خصوصی انٹرویو | پاک ایران ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں، بڑے دینی مراکز کے درمیان مضبوط رابطے کی ضرورت ہے، محمد نور الحق قادری

وفاقی وزیر برائے مذہبی امور وبین المذاہب ہم آہنگی پیر ڈاکٹر محمد نورالحق قادری نے اس عزم کااظہار کیا ہے کہ کپتان کے ویژن کو آگے بڑھانے کے لئے انتھک محنت کریں گے ۔

خصوصی انٹرویو | پاک ایران ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں، بڑے دینی مراکز کے درمیان مضبوط رابطے کی ضرورت ہے، محمد نور الحق قادری

 وزارت کا چارج سبنھالنے کے بعد تسنیم نیوز کے ساتھ اپنے پہلے خصوصی انٹر ویو میں ان کا کہنا تھا کہ میرا آج آفس میں پہلا دن ہے منسٹری کے آفیسر صاحبان کے ساتھ مختصر ملاقات ہوئی ہے انشاء اللہ پرائم منسٹر کاوژن جسے گزشتہ روز ا نہوں نے اپنے خطاب میں بھی واضح کیا ہے، ہم اس وژن کو آگے بڑھائینگے اور اس کو آگے بڑھانے میں اس وزارت کا انتہائی اہم کردار ہے، ضرورت محسوس کی جار ہی ہے حکمران طبقے اور مذہبی طبقے کے درمیان اعتماد اور رابطے کا فقدان ہے۔ اس فقدان کو ہر صورت ختم کرنا ہے اور ایک پل کا کردار ادا کرنا ہے، مذہبی تہواروں، حج و عمرہ ، زیاراتِ مقاماتِ مقدسہ کے حوالے سے مسائل حل کریں گے اور سہولتیں دینگے، حکومت کی توقعات پر پورا اتریں گے-

وفاقی وزیر نے کہا کہ اصلاحات کا پروگرام جاری رہے گا اور اس پر عمل پیرا ہوں گے مختلف مسالک کے مابین ہم آہنگی اور بھائی چارے کے فروغ کے لئے بہت سے اقدامات اٹھائے جا چکے ہیں ’’پیام پاکستان‘‘ فتویٰ جس پر اٹھارہ سو علماء کرام نے دستخط کیے ہیں بین المسالک ہم آہنگی کے لئے ایک بڑی کاوش اور کوشش ہے۔ اس کے علاوہ علمی اور دینی مراجع اور مراکز ،الاظہرشریف، مدینہ منورہ کی یونیورسٹی قم المقدسہ اور نجف الاشرف کے حوزہ علمیہ اور جتنے بھی دیگر علمی مراکز ہیں ان کے درمیان ایک مضبوط رابطہ قائم کرنے کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔ لوگ اپنے علمی اور دینی معاملات میں وہاں رجوع کرتے ہیں اور جب آپ خود ان سے رابطے کرتے ہیں تو وہ اتفاق، وحدت اور بھائی چارے کا پیغام دیتے ہیں اتحاد امت کا پیغام دینے ہیں اوپر کی سطح پر یہ جذبات پائے جاتے ہیں تا ہم بد قسمتی سے نیچے کی سطح پر اس طرح کا اتحاد و اتفاق نہیں پایا جاتا ہماری کوشش ہو گی کہ وحدت اور اتحاد امت کے پیغام کو عوامی سطح تک فروغ دیں اور تمام مکاتب فکر کے علما اور مشائخ اس پر من و عن عمل کریں ایران کا پاکستان کے بغیر اور پاکستان کا اسلامی جمہوریہ ایران کے بغیر چارہ نہیں ہے اور دونوں ممالک کے درمیان پڑوسی ہونے کے ناطے ایک خطے کے ہونے کے ناطے اورسب سے بڑھ کر جو ہمارے دین اور عقیدہ کے روابط ہیں ان تعلقات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کچھ اگر غلط فہمیاں ہیں تو اس کا ازالہ ضروری ہے اور حکومت کا حکومت کے ساتھ قوم کا قوم کے ساتھ علماء ، مشائح اور دینی طبقات کے دینی طبقات کے ساتھ سکالر اور دانشوروں کا وہاں کے دانشوروں کے ساتھ، تعلیمی اداروں کا وہاں کے تعلیمی اداروں کے ساتھ ایک منظم تعلق اور رابطہ دونوں ممالک کے بھی فائدے میں ہے اور امت مسلمہ کے بھی فائدے میں ہے۔

بین المذاہب ہم آہنگی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیربرائے مذہبی امور پیر نورالحق قادری کا کہنا تھا کہ غیر مسلم چونکہ ہمارے دوست اور بھائی ہیں اور اس وزارت کا حصہ ہیں۔

ہم انہیں اقلیت نہیں کہتے چونکہ اقلیت کہنے سے شاہد ان کی عزت نفس مجروح ہو جائے وہ ہمارے بھائی ہیں اس ملک کا حصہ ہیں اور تمام آئینی اور قانونی حقوق جو کسی پاکستانی کے ہیں ان کے بھی ہیں ہم ان کے ساتھ رابطے میں رہیں گے ان کے حقوق دلانے کے لئے بھر پور کوشش کرینگے اور ان کو اہمیت کا احساس دلائیں گے-

(نوید نقوی/ خصوصی انٹرویو/ تسنیم نیوز ایجنسی اسلام آباد)

 

 

مربوط خبریں
سب سے زیادہ دیکھی گئی انٹرویو خبریں
اہم ترین انٹرویو خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری