دہشت گروں کی مالی معاونت روکنے کیلئے پاکستانی نظام میں خامیوں کاانکشاف

اسلام آباد: ایشیا پیسِفک گروپ (اے پی جی) کے 6 رکنی وفد نے منی لانڈرنگ اوردہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف عالمی میعار کے مطابق اقدامات کرنے میں پاکستان کے نظام، قانون اور اداروں میں خامیوں کی نشاندہی کی ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔

دہشت گروں کی مالی معاونت روکنے کیلئے پاکستانی نظام میں خامیوں کاانکشاف

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق حکام سے ہونے والی ملاقات میں وفد نے غیر سرکاری خیراتی تنظیموں کی نگرانی کرنے والے قانونی طریقہ کار، اس سے فائدہ اٹھانے والوں کے نظام میں شفافیت اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام کے لیے مشتبہ لین دین پر نظر رکھنے کے سلسلے میں خامیوں کا تذکرہ کیا۔

واضح رہے کہ اے پی جی اپنی رپورٹ پیرس میں موجود فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے سامنے پیش کرے گا۔

اس ضمن میں حکومت اور اے پی جی کی جانب سے 16 اگست کو اختتام پذیر ہونے والی 3 روز تک ہونے والی ملاقات کے باوجود کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا جبکہ مذکورہ ملاقاتوں میں شامل حکام نے اس معاملے پر بات کرنے سے بھی انکار کردیا۔

وفد نے حکام کو خامیوں سے آگاہ کرتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ فنانشل مانیٹرنگ یونٹ(ایف ایم یو)، نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) اور مقامی اداروں مثلاً پولیس کو منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام کے سلسلے میں تربیت کی بہت زیادہ ضرورت ہے تا کہ ایف اے ٹی ایف کو مطمئن کرنے کے لیے پاکستان کے وعدے کےمطابق 10 نکاتی ایکشن پلان پر عمل کیا جاسکے۔

اس کے علاوہ وفد نے دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے، غیر قانونی اور مشتبہ اثاثوں کا منجمد کرنے کی غیر ملکی درخواستوں پر عمل درآمد کے لیے حکام کو اداروں اور انسانی وسائل کو بہتر بنانے کے لیے بھی کہا۔

اس کے علاوہ ایف اے ٹی ایف کے رکن ممالک کی جانب سے دہشت گردوں کو مالی معاونت فراہم کرنے والے اور منی لانڈرنگ میں ملوث افراد کی حوالگی کے لیے باہمی قانونی معاونت کومضبوط کرنے کی بھی تجویز دی گئی۔

اس سلسلے میں مذاکرات میں شامل ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ ملاقات میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی مختلف اداروں کے عہدیداروں کی تربیت ، قوانین کو بہتر بنانے اور نظام کو مضبوط کرنے کے لیے طویل عرصہ درکار ہے۔

ذرائع کے مطابق ان ملاقاتوں میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان، ایف ایم یو، نیکٹا، ایف آئی اے، ایف بی آر ، ایس ای سی پی سمیت وزارت قانون، خزانہ، داخلہ اور خارجہ کے عہدیداروں نے بھی شرکت کی۔

خیال رہے کہ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے اور منی لانڈرنگ کے خلاف 10 نکاتی ایکشن پلان پر عمل درآمد کا وعدہ کیا تھا اور اسے آئندہ برس ستمبر تک اس ضمن میں خاطر خواہ اقدامات کرنے ہیں جس میں ناکامی کی صورت میں پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈال دیا جائے گا۔

مربوط خبریں
سب سے زیادہ دیکھی گئی پاکستان خبریں
اہم ترین پاکستان خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری