سعودی فوجی یمن میں امدادی اشیا لوٹ رہے ہیں، نبیل الحکیمی

ذرائع کا کہنا ہے کہ یمنی عوام کو بین الاقوامی برادری کی جانب سے دی جانے والی امداد سعودی اتحادی افواج چوری کررہے ہیں۔

سعودی فوجی یمن میں امدادی اشیا لوٹ رہے ہیں، نبیل الحکیمی

ایک ایسے وقت جب یمن کے دسیوں لاکھ افراد قحط اور بھوک مری کا شکار ہیں یمن میں موجود سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات کے فوجی اور ان کے اتحادی ان امدادی اشیا اور ساز و سامان کو لوٹ رہے ہیں جو یمنی عوام کے لئے ارسال کی جارہی ہیں۔

ذرائع کے مطابق سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے اتحادی افواج ان امدادی اشیا کو لوٹ کر انہیں بلیک مارکیٹ میں فروخت کردیتے ہیں۔

یمن کے صوبہ تعز میں انسان دوستانہ امداد کے امور کے انچارج نبیل الحکیمی کا کہنا ہے کہ تعز کے باشندوں کو ارسال کی جانےوالی امدادی اشیا لوٹ لی جاتی ہیں یا پھر چوری ہوجاتی ہیں۔

واضح رہے کہ گذشتہ موسم بہار اور گرما میں چاول کے پانچ ہزار بورے اور غذائی اشیا کے سات سو پانچ پیکٹ صوبہ تعز کے غلے کے گوداموں سے چوری کئے گئے ہیں جبکہ غلوں کے سیکڑوں بورے تعز کے راستے میں ہی لوٹ لئے گئے ہیں۔

یمن کے جنوبی صوبے تعز میں انسان دوستانہ امور کے انچارج الحکیمی کا کہنا ہے کہ جارح قوتوں کے فوجی امدادی اشیا کو بلیک مارکیٹ میں فروخت کرکے اپنی جیبیں بھر رہے ہیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے ہاتھ لگنے والی ایک خفیہ دستاویز کے مطابق سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے فوجیوں کے ذریعے ان امدادی سامان اور اشیا کو لوٹ لئے جانے کے سبب صوبہ تعز کے ہزاروں خاندان امدادی اشیا سے محروم ہیں۔

خیال رہے کہ یمن کے مظلوم عوام کے لئے بھاری مقدار میں امدادی اشیا ارسال کی جاتی ہیں لیکن ضرورت مندوں تک نہیں پہنچ پاتی ہیں۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ سعودی اتحاد کے ذریعے یمن کی بندرگاہوں کا محاصرہ ہونے کی وجہ سے اس ملک میں انسانی المیہ رونما ہو رہا ہے اور پورا ملک بھوک مری کے خطرے کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک نے یمنی عوام میں غذائی اشیا تقسیم کرنے کے لئے یمن کے مختلف علاقوں میں پانچ ہزار مراکز قائم کئے ہیں لیکن اس ادارے کا کہنا ہے کہ وہ صرف بیس فیصد مراکز کی ہی نگرانی کرپارہا ہے باقی جگہوں پر اس کو اس بات کا کوئی علم نہیں ہے کہ امدادی اشیا ضرورت مندوں تک پہنچ رہی ہیں یا نہیں ؟

اقوام متحدہ نے دوہزاراٹھارہ میں یمن کو چار ارب ڈالر سے زیادہ کی مالیت کی امدادی اشیا ارسال کی تھی اور توقع ہے کہ اس سال اس میں مزید اضافہ ہوگا لیکن رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اتنی بھاری مقدار میں امدادی اشیا کی ترسیل کے باوجود یمن کے بیشتر عوام ان سے محروم ہیں۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی دنیا خبریں
اہم ترین دنیا خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری