امریکا کے ساتھ نہ جنگ ہوگی اور نہ ہی مذاکرات، امام خامنہ ای


امریکا کے ساتھ نہ جنگ ہوگی اور نہ ہی مذاکرات، امام خامنہ ای

امام خامنہ ای نے تہران میں اعلیٰ افسران کے عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئےفرمایا امریکا ایران کے خلاف جنگ کی ھمت نہیں کرے گا اور نہ ہی ہم ان سے مذاکرات کریں گے۔

تسنیم خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، امام خامنہ ای نے تہران میں ملکی اعلیٰ افسران کے ایک عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا امریکی حکام بخوبی جانتے ہیں کہ جنگ کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے۔
رہبرمعظم نے فرمایا دشمنوں کی یلغار کے مقابلے میں ایرانی قوم کا حتمی آپشن استقامت اور پائیداری ہے اس لئے کہ موجودہ امریکی حکومت کے ساتھ مذاکرات زہر ہے۔
امام خامنہ ای نے فرمایا کہ جنگ نہیں ہو گی بلکہ یہ مقابلہ در اصل عزم اور ارادوں کا مقابلہ ہے اور ہمارا عزم و ارادہ دشمن سے زیادہ مضبوط ہے اور اس بار بھی اللہ تعالی کے فضل و کرم سے فتح ایرانی قوم کے قدم چومے گی۔
امام خامنہ ای کا کہنا تھا کہ امریکا بخوبی جانتا ہے کہ جنگ اسکے مفاد میں نہیں، جب تک امریکا اپنا رویہ نہیں بدلے گا اسکے ساتھ مذاکرات ممکن نہیں۔
ایران کے دشمن اور ان میں سر فہرست امریکہ اپنے زعم میں یہ تصور کرتا ہے کہ سخت ترین پابندیوں سے ہم ایران کو نقصان پہنچائیں گے جبکہ ایسا نہیں ہے اسلامی نظام کی بنیادیں ایرانی عوام اور حکام کی ہمت و توانائی کے سبب مضبوط ہیں۔
امام علی خامنہ ای نے فرمایا کہ امریکا کے علاوہ خلیج فارس کے علاقے کے قارون کی دولت سے بھی نہیں ڈرنا چاہئیے اس لئے کہ وہ کچھ بھی نہیں کر سکتے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے امریکا کے سرکاری اداروں کے اعداد و شمار کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ 41 ملین امریکی بھوک مری اور غذائی مشکلات سے دوچار ہیں اور اسی طرح 40 فیصد نو مولود بچے ناجائزہیں، 2 ملین 2 لاکھ افراد جیلوں میں ہیں (جو آبادی کے تناسب سے دنیا میں سب سے زیادہ ہے ) منشیات کا استعمال امریکہ میں بہت زیادہ ہے اور امریکہ میں فائرنگ کے 31 فیصد واقعات رونما ہوتے ہیں جو آبادی کے تناسب سے دنیا میں سب سے زیادہ ہے اور یہ سب امریکہ کی حقیقت ہے۔ آپ نے فرمایا کہ امریکہ کو بہت بڑا،اور خطرناک کر کے پیش نہیں کرنا چاہئیے البتہ دشمن کی دشمنی سے بھی غفلت نہیں کرنی چاہئیے تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ امریکہ مختلف مسائل و مشکلات میں پھنس چکا ہے۔
رہبرمعظم سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ ہمارا یورپی ممالک کے ساتھ کوئی جھگڑا اور مسئلہ نہیں تھا لیکن انہوں نے بھی اپنے کسی بھی وعدے پر عمل نہیں کیا اور نہ ہی کسی وعدے پر عمل کریں گے تاہم وہ صرف یہ دعوی ضرور کرتے ہیں کہ ہم جوہری معاہدے پر قائم ہیں۔
واضح رہے کہ امریکا نے لڑاکا طیارے اور طیارہ بردار بحری بیڑے کو مشرقِ اوسطی میں بھیجا ہے جس کے بعد عالمی میڈیا میں نفسیاتی جنگ کا آغاز کیا گیا ہے۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی ایران خبریں
اہم ترین ایران خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری