پلوامہ حملے میں بھارت ہی کا بارودی مواد استعمال ہوا: بھارتی فوجی کمانڈر

سابق بھارتی فوجی کمانڈر لیفٹننٹ جنرل (ر) دیپندرا سنگھ ہوڈا نے اعتراف کیا ہے کہ پلوامہ حملے میں بھارت ہی کا بارود مواد استعمال ہوا۔

پلوامہ حملے میں بھارت ہی کا بارودی مواد استعمال ہوا: بھارتی فوجی کمانڈر

تسنیم خبررساں ادارے کے مطابق، مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں چند روز قبل مقامی نوجوان عادل ڈار نے سری نگر سے 20 کلومیٹر دور ہائی وے سے گزرنے والے بھارتی فوج کے سیکیورٹی دستے پر خودکش حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں اب تک 47 سے زائد فوجی ہلاک جبکہ متعدد شدید زخمی ہوئے۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج پر کار خودکش حملے کے بعد سے ہی بھارت نے بغیر تحقیقات پاکستان پر الزام تراشی کا سلسلہ شروع کررکھا ہے، بھارت نے پاکستان سے ’موسٹ فیورٹ نیشن‘ کا درجہ بھی واپس لے لیا۔

بھارت نے ایک لمحہ تاخیر کے بغیر حملے کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرایا اور بوکھلاہٹ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 2007 میں اسلام آباد میں ہی مارے جانے والے عبدالرشید غازی کو ماسٹر مائنڈ قرار دیا، علاوہ ازیں بھارت نے الزام تراشی کے علاوہ پاکستانی پیش کش پر کوئی ثبوت و شواہد بھی فراہم نہیں کیے۔

پاکستان نے بھارت کو پیش کش کی کہ اگر اُس کے پاس پلوامہ حملے سے متعلق شواہد ہیں تو فراہم کرے تاکہ متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے تاہم ابھی تک مودی سرکار نے کچھ فراہم نہیں کیا جبکہ انتہاء پسند حکومت نے پاکستانی فنکاروں کے گانے اور اپنے ملک میں پاکستان سپرلیگ کے بقیہ میچز نشر کرنے پر بھی پابندی عائد کردی۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی سربراہی کرنے والے سابق بھارتی فوجی کمانڈر لیفٹننٹ جنرل (ر) دیپندرا سنگھ ہوڈا نے اعتراف کیا کہ پلوامہ حملے میں بھارت کا ہی بارود استعمال ہوا۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں بھارتی جنرل کا کہنا تھا کہ حملے میں ساڑھے سات سو پاؤنڈ بارود استعمال کیا گیا اتنی بڑی مقدار میں بارودی مواد پاکستان جیسے دور دراز علاقے سے نہیں لایا جاسکتا۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’مجھے امید ہے بھارتی حکومت حملے کے بعد تمام حقائق کا جائرہ لے کر صورتحال پر غور کرے گی اور مقبوضہ کشمیر کے مستقل حل کے لیے بھی سوچ بچا کر کے کوئی فیصلہ کرے گی‘۔

دوسری جانب معروف بھارتی مذہبی رہنما سوامی اگنی ویش نے بھارتی وزیراعظم اور حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’بی جے پی نے ملک کے حالات آئندہ انتخابات میں فتح حاصل کرنے کے لیے خراب کیے ہوئے ہیں، ایسی صورتحال سے وہ عوام کو جذباتی کر کے ووٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں‘۔

اُن کا مزید کہنا تھاکہ ’مودی نے سرجیکل اسٹرائیک کا بے بنیاد دعویٰ اور کشمیر میں فوجیوں کا استعمال اپنے سیاسی مقاصد کے لیے کیا، حکمران جماعت کی وجہ سے بھارت میں انتہاء پسندی عروج پر ہے‘۔ مذہبی رہنما کا کہنا تھا کہ ’کشمیری تاجروں اور طلباء پر ہونے والے حملے بھارت کے حق میں نہیں مگر ان سے بی جے پی اور مودی کے مفادات جڑے ہیں‘۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی دنیا خبریں
اہم ترین دنیا خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری