ایران جان پاکستان ہے اور میری جان بھی ہے، ظہیر احمد صدیقی+ویڈیو

ڈا کٹر ظہیر احمد صدیقی50سے زائد اردو اور فارسی کتب کے مصنف ہیں،جس میں پاکستان کی پہلی فارسی سے اردو لغت اور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کی 50سالہ تاریخ پر مبنی کتاب ’نصف صدی کا قصہ ‘بھی شامل ہیں۔

(ای شما ایرانیان)
ای فروغِ فکر و فن از نورِ افکارِ شما
رونقِ گلزارِ ما از رنگِ رخسارِ شما
ثابت و محکم مثالِ کوه کردار شما
همچو باغِ گل لطیف و نرم، گفتارِ شما
ای عزیزانِ عجم! ای صاحبانِ دین و دل!
دیدنِ خضر و مسیحا هست دیدارِ شما
من زپاکستان بیاوردم درودِ پُرخلوص
صد دعایِ دوستانِ پاک‌آثار شما
شاد بادا اصفهان و مشهد و تهران و قُم
زنده بادا مردمِ جانباز و سالارِ شما
جانِ تازه در دمیده در تن ما مَیبُدی
قلب ما را کرد روشن کشفِ اسرار شما
راهِ شعر و حکمت و عرفان به ما بنموده‌اند
مولوی و حافظ و سعدی و عطارِ شما
همچو یک جان در دو تن اسلام ما را ساخته‌ست
دشمن‌تان دشمنِ ما، یارِ ما یارِ شما
خانه‌هایِ ما به هم پیوسته چون دل‌هایِ ما
محکم از دیوارِ ما گردید دیوارِ شما
دشمنانِ پاک و ایران دوست با هم گشته‌اند
این حقیقت را ببیند چشمِ بیدارِ شما
اتحادِ قومِ مسلم اقتضایِ وقتِ ماست
اتحادِ قومِ مسلم کارِ ما، کارِ شما
دوستیِ پاک و ایران تا ابد پاینده باد
پُربهاران باد باغِ ما و گلزارِ شما
(ظهیر احمد صدیقی)

ترجمہ:
اے کہ فکر و فن کی روشنی و تابش آپ کے افکار کے نور سے ہے؛ ہمارے گلزار کی رونق آپ کے رخسار کے رنگ سے ہے۔
آپ کا کردار کوہ کی مانند ثابت و مُحکم ہے؛ آپ کی گفتار باغِ گُل کی مانند لطیف و نرم ہے۔
اے عزیزانِ عجم! اے صاحبانِ دین و دل! آپ کا دیدار خضر و مسیحا کے دیدار جیسا ہے۔
میں پاکستان سے درودِ پُرخلوص اور آپ کے دوستانِ پاک آثار کی صدہا دعائیں لایا ہوں۔
اصفہان و مشہد و تہران و قُم شاد رہیں! آپ کے جاں باز و سالار مردُم زندہ رہیں!
'مَیبُدی' نے ہمارے تن میں جانِ تازہ پھونکی ہے اور آپ کے کشفِ اَسرار نے ہمارے قلب کو روشن کر دیا۔ ×
آپ کے مولوی رومی، حافظ، سعدی اور عطّار نے ہمیں شعر و حکمت و عرفان کی راہ دکھائی ہے۔
اسلام نے ہمیں مثلِ یک جان دو قالب بنا دیا ہے؛ آپ دشمن ہمارا دشمن ہے، اور ہمارا یار آپ کا یار ہے۔
ہمارے خانے (گھر) ہمارے دلوں کی طرح باہم متّصل ہیں؛ ہماری دیوار سے آپ کی دیوار مُحکم ہوئی۔
پاکستان و ایران کے دشمن باہم دوست ہو گئے ہیں۔ اِس حقیقت کو اپنی چشمِ بیدار سے دیکھیے۔
اتحادِ قومِ مسلم ہمارے وقت کا تقاضا ہے؛ اتحادِ قومِ مسلم ہمارا کام ہے، اور آپ کا کام ہے۔
پاکستان و ایران کی دوستی تا ابد پائندہ رہے! ہمارا باغ اور آپ کا گلزار بہاروں سے پُر رہے۔

 

 

 

مربوط خبریں
سب سے زیادہ دیکھی گئی مقالات خبریں
اہم ترین مقالات خبریں
اہم ترین خبریں