دیہی آبادی کی شہروں کی جانب منتقلی سے مسائل میں اضافہ


کراچی: پاکستان میں رہائشی سہولیات کی دستیابی کے حوالے سے مرتب کردہ تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں دیہی علاقوں سے شہروں کی طرف منتقلی بے پناہ بڑھ چکی ہے، جس کے سبب مسائل میں اضافہ ہورہا ہے۔

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق حکومت کی جانب سے اس مسئلے پر کوئی منصوبہ بندی دیکھنے میں نہیں آئی، جبکہ سیاسی جماعتیں بھی عوام کو چھت فراہم کرنے کے سیاسی وعدے پورے کرنے میں ناکام ہوچکی ہیں۔

یونیورسٹی کالج لندن کے تحت ایشیئن کولیشن آف ہاؤسنگ رائٹس کے لیے تحقیقی رپورٹ 2 محققین عارف حسن اور حمزہ عارف نے مشترکہ طور پرتیار کی۔

رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ 2017 کی مردم شماری کے مطابق ملکی آبادی 2.4 فیصد فی برس کے اعتبار سے بڑھ کر 20 کروڑ 77 لاکھ ہوچکی ہے، جبکہ شہری آبادی میں 2.7 کی شرح سے اضافہ دیکھنے میں آیا جو تقریباً 7 کروڑ 55 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے شہری علاقوں خاص طور پر کراچی اور دیگر بڑے شہروں میں پہلی مرتبہ فٹ پاتھوں، چورنگیوں، کھلے ہوٹلوں اور پلوں کے نیچے کھُلے آسمان تلے لوگ کو سوتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔

رپورٹ میں اس بات پر مایوسی کا اظہار کیا گیا کہ حکومت ان افراد کو سر پر چھت فراہم کرنے میں ناکام رہی جس کی وجہ سے وہ لوگ کچی آبادیوں میں جا کر مقیم ہوجاتے ہیں، کیوں کہ جگہ کی کمی، مہنگائی میں اضافہ گنجائش کے نہ ہونے کے سبب شہر کے وسط میں رہائش اختیار کرنا مشکل ہے۔

سیاسی جماعتوں کے کھوکھلے وعدوں کا ذکر کرتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا کہ ماسوائے ٹھیکیداروں کو قرضوں کی فراہمی، اس پر لاگو ٹیکس میں کمی اور کچی آبادی کو ریگولزائز کرنے علاوہ پالیسی کے مطابق بہت کم سفارشات پر عمل کیا گیا۔

رپورٹ میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ شہروں کی توسیع کے سبب قیمتی زرعی رقبہ سکڑ رہا ہے، جس کے باعث شہروں کی ماحولیات کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے، جبکہ پانی کے ذخائر میں کمی اور اس میں آلودگی میں اضافہ ہورہا ہے۔

اس کے علاوہ بڑھتی ہوئی کچی آبادیوں کے سبب جغرافیائی صورتحال، جنگلات اور پانی کا قدرتی بہاؤ بھی تباہ ہورہا ہے۔

تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ ان وجوہات کی بنا پر سیلاب کی آمد اور درجہ حرارت میں اضافہ ہورہا ہے، خاص کر گنجان آباد علاقے اس سے سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں ، اور اگر اس معاملے پر توجہ نہیں دی گئی تو ماحولیات کو مزید نقصان پہنچنے کا امکان ہے۔

رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا کہ عدالتوں کی جانب سے کم آمدنی والے طبقے کے لیے گھروں کی کمی ، غیر قانونی آبادکاری کے خاتمے اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں بدعنوانی کےمسائل کا نوٹس لیے جانے میں اضافہ ہوا ہے۔

اس کے علاوہ عدالتوں نے پانی کی قلت، اور صفائی ستھرائی کی صورتحال کا نوٹس لے کے اس پر خصوصی ٹریبونیل بھی قائم کیے ہیں، تاہم عدالتیں اس ضمن میں کوئی موثر اقدامات کرنے میں ناکام رہیں۔

رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اکادمی اداروں اور سول سوسائٹی کی حمایت سے شہری علاقوں میں منتقلی کے خلاف تحریک کا آغاز کر کے اس تشویشناک صورتحال پر سیاسی حکام اور عدالتوں کی توجہ مبذول کروائی جائے تا کہ اس ضمن میں قوانین پر عمل درآمد ہوسکے۔