ترکی کے سر پر امریکی پابندیاں منڈلانے لگیں


ترکی کے سر پر امریکی پابندیاں منڈلانے لگیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ترکی کی سرزنش کے لیے پابندیوں کے پیکج پر متفق ہو گئی ہے۔

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق ترکی اور روس کے درمیان دفاعی تعلقات کی پاداش میں امریکہ نے ترکی پر پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ اقدام روس سے S-400 دفاعی میزائل سسٹم کے حصے وصول کرنے کے جواب میں کیا جا رہا ہے۔

پابندیوں کے منصوبے کا اعلان آئندہ دنوں میں کر دیا جائے گا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے امریکا کے دشمنوں کے انسداد سے متعلق ایکٹ کے تحت اقدامات کے تین مجموعوں میں سے ایک مجموعے کا انتخاب کر لیا ہے۔

تاہم اختیار کیے گئے مجموعے کی نشان دہی نہیں کی گئی ہے۔ ۔پابندیوں کا منصوبہ امریکی وزارت خارجہ، وزارت دفاع اور قومی سلامتی کونسل کے ذمے داران کے درمیان کئی روز تک زیر بحث آنے کے بعد وضع کیا گیا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان نے ان پابندیوں پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا جو صدر ٹرمپ اور ان کے بڑے مشیروں کے دستخط کے منتظر ہیں۔

ترکی نے جمعے کے روز اعلان کیا تھا کہ روسی S-400میزائل سسٹم کی پہلی کھیپ اس کی اراضی پر پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح روس نے بھی میزائل سسٹم کو انقرہ کے حوالے کیے جانے کی تصدیق کر دی ہے۔

یاد رہے کہ چد روز قبل روس کے جدید ریسکیو ہیلی کاپٹرز ترکی پہنچنے پر ترک امریکی تعلقات میں ایک تناؤ آ گیا تھا اور امریکا نے نالاں ہو کر ترکی سے ایف -35 طیاروں کی ڈیل ہی ختم کردی تھی۔

روس کے ایس 400ائیر ڈیفنس سسٹم کی ترکی آمد، تابوت میں آٖخری کیل ثابت ہوئی اور امریکا کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ اس کا نتیجہ آئندہ ہفتے ترکی پر پابندیوں کی صورت میں برآمد ہو جائے گا۔

واضح رہے کہ خود کو چوہدری سمجھ کر دوسروں کے معاملات میں ٹانگ اڑانا امریکا کا وطیرہ رہا ہے۔ کیا امریکا یہ توقع رکھتا ہے کہ دنیا کا ہر ملک کسی بھی ملک سے کوئی بھی تجارتی معاہدہ کرنے سے پہلے اس سے تحریری اجازت نامہ لے؟

دوسری جانب شمالی کوریا نے بھی 2 ٹوک الفاظ میں کہہ ڈالا ہے کہ واشنگٹن، جزیرے میں پر امن ماحول کو بگاڑنے کی کوشش کررہا ہے۔ اقوام متحدہ میں شمالی کوریا کے وفد نے کہا ہے کہ مذاکرات اور ملاقات کے باوجود امریکا دشمنی والا رویہ اپنائے ہوئے ہے۔ دراصل امریکا کو پابندیاں لگانے کا جنون ہے۔

 

اہم ترین دنیا خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری