فلسطینی مہاجرین کی امداد بند کرنا نہتے عوام پر امریکی حملہ ہے، محمود عباس


فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ مہاجرین کی امداد بند کرنا فلسطینی عوام پر حملہ ہے، امریکی اقدام قابل مذمت ہے، انہوں نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے خلاف ہے۔

تسنیم خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، امریکا کی جانب سے فلسطینی مہاجرین کی امداد بند کرنے کی صدر محمود عباس نے سختی سے مذمت کی ہے، فلسطینی صدر محمود عباس کے ترجمان نے امریکی اقدام کو فلسطینی عوام کے خلاف کھلا حملہ قرار دیا۔

ترجمان نے کہا ہے یہ فیصلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے خلاف ہے، محمود عباس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس قسم کی سزا سے یہ حقیقت نہیں بدلے گی کہ امریکا کا اب خطے میں کوئی کردار نہیں اور یہ کسی حل کا حصہ بھی نہیں ہے۔

واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے فلسطینی پناہ گزینوں کی کفالت پر مامور اقوام متحدہ کے ادارے ’اونروا‘ کی 6 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی امداد روک دی۔

اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی ’اونروا‘ کو امریکی امداد کی منسوخی کے بعد کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا کیوں کہ مذکورہ ایجنسی غزہ سمیت اردن، لبنان، شام اور غرب اردن میں واقع پناہ گزین کیمپوں میں مقیم لاکھوں فلسطینیوں کی کفالت پر مامور ہے۔

یاد رہے کہ اس کے بغیر امریکا کا پاکستان کی 30 کروڑڈالر کی امداد منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے_