خصوصی تحریر| پاک_ایران تعلقات، نئی حکومت کی ترجیح

پاکستان کے نو منتخب وزیراعظم عمران خان نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی خاص شہرت کے حامل ہیں، اگرچہ ان کی یہ شہرت اور مقبولیت بحیثیت ایک کھلاڑی تو ہے ہی، لیکن آج کل ان کا طرز حکومت اور خاص کر انقلابی اعلانات کے چرچے زبان زد عام ہیں۔

_صفدر عباس_

انتخابات جیتنے کے فورا بعد پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین نے مختصر خطاب میں اپنی خارجہ پالیسی کے چیدہ چیدہ نکات بیان کئے، جنھیں عالمی سطح  پر  بڑی پزیرائی ملی، جبکہ مختلف عالمی رہنماؤں کی جانب سے خیرمقدمی اور مبارک باد کے پیغاموں کا سلسلہ تاحال جاری ہے، ایران اور  سعودی عرب سمیت کئی عالمی رہنماوں نے نئی حکومت کو اپنے تعاون کی یقن دہائی کرائی ہے۔ 


پاکستان کے  مغربی پڑوسی ایران کے ساتھ ابتدا سے ہی  خاصے خوشگوار تعلقات قائم ہیں،   پاکستان اور ایران، دونوں دوست ملک اسلام کے لازاول بندھن میں جڑے ہوئے ہیں، دونوں کے درمیان ثقافتی، سیاسی، تجارتی اور معاشی تعلقات برسوں پر محیط ہیں، دونوں ملکوں کے درمیان بجلی اور گیس سمیت دیگر کئی معاہدے ہوئے ہیں، تجارتی سطح پر  کروڑوں ڈالر کا  لین دین بھی  جاری ہے، لیکن ان تعلقات میں وہ تیزی اور گرم جوشی کم ہی دکھائی دیتی ہے، جو دو پڑوسیوں کے درمیان ہونا چاہیئے، اگرچہ اس کی وجہ یقینا تجارتی رکاوٹیں،  اعتماد کا فقدان اور خارجی معاملات رہے ہوں گے، لیکن اب امید کی جارہی ہے کہ پاکستان میں نئی  قیادت کے بعد  نہ صرف دونوں ملکوں کے درمیان  ہر سطح پر تعلقات میں  اضافہ ہوگا، بلکہ انھیں مزید  وسعت بھی دی جائے  گی۔ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے حال ہی میں  وزیراعظم   عمران خان سے ٹیلی فون پر بات چیت میں پاک ایران تعلقات میں مزید پختگی اور اضافے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے انھیں ایران کے دورے کی دعوت  دی ہے، جسے  عمران خان نے  قبول  کرلیا اور ایران سے خصوصی تجار تی اور سفارتی تعلقات میں اضافے کی خواہش بھی  ظاہر کی ہے۔ عام انتخابات جیتنے کے فورا بعد نہ صرف پاکستان میں متعین ایرانی سفیر مہدی ہنر دوست نے نئی قیادت کو تہران حکومت کی جانب سے مبارک باد دی، بلکہ پاکستان کی نئی حکومت کے ساتھ تجارتی و سفارتی میدانوں میں مل کر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ 


ادھر پاکستان کے  وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی  دنیا کو دوٹوک پیغام دیا ہے کہ پاکستان کی  خارجہ پالیسی دفترخارجہ ہی میں بنے گی، یعنی اب کوئی ملک اپنی مرضی کے فیصلے مسلط نہیں کرسکے گا، گوکہ پاکستان کی سابقہ حکومت کے دور  میں کوئی مستقل  وزیر خارجہ  نہیں تھا، سرتاج عزیز مشیر خارجہ کےفرائض انجام دے رہے تھے، جبکہ خواجہ آصف اور خرم دست گیر نے وزیر خارجہ کا قلمدان سنبھالا، لیکن اس کی مختصر مدت کے لئے۔ گویا اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاہ محمود قریشی کی صورت میں پاکستان کو مستقل وزیر خارجہ میسر آگیا ہے، اور ایک ایسا وزیر جو اس سے پہلے بھی مذکورہ وزارت کا خاصا تجربہ رکھتا ہے۔ شاہ محمود قریشی کا لب و لہجہ خاصا صاف اور واضح ہے، جس سے باآسانی سمجھا جا سکتا ہے کہ وہ بین الاقوامی معاملات میں کسی قسم کا دباؤ قبول کئے بغیر پاکستان کی بقا اور سلامتی کو ملحوظ خاطر رکھیں گے، بلکہ عالمی سطح پر درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لئے خاصے متحرک رہیں گے، اس معاملے میں پاکستان کے چاروں پڑوسیوں ایران، چین، افغانستان اور بھارت سے متعلق وزیر خارجہ کا بیان کافی اہمیت کا حامل ہے ، نئے وزیر خارجہ جہاں ہندوستان سے مذاکرات کی بات کررہے ہیں، وہیں ایران سے دوستانہ تعلقات اور ان میں مزید وسعت بھی خارجہ پالیسی کا خاص محور ہیں، چین بھی پاکستان کا پڑوسی اور دوست ہے، جس نے پاک چین اقتصادی راہداری کے مختلف منصوبوں میں اربوں ڈالر سرمایہ کاری کی ہے، ایسا دیرینہ  دوست جو ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے، تاہم افغانستان کا معاملہ کافی حل طلب ہے، جس کے لئے شاہ محمود قریشی نے خود دورہ کابل کی خواہش کا اظہار کیا ہے تاکہ مل بیٹھ کر معاملات حل کئے جائیں۔سعودی عرب سے بھی تعلقات میں مزید اضافے کا عندیہ دیا ہے، فلسطین پر بھی پاکستان بڑا واضح  موقف رکھتا ہے،  جہاں تک رہی بات امریکا کی تو پاکستان پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ اب مزید " ڈو مور " نہیں سنا جائے گا۔ اسی لئے شاید اب امریکا نے کچھ نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے، امریکا اعتراف کر رہا ہے کہ افغانستان میں استحکام  بڑھانے میں پاکستان کا اہم کردار ہے۔

اگرچہ اس سے قبل پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا کے اتحادی کا کردار ادا کیا، قیام امن  کے لئے ہزاروں جانوں کا نذرانہ پیش کیا، معیشت کو سو ارب ڈالر نقصان ہوا،  دنیا نے پاکستان کی قربانیوں کا تسلیم کیا، لیکن امریکا نے ہمیشہ کام نکلنے کے بعد آنکھیں دکھائیں اور بہانے بہانے سے پاکستان کو دی جانے والی مالی امداد میں کٹوتی کی، اور مزید مطالبات کئے، لیکن خود کو دنیا کا ٹھیکدار سمجھنے والے امریکا کو  شاید یہ ادراک  نہیں کہ پاکستان ایک خود مختار آزاد ریاست ہے، بلکہ واحد اسلامی ملک ہے، جو نہ صرف اسلام کے نام پر قائم ہوا، بلکہ ایٹمی قوت بھی ہے،  پاکستا ن کی فوج، ادارے اور باشندے سب ایک قوم ہیں، جو ملک کی بقا اور سلامتی کے لئے جان دینے سے گریز نہیں کرتے، ایسی بہادر قوم کا بال بیکا کرنا  محض دیوانے کے  خواب سے زیادہ نہیں،   ویسے بھی یہ واضح ہے کہ پاکستان ایسی خارجہ پالیسی اپنائے گا جس سے دنیا میں  اس کے عزت و وقار میں مزید  اضافہ  ہوگا۔

 

(کالم نگار کے نام کیساتھ  ٹوئٹر پر رائےدیں)

مربوط خبریں
سب سے زیادہ دیکھی گئی مقالات خبریں
اہم ترین مقالات خبریں
اہم ترین خبریں