جناح اسپتال میں ایک اور کانگو کے مریض کی تصدیق

شہرقائد میں جان لیوا موذی وائرس کانگو کا ایک اور متاثرہ مریض سامنے آگیا، جناح اسپتال انتظامیہ نے مریض میں وائرس کی تصدیق کردی۔

جناح اسپتال میں ایک اور کانگو کے مریض کی تصدیق

تسنیم خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، جناح اسپتال کراچی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی کے مطابق جام گوٹھ ملیر کے رہائشی 28 سالہ نہال میں کانگو وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے،کراچی میں کانگو وائرس کے خطرات بدستور موجود ہیں۔

 نہال نامی اس مریض کو دو روز قبل کانگو کی علامات نمایاں ہونے پر اسپتال میں داخل کرایا گیا تھاجہاں علاج کے دوران کیے گئے ٹیسٹوں کی نتیجے میں مریض میں کانگو وائرس کی تصدیق ممکن ہوئی ، یاد رہے کہ رواں سال صرف جناح اسپتال میں اب تک کانگو کے وائرس سے متاثرہ 18 مریض داخل کرائے جاچکے ہیں۔ ماہ اگست میں اس مرض میں مبتلا دو مریض انتقال کرگئے تھے۔

یاد رہے کہ دو ماہ قبل عید الاضحیٰ کے موقع پر محکمہ صحت نے کانگو وائرس سے متاثرہ اشخاص کے لیے خصوصی گائیڈ لائن جاری کی تھیں۔

گائیڈ لائنز کے مطابق کانگو بخار خطرناک نیرو نامی وائرس سے پھیلتا ہے۔ کانگو مویشی کی کھال سے چپکی چیچڑوں میں پایا جاتا ہے، چیچڑی کے کاٹنے سے وائرس انسان کو منتقل ہوتا ہے۔

قومی ادارہ صحت کے مطابق نیرو وائرس صرف انسانوں میں کانگو بخار پھیلاتا ہے۔ نیرو وائرس انسانی خون، تھوک اور فضلات میں پایا جاتا ہے۔

قومی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ تیز بخار، کمر، پٹھوں، گردن میں درد، قے، متلی، گلے کی سوزش اور جسم پر سرخ دھبے کانگو کی علامات ہیں۔

گائیڈ لائنز کے مطابق بچوں کو مویشی منڈی لے جانے سے گریز کیا جائے، قربانی کے وقت ہاتھوں پر دستانوں کا استعمال کریں۔ کانگو وائرس کی ویکسین تا حال ایجاد نہیں ہوئیں۔

یاد رہے کہ کانگو وائرس کی ویکسین تاحال ایجاد نہیں ہوئی ہے ، لہذا قبل اس وقت احتیاط اور مرض ظاہر ہوجانے کی صورت میں بروقت علاج ہی سے اس مرض کا خاتمہ ممکن ہے۔ اگر آپ کے ارد گرد کوئی شخص مذکورہ بالا علامات میں مبتلا ہے تو اس کی رہنمائی کیجیے کہ یہ ممکنہ طور پر کانگو ہوسکتا ہے لہذا فی الفور کسی اچھے معالج یا اسپتال سے رجو ع کیا جائے۔

مربوط خبریں
سب سے زیادہ دیکھی گئی پاکستان خبریں
اہم ترین پاکستان خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری