افغانستان: «دایمیرداد» شہرپر طالبان کا قبضہ، شدید حملے جاری

افغانستان کے«دایمیرداد» نامی علاقے پر طالبان نے قبضہ کرکے حکومت کو مکمل طور پر بے دخل کردیا ہے اور مختلف صوبوں پر شدید حملے جاری ہیں۔

تسنیم خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، طالبان کے مسلح جنگجووں نے ملک کے مختلف صوبوں خاص کرہرات،وردک، بغلان اور ارزگان پر شدید حملے کئے ہیں۔
افغان ذرائع کے مطابق، طالبان نے صوبہ وردک کے شہر «دایمیرداد» پر قبضہ کیا ہےاور مزید حملے جاری ہیں۔
دایمیرداد شہر کے پولیس کمانڈر کا کہنا ہے کہ اب شہر حکومت کے کنڑول میں نہیں رہا اور سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے تمام چک پوسٹیں خالی کردی ہیں۔
افغان پارلیمنٹ میں دایمیرداد کے نمائندے «احمد جعفری» کا کہناہے کہ طالبان کے ساتھ جھڑپوں میں کافی جانی اور مالی نقصانات ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تاحال 9 پولیس اہلکار جاںبحق ہونے کی تصدیق کی گئی ہے لیکن مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جاںبحق افراد کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔
صوبہ بغلان
بغلان میں افغان حکام کا کہنا ہے کہ طالبان کے حملوں میں کم ازکم 20 سیکیوٹی فورسز کے اہلکار جانبحق ہوئے ہیں اور جھڑپیں بدستور جاری ہیں۔
صوبائی کونسل کے چیئرمین ''صفدر محسنی'' نے ریڈیو آزادی کو انٹروید دیتے ہوئےکہا کہ گزشتہ دو دنوں کے دوران طالبان نے 10 اہم چک پوسٹوں پر شدید حملے کئے جس کےنتیجےمیں متعدد اہلکار جانبحق یا زخمی ہوئے۔
صوبہ ہرات
ہرات کے حکام کا کہنا ہے کہ طالبان کے مسلح جنگجووں نے «اوبه» نامی شہر پر حملہ کیا جس میں 9 پولیس اہلکار مارے گئے اور 5 شدید زخمی ہوئے۔
ہرات کے گورنر کے ترجمان «جیلانی فرهادی» نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کے حملوں میں 10 اہلکار جانبحق اور 5 شدید زخمی ہوئے ہیں۔

مربوط خبریں
سب سے زیادہ دیکھی گئی دنیا خبریں
اہم ترین دنیا خبریں
اہم ترین خبریں