چترال کا جنت نظیرعلاقہ پانی کی قلت سے صحرا میں تبدیل


چترال: خیبرپختونخواہ کے ضلع چترال کا خوبصورت علاقہ موری لشٹ پانی کی قلت کے سبب ان دنوں کسی ریگستان کا منظر پیش کررہا ہے، علاقے کے دو ہزار مکین نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق چترال سے بونی جاتے وقت قدرے اونچائی پر واقع موری لشٹ کا علاقہ جو کسی زمانے میں انواع و اقسام کے پھلوں سے لدے درختوں کے سبب جنت کا منظر پیش کرتا تھا ، پچھلے کچھ عرصہ سے لق دق ریگستان کی طرح خشک پڑا ہے۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ ان کے علاقے کی جانب آنے والا پانی دوسرے علاقوں کی جانب موڑ دیا گیا ہے جبکہ یہاں آب رسانی کے لیے کوئی لائن بھی نہیں بچھائی گئی جس کے سبب یہاں کے ندی نالے اب خشک پڑے ہیں، ، پھلوں کے باغات خشک ہونے لگے ہیں اور انار، سیب، ناشپاتی ، آڑو، انگور پکنے سے پہلے خشک ہوکر گر رہے ہیں۔

مکینوں کے مطابق فصل اور پھل ہی اس علاقے کے مکینوں کا کمائی کا واحد ذریعہ معاش تھا، ساتھ ہی ساتھ علاقے کے لوگ کھیتی باڑی کےعلاوہ مال مویشی بھی پالتے تھے مگر اب پانی نہ ہونے کی وجہ سے یہ لوگ اپنے مال مویشی فروخت کرنے پر مجبو ر ہیں۔

علاقے کے معروف سیاسی ، مذہبی اور سماجی کارکن اخونزادہ رحمت اللہ کا کہنا ہے کہ پہلے یہاں بہترین قسم کا انار اور سیب ہوا کرتا تھا اب اس سال پانی نہ ہونے کی وجہ سے انار بھی خشک ہوگئے اور سیب وقت سے پہلے گر رہے ہیں جبکہ پھل دار درخت خشک ہورہے ہیں یہاں کے ندی نالیاں خشک پڑی ہیں اور یہ علاقہ جو ماضی میں جنت کا منظر پیش کرتا تھا اب لق دق ریگستان بنا ہوا ہے اور پورا علاقہ بنجر ہے ۔انہوں نے حکومتی اداروں سے مطالبہ کیا کہ تین کلومیٹر کے فاصلے پر موجود پانی کے ذخائر سے ان کے لیے پائپ لائن کے ذریعے یا نہر بنا کر پانی لائے جائے تاکہ ان کو پینے کے ساتھ ساتھ آب پاشی کے لیے بھی پانی فراہم ہوسکے اور لوگ نقل مکانی پر مجبور نہ ہو۔

علاقے کے مکینوں نے شکایت کی کہ پہلے اس علاقے میں وافر مقدار میں پانی آتا تھا مگر چترال کے محکمہ آب پاشی ایک ایکٹنگ ایگزیکٹیو انجینئر نے رشتہ داری اور خاندانی بنیاد پر دوسرے لوگوں کو ان کا پانی فراہم کیا اور ان کو محروم رکھا جس کی وجہ سے ان کی نہایت ذرخیز زمین بنجر ہوگئی اور فصلیں تلف ہوکر خشک ہوگئی ہیں۔ دوسری جانب محکمہ آب پاشی کے ذمہ دار افراد نے اس حوالے سے بات کرنے سے گریز کیا۔