جنوبی امریکا میں بم کی اطلاعات پر 3 طیاروں کی ہنگامی لینڈنگ

جنوبی امریکا کے فضائی حکام کو متعدد طیاروں میں بم کی موجودگی کی اطلاعات موصول ہوئیں جس کے نتیجے میں پیرو میں آنے والی پرواز کو ہنگامی طور پر لینڈ کروادیا گیا جبکہ 2 پروازوں کو واپس چلی ایئرپورٹ کی جانب بھیج دیا گیا۔

جنوبی امریکا میں بم کی اطلاعات پر 3 طیاروں کی ہنگامی لینڈنگ

 خبر رساں ادارے تسنیم  کے مطابق جنوبی امریکا کی سب سے بڑی ایئرلائن ’لاتم‘ کی پرواز مسافروں کو پیرو کے دارالحکومت لیما سے چلی کے شہر سانتیاگیو لارہی تھی جسے بم کی اطلاعات کے بعد ہنگامی طور پر پیرو کے جنوبی شہر پسکو میں بحفاظت اتارا گیا۔

حکام کے مطابق غلط اطلاعات کے باعث مجموعی طور پر 9 پروازیں ہنگامی طور پر متاثر ہوئیں۔چلی کی سول ایوی ایشن ایجنسی کے مطابق 3 طیاروں کا اچھی طرح معائنہ کیا گیا تاہم جہازوں میں کوئی دھماکا خیز مواد موجود نہیں تھا جبکہ دھمکیوں کے بارے میں فوری طور پر کسی تفصیلات سے بھی آگاہ نہیں کیا گیا تاہم یہ صرف یہ بتایا گیا کہ دھمکی آمیز فون کالز موصول ہوئی تھیں۔

دیگر غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق چلی کے فضائی حکام کی جانب سے جاری کیے گئے الرٹ نے 9 پروازیں اپنا روٹ اور شیڈول تبدیل کرنے پر مجبور ہوئیں۔

متاثرہ پروازوں میں سے 2 طیارے لاتم نامی فضائی کمپنی کے تھے جبکہ 3 چلی کی اسکائی نامی ایئر لائن کی ملکیت تھے، بعد ازاں جانچ پڑتال کے بعد تمام پروازوں کو کلیئر قرار دے دیا گیا اور ایک جہاز کو فضائی سفر کی اجازت بھی دے دی گئی۔

اس ضمن میں لاتم کے ذرائع نے بتایا کہ بم کی دھمکیوں سے اس کی 2 پروازیں متاثر ہوئیں، جس کے باعث مسافروں کو دیگر طیاروں میں منتقل کیا گیا تاہم حکام کو ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جس کے باعث مسافروں کی جانوں کو خطرہ ہو۔

اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے چلی کی سول ایوی ایشن کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ مجموعی طور پر بم کی 11 اطلاعات موصول ہوئیں، جس میں سے 2 خودساختہ تھیں جبکہ بقیہ 9 اسی کا تسلسل تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام پروازوں کو دھماکا خیز مواد سے پاک قرار دیا جاچکا ہے اور ایک طیارے کو پرواز کی جازت دی جاچکی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ دھمکی آمیز کال لاتم ایئرلائن کے دفتر میں موصول ہوئی، جس کے بعد فضائی حکام اور پولیس اس کال کا سراغ لگانے کی کوششیں کررہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا ہمارے پاس ایک یا 2 بھولے گئے سوٹ کیس ہمیشہ موجود ہوتے ہیں، یہ ایک عام سی بات ہے، لیکن بم کی دھمکی ملنے کا یہ معاملہ بالکل الگ نوعیت کا تھا۔

مربوط خبریں
سب سے زیادہ دیکھی گئی دنیا خبریں
اہم ترین دنیا خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری