تحریر| مقبوضہ وادی میں بھارتی بربریت اور جرمانه خاموشی

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت و بربریت بے قابو ہوتی جا رہی ہے۔ قابض و غاصب فوج نے با نڈی پورہ میں تازہ کا ر روائی میں 2مزید نہتے کشمیریوں کو شہید کر دیا۔ نوجوانوں کی شہادت پر ضلع بھر میں ہڑتال اور مظاہرے جاری اور بھا ر ت نے مظالم کے پہاڑ توڑتے ہوئے مظاہرین پر بھی فائرنگ کر دی جس سے متعدد کشمیری زخمی ہو گئے۔

تحریر| مقبوضہ وادی میں بھارتی بربریت اور جرمانه خاموشی

خبررساں تسنیم ادارے کی رپورٹ کے مطابق،بھارتی فوج نے کشمیر ی رہنما سید صلا ح الدین کے شیرکشمیر انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں ملازم صاحبزادے شکیل کو دہشتگردی فنڈنگ مقدمہ میں گرفتار کرلیا جبکہ قابض انتظا میہ نے حریت رہنما میرواعظ عمر فاروق کو بھی گھر میں نظربند کردیا۔بھارتی فورسز نے سید صلاح الدین کے دوسرے بیٹے کو 2017میں گرفتار کیا تھا۔کٹھ پتلی انتظامیہ نے ضلع میں عوام کو ایک دوسرے سے رابطے سے روکنے کیلئے انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس معطل کردی جبکہ ٹرینیں بھی روک دی گئیں تاکہ بے گناہ نوجوانوں کی شہادت کے خلاف احتجاج نہ کیا جاسکے۔تمام تر پابندیوں اور قدغنوں کے باوجود کشمیری عوام بڑی تعداد میں گھروں سے نکل آئے اور بھارت کیخلاف شدید احتجاج کیا۔قابض افواج نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس کی شیلنگ کی اور لاٹھی چارج کیا۔ بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے کشمیری نظربندوں کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرنے اور جاری جدوجہد آزادی کی حمایت کرنے پر جموں کی امپھالہ جیل کے ڈپٹی جیل سپریٹنڈنٹ فیروز احمد لون اور اسحاق پالہ کو گرفتار کرلیا ہے۔این آئی اے کی جموں کی خصوصی عدالت نے اسحاق پالہ کو دس روزہ ریمانڈ پر دیدیا ہے۔

کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سیدعلی گیلانی نے کشمیری نظربندوں کے انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ضمیر کے ان قیدیوں کی ثابت قدمی پر انہیں سلام عقیدت پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کشمیری نظربندوں کوحق خودارادیت جیسے جمہوری اور سیاسی مطالبے پر قابض انتظامیہ اوربھارتی فورسز ذلت آمیز سلوک کا نشانہ بنارہی ہے۔حریت چیرمین سید علی گیلانی نے شہید ہوئے مجاہدین کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے جملہ شہدائے کشمیر کی عظیم قربانیوں کو تحریکی ورثہ قرار دیا۔ ان قربانیوں کا قرض چکانے کے لیے غیور کشمیری قوم پچھلے 71 برسوں سے بھارت کے جبری قبضے کے خلاف مصروف جدوجہد ہیں۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کی جنوبی ایشیا کیلیے ڈائریکٹر میناکشی گنگولی نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا بھارت اعتراف کرے۔ کشمیریوں کے مفادات کے لئے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنا ہو گا۔ بھارتی حکمران اس حقیقت کا اعتراف کریں کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیاں مسلسل جاری ہیں اور انھیں کشمیریوں کے مفادات کے تحفظ کیلئے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ بھارت اور پاکستان دونوں ہمسایہ ملکوں کے لیڈر اس بات کا احساس کریں کہ کشمیری ایک متنازع علاقے میں رہ رہے ہیں اور انھیں انسانی حقوق کی پامالیوں کا سامنا ہے۔بھارتی فورسز نے مقبوضہ کشمیر کے اطراف و اکناف خاص طور پر جنوبی اضلاع میں رات کے وقت گھروں پر چھاپوں، مکینوں کی مارپیٹ اور بیگناہ نوجوانوں کی گرفتار کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ضلع پلوامہ کے علاقے رہمو کے رہائشیوں کے مطابق بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی چیرہ دستیوں کی وجہ سے علاقے کے لوگوں کی زندگیاں اجیرن بن چکی ہیں۔ قابض اہلکاروں محاصروں اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران شہریوں کو بلا لحاظ جنس وعمر سخت مار پیٹ کا نشانہ بناتے ہیں اور قیمتی گھریلو اشیا کو توڑ پھوڑ کرتے ہیں۔

قابض اہلکار رات کے وقت گھروں پر چھاپے مار کر نوجوانوں کو پکڑ پکڑ کر جیلوں اور تفتیشی مراکز میں پہنچا دیتے ہیں۔ شہریوں نے کہا کہ علاقے کے نوجوان قابض اہلکاروں کی مارپیٹ اور گرفتاری سے بچنے کے لیے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں اور اکثر نوجوانوں راتیں گھروں سے باہر محفوظ مقامات پر گزارتے ہیں۔ایک سترہ سالہ نوجوان مدثر احمد نے کہا کہ وہ اور علاقے کے دیگر نوجوان بھارتی فورسز کی بہیمانہ کارروائیوں کی وجہ سے سخت مشکلات کی زندگی گزاررہے ہیں۔ بھارتی پولیس کے ہاتھوں گرفتار ی سے بچنے کے وہ دیگر نوجوانوں کے ہمراہ کئی راتیں گھروں سے باہر پھلوں کے باغات میں گزار چکا ہے۔کشمیر میں سات لاکھ کے قریب فوجی اور نیم فوجی دستوں کے اہلکار تعینات ہیں۔بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے بھارت مخالف مظاہروں کو دبانے کے لیے طاقت کے استعمال نے کشمیری نوجوانوں کے دلوں سے موت کا خوف نکال دیا ہے اور وہ موت کو گلے لگانے کے لیے تیار رہتے ہیں۔یہ بات بھارت میں ایک پانچ رکنی تحقیقاتی کمیشن کی طرف سے کشمیر کے بارے میں جاری کردہ رپورٹ میں کشمیر کی نوجوان نسل کی سوچ کی عکاسی کرتے ہوئے کہی گئی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کشمیریوں کا خیال ہے کہ بنیادی مسئلہ بھارت حکومت کی طرف سے اس بحران کا اعتراف نہ کرنا ہے۔ کشمیری سمجھتے ہیں کہ انڈیا کشمیر کو سیاسی مسئلہ تسلیم کرنے اور اس کے سیاسی حل پر تیار نہیں ہے۔

خبررساں تسنیم ادارے کی رپورٹ کے مطابق،2016 میں کشمیر میں عام لوگوں سے ملاقاتوں کے بعد یہ رپورٹ مرتب کرنے والے گروپ میں سابق وزیر خارجہ یشونت سنہا، اقلیتیوں کے قومی کمیشن کے سابق سربراہ وجاہت حبیب اللہ، بھارتی فضایہ کے ایئر واس مارشل (ریٹائرڈ) کپل کاک، معروف صحافی بھارت بھوشن اور سینٹر آف ڈائیلاگ اینڈ ریکنسیلیشن کے پروگرام ڈائریکٹر ششہوبا بریو شامل تھے۔اس گروپ نے 2016 میں کشمیر کے مختلاف علاقوں میں شدید مظاہروں اور سینکڑوں نوجوانوں کی ہلاکت کے واقعات کے بعد بٹگرام، شوپیاں، اننت ناگ اور بارہ مولہ کا دورہ کیا اور وہاں سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے گروپوں کے علاوہ پولیس اور انتظامیہ کے اہلکاروں سے بھی مسئلہ کشمیر کے بارے میں بات کی۔ اس کے علاوہ گروپ نے کشمیر کے سرکردہ سیاسی قائدین انجینئر رشید، سیف الدین سوز اور سابق وزیر اعلی ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے ساتھ نیشنل کانفرنس کے کئی ممبران سے بات کی۔گروپ نے رپورٹ کے بنیادی نتائج میں کہا کہ جتنے بھی کشمیریوں سے انھوں نے ملاقاتیں کئیں ان سب نے مسئلہ کے سیاسی حل پر زور دیا اور کہا کہ جب تک اس کا سیاس حل تلاش نہیں کر لیا جاتا وادی میں موت اور تباہی کا سلسلہ زیادہ شدت سے جاری رہے گا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ کشمیریوں کا کہنا ہے کہ بھارت پر ان کو اعتماد نہیں رہا اور بداعتمادی کی یہ خلیج بڑھتی جا رہی ہے۔ کچھ کشمیریوں کا خیال ہے کہ بھارت کی ریاست کشمیر کو صرف قومی سلامتی کے زوایے سے دیکھتی ہے۔

تمام کشمیری سابق وزیر اعظم اور بی جے پی کے رہنما اٹل بہاری واجپائی کی اس تجویز کو یاد کرتے ہیں کہ کشمیر کے مسئلہ کو انسانی ہمدری کے دائرے میں حل کیا جائے۔ لوگوں کو یقین ہے کہ دہلی کی موجودہ حکومت مسئلہ کے سیاسی حل میں دلچسپی نہیں رکھتی۔کشمیر کے نوجوانوں کے بارے میں جو کشمیر کی کل آبادی کا اڑسٹھ فیصد بنتے ہیں رپورٹ میں کہا کہ کشمیر کا نوجوان بے خوف اور شدید نا امیدی کا شکار ہے۔ایک نوجوان کا کہنا تھا کہ ’سب سے اچھی چیز جس کے ہم شکر گزار بھی ہیں وہ ہتھیاروں کا استعمال ہے جس میں پیلٹ گنیں شامل ہیں، جس نے ہمارا ڈر اور خوف نکال دیا ہے۔ ہم اب شہادتوں پر جشن مناتے ہیں۔

 

مربوط خبریں
سب سے زیادہ دیکھی گئی مقالات خبریں
اہم ترین مقالات خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری