سکندراعظم کے موت کا معمہ: تحقیق


یہ انسانوں کا سب سے بڑا خوف ہوسکتا ہے کہ کسی فرد کو اس وقت مردہ قرار دے دیا جائے جب وہ زندہ ہو اور اتنا بے بس ہو کہ اس کی تردید بھی نہ کرسکے اور زندہ ہی دفن ہوجائے، ایسا ہی کچھ انسانی تاریخ کے ایک عظیم ترین فوجی کمانڈر سکندراعظم کے ساتھ ہوا۔

تسنیم خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، 2ہزار سال سے ان کی موت معمہ بنی ہوئی ہے کہ کیا انہیں زہر دیا گیا؟ بہت زیادہ شراب نوشی اس کی وجہ بنی؟ یا ملیریا یا ٹائیفائیڈ کا شکار ہوئے؟

اب ایک نئی تحقیق میں خیال پیش کیا گیا ہے جو کہ سب سے بدترین بھی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ سکندر اعظم کی لاش 6 دن تک گلنا شروع نہیں ہوئی تھی اور قدیم یونانیوں نے اسے دیوتا ہونے کی نشانی قرار دیا تھا۔

مگر نئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ سکندر ایک ایسے آٹو امیون مرض کا شکار ہوئے جس میں جسم مفلوج ہوجاتا ہے اور مریض دوسروں سے رابطہ کرنے سے قاصر ہوجاتا ہے۔

ایسا ہی سکندر کے ساتھ ہوا اور ان کے ساتھیوں نے مردہ سمجھ کر 6 دن تک لاش سڑنے کا انتظار کیا اور اس دوران موت واقع ہوگئی۔

نیوزی لینڈ کی اوٹاگو یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ سکندر ایک مرض گیولین بیرے سینڈروم (جی پی ایس) کا شکار ہوئے، جس میں جسمانی مسلز اچانک کمزور ہوجاتے ہیں کیونکہ جسمانی دفاعی نظام نروس سسٹم کو نقصان پہنچا دیتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس فوجی کمانڈر کی موت کے حوالے سے مختلف خیالات سامنے آتے ہیں۔

356 قبل مسیح میں قدیم یونانی ریاست مقدنیہ میں پیدا ہونے والے سکندر کو 20 سال کی عمر میں بادشاہت ملی جس کے بعد وہ متعدد ممالک کو فتح کرنے میں کامیاب ہوئے، جن میں مصر، یونان، انڈیا کے کچھ حصے اور ایران شامل تھے۔

سکندر کی موت 323 قبل مسیح میں 32 سال کی عمر میں بابل کے مقام پر ہوئی جو آج عراق میں شامل ہے۔

ایسا کہا جاتا ہے کہ موت سے قبل سکندر کو بخار اور پیٹ میں درد کا سامنا ہوا اور بہت جلد وہ چلنے پھرنے اور بات کرنے سے قاصر ہوگئے۔

محققین کا کہنا تھا کہ ہم نے جی بی ایس کے 10 کیسز دیکھے ہیں اور ان میں دماغ صحیح کام کررہا ہوتا ہے جبکہ باقی جسم مفلوج ہوجاتا ہے، ایسا صرف اسی مرض میں دیکھنے میں آتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس مرض کا شکار ہونے کے بعد ممکنہ طور پر سکندر کی نظر دھندلا گئی ہوگی جبکہ بلڈ پریشر اتنا کم ہوگیا ہوگا کہ ہوسکتا ہے کہ وہ کوما کا شکار ہوگئے ہوں، مگر اس بات کا امکان ہے کہ وہ اپنے ارگرد کے ماحول سے آگاہ ہوں اور لوگوں کی آوازیں سن رہے ہوں، تو ہوسکتا ہے کہ انہوں نے اپنی جانشینی پر اپنے جنرلوں کو لڑتے ہوئے سنا ہو، مصری کاریگروں کی آمد کو سنا ہو اور حنوط کرنے کے عمل کے آغاز کو محسوس کیا ہو۔

اس عہد میں موت کے اعلان کے لیے سانس کی بجائے نبض پر انحصار کیا جاتا تھا اور اگر سکندر کا جسم مفلوج ہوگا تو سانس بہت مدھم ہوگئی ہوگی جبکہ جسم کو درجہ حرارت برقرار رکھنے میں جدوجہد کا سامنا ہوگا، آنکھوں کی پتلیاں ایک جگہ ٹھہر چکی ہوں گی۔

سکندر کا جسم مرنے کے بعد گلنا شروع نہیں ہوا جو کہ کوئی کرشمہ نہیں بس اس سادہ امر کی نشانی ہے کہ ان کی موت واقع نہیں ہوئی تھی۔

محققین کا کہنا تھا کہ جی بی ایس کی تشخیص سے سکندر کی موت کے حوالے سے متعدد امور کی وضاحت ہوجاتی ہے۔

اگر یہ خیال ثابت ہوا تو یہ تاریخ کی ایک مقبول ترین شخصیت کے عبرتناک انجام کا عندیہ بھی ثابت ہوگا۔