بھارت: مودی سرکار کی پالیسز کے خلاف کسانوں، مزدوروں کا احتجاج

بھارت کے کسانوں اور بائیں بازو کی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے اراکین کی بڑی تعداد نے دارالحکومت نئی دہلی میں مودی سرکار کی پالیسز کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی۔

تسنیم خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق مزدور کسان جدوجہد ریلی' کا انعقاد سینٹر آف انڈین ٹریڈ یونین (سی آئی ٹی یو)، آل انڈیا کسان صباہ (اے آئی کے ایس) اور آل انڈین اگریکلچرز یونین (اے آئی اے ڈبلیو یو) کی جانب سے مشترکہ طور پر کیا گیا تھا، جس کا آغاز رام لیلہ میدان سے ہوا تھا اور یہ مختلف سڑکوں سے گزرتی ہوئی پارلیمنٹ اسٹریٹ پر اختتام پذیر ہوئی۔

مظاہرین نے سرخ رنگ کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے، جن پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت کے خلاف مختلف نعرے درج تھے۔

'اے آئی کے ایس' کے جنرل سیکریٹری ہنان مولا نے الزام لگایا کہ بی جے پی کی حکومت نے ابتدا سے اب تک کسانوں کے لیے کچھ بھی نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'بی جے پی کی حکومت گشتہ 4 سال سے ہمیں بیواقوف بنا رہی ہے، انہوں نے کسانوں کے لیے کچھ نہیں کیا، ہم نے دیگر مطالبات کے ساتھ مزدروں کی کم سے کم سے تنخواہ 18 ہزار روپے ماہانہ کرنے کا کہا تھا'۔

انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے ان کے مطالبات کو نظر انداز کیا، 'اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے مطالبات کی منظوری تک جدوجہد جاری رکھیں'۔

ریلی کی قیادت کرنے والے رہنماؤں نے خبردار کیا کہ وہ اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے 'جب تک مرکزی حکومت تبدیل نہیں ہوجاتی'۔

ریلی کی وجہ سے شہر میں بدترین ٹریفگ جام کی شکایات بھی سامنے آئیں جس سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

مربوط خبریں
سب سے زیادہ دیکھی گئی دنیا خبریں
اہم ترین دنیا خبریں
اہم ترین خبریں