واقعہ کربلا ، امام حسین ( ع ) اور ہمارے اردو شعرا


عربی اور فارسی ادب میں واقعۂ کربلا اور قربانیِ شبیرؑ کے موضوع پر قدیم زمانے سے شعر و ادب میں واضح طور پر فلسفۂ حق و باطل کو بیان کیا گیا ہے۔ اپنوں بیگانوں سبھی نے نواسۂ رسولؐ کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔

تسنیم نیوز ایجنسی: دانش وروں اور شاعروں نے اپنے قلم کے جوہر دکھائے ہیں۔ اردو شعر و نثر میں کربلا کو حق و باطل کا ایک اہم استعارہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ ہمیشہ کے لیے حسینیت زندہ باد اور یزیدیت مردہ باد ہے۔

محرم الحرام کے آنے کے حوالے سے  چند اشعار پیش خدمت ہیں:

 


دشمن جو ہو حسین علیہ السلام کا

آتشؔ نہ کم سمجھ اسے ابنِ زیاد سے

(آتش)

جو کربلا میں شاہِ شہیداں سے پھِر گئے

کعبہ سے منحرف ہوئے قرآں سے پھِر گئے

(امیر مینائی)

ڈوب کر پار اتر گیا اسلام

آپ کیا جانیں کربلا کیا ہے

(یگانہ)

حقیقتِ ابدی ہے مقامِ شبیری

بدلتے رہتے ہیں اندازِ کوفی و شامی

 (اقبال)

دشت میں خونِ حسین ابن علی بہہ جائے

بیعتِ حاکمِ کفار نہ ہونے پائے

(مصطفی زیدی)

وہی پیاس ہے وہی دشت ہے وہی گھرانا ہے

مشکیزے سے تیر کا رشتہ بہت پرانا ہے

(افتخار عارف)

خوش آئے تجھے شہرِ منافق کی امیری

ہم لوگوں کو سچ کہنے کی عادت بھی بہت ہے

(پروین شاکر)

تو نے صداقتوں کا نہ سودا کیا حسینؑ

باطل کے دل میں رہ گئی حسرت خرید کی

(اقبال ساجد)

صبر کی ڈھال تیغ کو کرتی ہے کُند کس طرح

کوئی اگر یہ سن سکے کہتی ہے کربلا کہ یوں

(شکیل جاذب)

حسین دیکھ رہے تھے ذرا بجھا کے چراغ

کہیں بجھے تو نہیں دشت میں وفا کے چراغ

(نصرت مسعود)

حق و باطل کی ہے پیکار ہمیشہ جاری

جو نہ باطل سے ڈریں ہیں وہی شیعانِ حسین

(محمد علی جوہر)

جو ظلم پہ لعنت نہ کرے آپ لعیں ہے

جو جبر کا منکر نہیں وہ منکرِ دیں ہے

(فیض)

دلوں کو غسلِ طہارت کے واسطے جا کر

کہیں سے خونِ شہیدانِ نینوا لائو

(مصطفی زیدی)

حسین ابنِ علی کربلا کو جاتے ہیں

مگر یہ لوگ ابھی تک گھروں کے اندر ہیں

(شہریار)

کتنے یزید و شمر ہیں کوثر کی گھات میں

پانی حسین کو نہیں ملتا فرات کا

(صبا اکبر آبادی)

چاہتا یہ ہوں کہ دنیا ظلم کو پہچان جائے

خواہ اس کرب و بلا کے معرکے میں جان جائے

(منظر حنفی)

فراتِ وقتِ رواں ! دیکھ سوئے مقتل دیکھ

جو سر بلند ہے اب بھی وہ سر حسینؑ کا ہے

(افتخار عارف)