وزیراعظم کے اعلان کے بعد افغان مہاجرین میں خوشی کی لہر، وطن واپسی کا ارادہ تبدیل

وزیراعظم پاکستان عمران خان کی جانب سے افغان اور دیگرممالک کے تارکین وطن کو پاکستانی قومی شناختی کارڈ دینے کے اعلان کے بعد پاکستان میں مقیم افغان شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے افغانستان واپس جانے کا ارادہ ترک کرلیا ہے۔

وزیراعظم کے اعلان کے بعد افغان مہاجرین میں خوشی کی لہر، وطن واپسی کا ارادہ تبدیل

تسنیم خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، وزیراعظم پاکستان عمران خان کی جانب سے افغان اور دیگرممالک کے تارکین وطن کو پاکستانی قومی شناختی کارڈ دینے کے اعلان کے بعد پاکستان میں مقیم افغان شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے افغانستان واپس جانے کا ارادہ ترک کرلیا ہے۔


واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ 1951 ء کے قانون کے مطابق جو بچے پاکستان میں پیدا ہوتے ہیں ،پاکستانی شہریت ان کا حق ہے، قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے مزید کہا کہ جو مہاجرین آتے ہیں ان کے حقوق مختلف ہیں، میں انسانیت کے ناتے ان کی بات کر رہا ہوں کہ مہاجرین انسان ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کے مطابق مہاجرین کو زبردستی نہیں بھیج سکتے، یہ انسانی حقوق کا مسئلہ ہے، پاکستان میں پیدا ہونے والوں کا ہم فیصلہ نہیں کریں گے تو کون کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی میں کئی سال سے یہاں لوگ رہ رہے ہیں انہیں شہریت نہیں ملتی، کراچی شہرمیں اسٹریٹ کرائم بھی اسی وجہ سے بڑھا ہے۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ جو لوگ یہاں سیٹل ہو گئے ہیں، ان کو حقوق دینے پڑیں گے،اگر ان مہاجرین سے متعلق فیصلہ نہ کیا گیا تو شدید مسائل پیدا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ مہاجرین کو شہریت دینے سے متعلق فیصلہ نہیں کیا، مشاورت کر رہے ہیں، کافی عرصے سے ملک میں رہائش پزیر مہاجرین سے متعلق تجویز دی جائے۔
عمران خان نے یہ بھی کہا کہ کئی سال سےافغان اور بنگالی رہائش پذیر ہیں انہیں شہریت نہیں ملی، ان مہاجرین کو نہ ملک سے باہر بھیج سکتے ہیں، نہ وہ یہاں کے شہری ہیں۔
دوسری طرف سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان کی اس پالیسی سے ملک کو سخت نقصان پہنچے گا کیونکہ ملک پہلے ہی آبادی کے سنگین بحران سے دوچار ہے۔


تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس اعلان سے لاکھوں افغان شہری دوبارہ پاکستان کا رخ کرسکتے ہیں اور جو افغانستان واپس جانے کے لئے تیار تھے ان کے ارادے بھی تبدیل ہوسکتے ہیں۔
صوبہ بلوچستان میں بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگ نے وزیراعظم کی تقریر کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے ایک طرف پاک افغان سرحد پر کروڑوں کا خرچہ کرکے باڑھ لگائی جارہی ہے اور دوسری طرف افغانوں کو پاکستانی شہریت دینے کا اعلان کیا جارہا ہے۔
عسکری تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کو یہ تجویز پارلیمنٹ میں پیش کرنا چاہیے، تاکہ اراکین پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جا سکے اور یہ کہ پارلیمنٹ میں اس معاملے کے مثبت اور منفی پہلوئوں پر غور کیا جائے۔
سندھ کے وزیر بلدیات سعید غنی نے وزیر اعظم کی جانب سے غیر ملکیوں کو شناختی کارڈ دینے کے اعلان کی مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران خان کو بنگالیوں کا دکھ ہوتا تو ان کے لیے بنی گالہ کے دروازے کھول دیتے۔
سعید غنی نے مزید کہا کہ ہمیں پاکستانی بنگالیوں کی شناختی کارڈ کی مشکلات کو دور کرنے پر اعتراض نہیں ہے۔ غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کو شہریت دینے پر شدید اعتراض ہے۔ ان کی رجسٹریشن ہونی چاہیے۔ اگر وہ کام کر رہے ہیں تو اس کی اجازت دینے کا راستہ تلاش کرنا چاہیے۔ لیکن پاکستانی شہریت دینے سے مسائل پیدا ہوں گے۔


واضح رہے کہ پاکستان میں اس وقت قانونی اور غیر قانونی طور پر تین ملین سے زائد افغان باشندے جبکہ ڈھائی ملین بنگالی پناہ گزین آباد ہیں۔

مربوط خبریں
سب سے زیادہ دیکھی گئی پاکستان خبریں
اہم ترین پاکستان خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری