سیکورٹی ایجنسیوں کی جانب سے اور عوام کو زحمت سے بچانے کیلئے ہیلی کاپٹر استعمال کیا،وزیر اعظم عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سیکورٹی ایجنسیوں کی جانب سے مجھےالرٹ جاری کیا گیا ہےکہ پاکستان کے دشمنوں نے سازشیں تیار کرلی ہیں ، اس وجہ سے وہ زمینی سفر نہیں کرسکتے اور اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ بنی گالہ اور وزیر اعظم ہائوس کے درمیان سفر کیلئے ہیلی کاپٹر کا استعمال کرتےہیں_

سیکورٹی ایجنسیوں کی جانب سے اور عوام کو زحمت سے بچانے کیلئے ہیلی کاپٹر استعمال کیا،وزیر اعظم عمران خان

خبررساں تسنیم ادارے کی رپورٹ کے مطابق،وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اسکے علاوہ انہوں نے عوام کو زحمت سے بچانے کے لیےبھی ہیلی کاپٹر کا استعمال کیا،کڑا احتساب ہوگا تو لوگ شور مچائینگے، میڈیا ہمارا ساتھ دے،بزدار کوکارکردگی کے لحاظ سے شہباز شریف سے زیادہ بہتر پائینگے،ملک میں تبدیلی نظر آئےگی- احتساب ہونے تک ملک ترقی نہیں کر سکتا، چیئرمین نیب کو کہہ دیا ہے حکومتی رکن بھی کرپشن میں ملوث ہو تو کارروائی کریں، ملکی مفاد کے خلاف ہونے والے معاہدے منسوخ کرینگے،سی پیک اور ایل این جی کا جائزہ لے رہے ہیں، امریکا نے بات کرنی ہے تو عزت سے کرے، جنرل اسمبلی کے اجلاس میں جا کر 4دن ضائع نہیں کرنا چاہتا، اپنا زیادہ تر وقت ملک کے اندرونی معاملات پرصرف کرنا چاہتا ہوں، ،،عوام کو مایوس نہیں کرینگے، کابینہ کا کوئی رکن مستقل نہیں ، کارکردگی کی بنیاد پر تبدیلیاں ہوں گی،معاشی صورحال کاتفصیلی جائزہ لے کر آئی ایم ایف یا ملٹی نیشنل ڈونرز سے رجوع کرنے کا فیصلہ کرینگے۔جمعہ کو وزیراعظم عمرانخان نے ٹی وی اینکرز سے ملاقات میں کہا کہ تنقید ضرور کریں گھبراتا نہیں بلکہ تنقید سے مسائل حل کرنے میں مدد ملتی ہے، چیئرمین نیب کو کہا ہے کہ بلاامتیاز احتساب کیا جائے، جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال سے کہا کہ حکومتی رکن بھی کرپشن میں ملوث ہو تو کارروائی کریں،پاکستان میں کوئی سفارش نہیں چلے گی۔

عمران خان نے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی کھل کر حمایت کرتے ہوئے کہاکہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار بہت دلیر آدمی ہیں، تنقید ضرور کریں، گھبراتا نہیں بلکہ تنقید سے ہی مسائل حل کرنے میں مدد ملتی ہے تاہم وزیراعلیٰ پنجاب کو کام کے لیے 3 ماہ کا وقت دیں پھر کار کر دگی پر تنقید کریں،آپ بزدار کوکارکردگی کے لحاظ سے شہباز شریف سے زیادہ بہتر پائینگے،ملک میں تبدیلی نظر آئےگی، عوام کو مایوس نہیں کرینگے۔ہیلی کاپٹر کے استعمال کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے وضاحت کی کہ عوام کو زحمت سے بچانے کے لیے ہیلی کاپٹر کا استعمال کیا۔پاک امریکا تعلقات کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ امریکا کی کوئی غلط بات نہیں مانی جائے گی، امریکا سے لڑ نہیں سکتےان سے تعلقات بہتر کریں گے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ امریکا کے حوالے سے وہ اپنے مؤقف پر اب بھی قائم ہیں اور اگر امریکا نے بات کرنی ہے تو عزت سے کرے،وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ملکی مفاد کے خلاف ہونے والے معاہدے منسوخ کریں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ جی ایچ کیو کا دورہ اچھا رہا، دورے میں کہا گیا کہ ادارہ آپ کے پیچھے ہے۔انہوں نے کہا کہ سابق حکمرانوں نے غیر ملکی دوروں پر اربوں روپے خرچ کیے، ماضی میں حکمران بلٹ پروف گاڑیاں استعمال کرتے تھے، پاکستان کو فائدہ ہوا تو پھر غیر ملکی دورہ کروں گا۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوںنے کہاکہ ڈی پی او پاکپتن سے متعلق حقائق سپریم کورٹ میں آ جائیں گے۔ایک سوال پر انہوںنے کہاکہ ہم اوورسیز پاکستانیوں سے پیسہ اکٹھا کرنے کیلئے مہم شروع کریں گے۔صدارتی انتخابات کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن انتہائی کمزور ہے، تحریک انصاف کو ان سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔وزیر اعظم نے کہاکہ کرپشن کیسز چلانے پر شور مچے گا لہٰذا اس پر میڈیا کا ساتھ چاہیے ہوگا اور ان کیسز میں جو بھی پکڑا گیا میڈیا اس میں کسی پروپیگنڈے کا حصہ نہ بنے۔انہوں نے کہا کہ اپنا وژن آگے لیکر بڑھوں گا، عوامی منصوبے شروع کریں گے اور پاکستان میں پیسہ واپس لانے کیلئے اقدامات کروں گا جبکہ ہمارے اندرونی حالات ایسے نہیں کہ غیرملکی دورے کروں۔

وزیراعظم نے کہا کہ بھارت سے اچھے تعلقات قائم کرنے کی کوشش کررہے ہیں تاہم بھارت کی جانب سے مثبت ردعمل نہیں آیا جب کہ نوجوت سدھو کو بلانے کا مقصد بھی یہی تھا کہ وہ واپس جا کر لوگوں کو اعتماد میں لیں۔انہوں نے کہا کہ ہم ایسے اقدامات کریں گے جس سے حکومت کے مزید اخراجات کم ہوں گے جب کہ کفایت شعاری مہم کے تحت گاڑیوں کی نیلامی کریں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ میرے اوپر کسی قسم کا اور کسی بھی ادارے کی طرف سے کوئی دباؤ نہیں ، ہم فوج کے ساتھ مل کر آئین کے مطابق کام کررہے ہیں۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں جانے سے متعلق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وہاں جا کر 4دن ضائع نہیں کرنا چاہتا۔عمران خان نے واضح کیاکہ خارجہ پالیسی صرف دفتر خارجہ میںہی تشکیل دی جائےگی اور تمام ادارے اسکی پیروی کرینگے۔عمران خان نے اصرار کیا کہ امریکی وزیر خارجہ پومپیو کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو میں دہشتگردوں کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی۔ عمران خان نے کہا کہ انہیں ملک وینٹی لیٹر پر ملا، حکومت ملکی معاشی صورحال کاتفصیلی جائزہ لے کرآئندہ کچھ دنوں میں آئی ایم ایف یا ملٹی نیشنل ڈونرز سے رجوع کرنے کے حوالے سے فیصلہ لے گی ، اسکے علاوہ بانڈز کے اجرا پر بھی غور کیا جارہا ہے۔

عمران خان نے واضح کیا کہ ان کی کابینہ کا کوئی بھی رکن مستقل نہیں اور کارکردگی کی بنیاد پر تبدیلیاں ہوسکتی ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت جنوبی پنجاب صوبہ بنانےکیلئے اپوزیشن کو آن بورڈ لینے کےلئے تیار ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے اعلان کیا کہ وزیر اعظم ہائوس اسلام آباد جلد ایک ریسرچ یونیورسٹی میں تبدیل کردیاجائیگا۔

مربوط خبریں
سب سے زیادہ دیکھی گئی پاکستان خبریں
اہم ترین پاکستان خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری