نام سے ایک سیاسی جماعت بنائی جس کے پلیٹ فارم سے 2018 کے الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔

25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں بی اے پی صوبے کی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری اور صوبائی اسمبلی کی 15 عام نشستوں پر کامیاب ہوگئی۔

صوبے میں متحدہ مجلسِ عمل (ایم ایم اے) اور بلوچستان عوامی پارٹی (بی این پی مینگل) 7، 7 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھیں۔

حیرت انگیز طور پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے بھی بلوچستان میں اپنے قدم رکھتے ہوئے 6 نشستیں حاصل کیں۔

دیگر جماعتوں میں عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے پاس 3، بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی عوامی) کے پاس 2، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی (ایچ ڈی پی) کے پاس 2 اور جمہوری وطن پارٹی، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پاس ایک ایک نشست تھی جبکہ 5 آزاد امیدوار بھی انتخابات میں کامیاب ہوئے تھے۔

تاہم خواتین کی مخصوص اور اقلیتی نشستوں کے بعد بی اے پی کی نشستوں کی تعداد 20، ایم ایم اے اور بی این پی مینگل کی 10، 10، پی ٹی آئی کی 7 اور اے این پی کی 4 ہوگئی۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی پاکستان خبریں
اہم ترین پاکستان خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری