کرکٹ ورلڈ کپ: تاریخ کے آئینے میں

کرکٹ ورلڈ کپ کے 1975 سے 2019 تک کا سفر

کرکٹ ورلڈ کپ: تاریخ کے آئینے میں

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق کرکٹ ایک بہت معروف کھیل ہے جس کا آغاز 16 ویں صدی میں جنوب مشرقی برطانیہ سے ہوا۔ اسی لئے برطانیہ کو بانی کرکٹ بھی کہا جاتا ہے۔

آہستہ آہستہ کرکٹ کا کھیل مشہور ہوگیا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ کئی ممالک میں کھیلا جانے لگا تاہم پچھلی چند دہائیوں میں اس کی شہرت میں بےپناہ اضافہ ہوا ہے اور جنوب مشرقی برطانیہ سے شروع ہونے والا یہ کھیل آج 105 ممالک میں کھیلا جاتا ہے۔

کرکٹ کے کھیل کو خاص طور پر پذیرائی تب حاصل ہوئی جب انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے وارلڈ کپ کا انعقاد کروانا شروع کیا۔

کرکٹ کی تاریخ میں 1975 سے 2019 تک 12 ورلڈ کپ کھیلے جا چکے ہیں جن کا مختصر حال قارئین کی معلومات اور دلچسپی کے لئے پیش خدمت ہے۔

ورلڈ کپ 1975:

تاریخ کا پہلا ورلڈ کپ فائنل لارڈز کے میدان میں لندن میں کھیلا گیا تھا۔ ویسٹ انڈیز نے اس فائنل میچ میں آسٹریلیا کو 17 رنز سے شکست دے کر دنیائے کرکٹ کا پہلا چمپئین بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میچ میں مقررہ اوور کی تعداد 60 تھی۔ ویسٹ انڈیز نے پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ 60 اوور میں 8 وکٹوں پر 291 رنز بنائے تھے جبکہ آسٹریلیا اس ہدف کے تعاقب میں انچاسویں اوور میں 274 رنز بنا کر آوٹ ہو گیا۔

ورلڈ کپ 1979:

پہلے ورلڈ کپ کی طرح اس کا بھی فائنل میچ لارڈز کے میدان میں کھیلا گیا تھا اور اس بار بھی کالی آندھی ہی فاتح قرار پائی تھی۔ البتہ اس بار ویسٹ انڈیز سے ہارنے والی ٹیم میزبان برطانیہ تھی جسے 92 رنز سے شکست ہوئی تھی۔ یہ میچ بھی 60 اوورز پر مشتمل تھا۔ اس بار ویسٹ انڈیز نے 9 وکٹوں کے نقصان پر 286 رنز بنائے تھے جس کے جواب میں برطانیہ کی ٹیم 51 اوورز میں 194 رنز بنا کر آوٹ ہوئی تھی۔

ورلڈ کپ 1983:

ورلڈ کپ کا مسلسل تیسرا فائنل بھی پہلے دو فائنل میچوں کی طرح لارڈز میں ہی کھیلا گیا تھا البتہ اس بار بھارت نے تاریخ بدل دی اور ویسٹ انڈیز کو ہیٹ ٹرک نہ کرنے دی۔ بھارت کی ٹیم نے تیسرے ورلڈ کپ میں ویسٹ انڈیز کو 43 رنز سے شکست دی تھی۔ 60 اوورز کے اس میچ میں بھارت کی ٹیم 55 ویں اوور میں صرف 183 رنز بنا سکی تاہم بھارتی با4لرز نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ویسٹ انڈیز کو 52 اوورز میں میں فقط 140 کے مجموعی سکور پر آل آوٹ کر دیا۔

ورلڈ کپ 1987:

دفاعی چیمپئین بھارت اور پاکستان میان کھیلا جانے والا یہ ورلڈ کپ آسٹریلیا نے برطانیہ کو 7 رنز سے ہرا کر اپنے نام کیا۔ اس بگ ایونٹ کا فائنل بھارتی شہر کلکتہ میں کھیلا گیا تھا۔ 50 اوور کے اس میچ میں آسٹریلیا نے 5 وکٹوں کے نقصان پر 253 رنز بنائے جبکی اس کے جواب میں برطانیہ 8 وکٹوں کے نقصان پر 246 رنز بنا سکا۔

ورلڈ کپ 1992:

اس ایونٹ کی میزبانی پہلی بار آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے حصے میں آئی۔ اس بار برطانیہ کو فائنل میں مسلسل دوسری بار شکست کا سامنا کرنا پڑا اور پاکستان 22 رنز کے مارجن سے فاتح قرار پایا۔ اس تاریخی میچ میں پاکستان نے پہلے کھیلتے ہوئے 6 وکٹوں کے نقصان پر 249 رنز بنائے جبکہ برطانیہ آخری اوور میں 227 رنز بنا کر آل آوٹ ہو گیا۔

ورلڈ کپ 1996:

اس مرتبہ بگ ایونٹ کی میزبانی بھارت، پاکستان اور سری لنکا نے مل کر کی۔ اس کا فائنل میچ دفاعی چیمپئین پاکستان کے شہر لاہور میں کھیلا گیا تھا جہاں سری لنکا نے آسٹریلیا کو 7 وکٹوں سے ہرا کر ورلڈ چیمپئین ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ اس تاریخی فائنل میں ورلڈ کپ کی تاریخ میں پہلی بار کسی ٹیم نے ہدف کو پایا اور آسٹریلیا کے 241 رنز کے جواب میں 47ویں اوور میں صرف 3 وکٹوں کے نقصان پر 245 رنز بنا کر فتح سمیٹی۔

ورلڈ کپ 1999:

ایک بار پھر بانی کرکٹ کے وطن برطانیہ میں ورلڈ کپ کا میلہ سجا اور لارڈرز کے میدان میں فائنل میچ میں آسٹریلیا نے پاکستان کو 8 وکٹوں سے ہرا کر دوسری بار ٹائٹل اپنے نام کیا۔ اس بار پاکستان کی پوری ٹیم 39 اوور میں 132 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئی اور جوابا آسٹریلیا کی ٹیم نے 21ویں اوور میں صرف 2 وکٹوں کے نقصان پر ہدف کو پا لیا۔

ورلڈ کپ 2003:

اس ورلڈ کپ کا فاتح بھی آسٹریلیا تھا۔ ساوتھ افریقا کے شہر جوھانسبرگ میں آسٹریلیا نے بھارت کو 125 رنز سے شکست دی تھی۔ اس بار ورلڈ کپ جنوبی افریقا میں کھیلا گیا تھا۔ مقررہ 50 اوورز میں آسٹریلیا نے بھارت کو 359 کا بڑا ٹارگٹ دیا جس کے جواب میں بھارت کی ٹیم 40ویں اوور میں 234 رنز بنا کر آوٹ ہو گئی۔

ورلڈ کپ 2007:

اس ورلڈ کپ کا انعقاد ویسٹ انڈیز میں کیا گیا تھا جس کا فائنل میچ آسٹریلیا اور سری لنکا کے مابین برج ٹاون میں کھیلا گیا۔ اس میچ کو آسٹریلیا نے 53 رنز سے جیت کر ٹائٹل اپنے نام کیا۔ پہلے کھیلتے ہوئے آسٹریلیا نے 4 وکٹوں کے نقصان پر 281 رنز بنائے جس کے جواب میں سری لنکا 8 وکٹوں کے نقصان پر 215 رنز ہی بنا پایا۔

ورلڈ کپ 2011:

اس بگ ایونٹ کی میزبانی بھارت، سری لنکا اور بنگلہ دیش کے حصے میں آئی۔ اس کا فائنل میچ بھارت کے شہر ممبئی میں کھیلا گیا تھا۔ اس میچ میں بھارت نے سری لنکا کو 6 وکٹوں سے شکست دے کر ایک بار پھر عالمی کپ اپنے نام کر لیا تھا۔ سری لنکا نے پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ 50 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 274 رنز بنائے جبکہ بھارت نے 49ویں اوور میں مطلوبہ ہدف 4 وکٹوں کے نقصان پر پورا کر لیا تھا۔

ورلڈ کپ 2015:

یہ ورلڈ کپ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے میدانوں میں کھیلا گیا تھا اور فائنل بھی انہی دو ممالک کے مابین کھیلا گیا۔ اس کا فائنل میچ میلبورن کے اسٹیڈیم میں منعقد ہوا تھا جس میں آسٹریلیا نے نیوزی لینڈ کو 7 وکٹوں کے شکست دے دی تھی۔ نیوزی لینڈ نے اس میچ میں پہلے کھیلتے ہوئے 45 اوورز میں 183 رنز بنائے اور اس کے تمام کھلاڑی آوٹ ہوگئے۔ اس کے جواب میں آسٹریلیا نے مطلوبہ ہدف 32ویں اوور میں محض 3 وکٹوں کے نقصان پر پورا کر لیا تھا۔

ورلڈ کپ 2019:

حالیہ ورلڈ کپ بھی پہلے 3 ورلڈ کپ ٹورنامنٹ کی طرح برطانیہ میں منعقد ہوا اور اس کا فائنل میچ دنیا کے مشہور اسٹیڈیم لارڈز میں کھیلا گیا۔ ورلڈ کپ کے اب تک کے ہونے والے تمام فائنل میچوں میں یہ سب سے زیادہ سنسنی خیز مقابلہ تھا جو کہ برطانیہ اور نیوزی لینڈ کی ٹیموں کے مابین ہوا۔ اس میچ میں برطانیہ نے پہلے کھیلتے ہوئے 241 رنز بنائے اور اس کے تمام کھلاڑی آوٹ ہو گئے۔ تعقب میں نیوزی لینڈ نے مقررہ 50 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 241 رنز بنائے اور اس طرح میچ برابر ہو گیا اور ہار جیت کے فیصلے کے لئے سپر اوور کروایا گیا تاہم دونوں ٹیمیں سپر اوور میں 15 رنز بنا سکیں اور میچ ایک بار پھر برابر ہو گیا۔ لہذا آئی سی سی کے قوانین کے مطابق برطانیہ کو زیادہ باونڈریز لگانے کی وجہ سے فاتح قرار دے دیا گیا۔

واضح رہے کہ مذکورہ میچ میں نیوزی لینڈ نے 3 چھکے اور 14 چوکے لگائے تھے جبکہ برطانیہ نے 3 چھکے اور 23 چوکے لگائے تھے۔

یاد رہے کہ سب سے زیادہ مرتبہ وارلڈ کپ جیتنے والی ٹیم آسٹریلیا ہے جس نے 5 مرتبہ یہ ٹائٹل اپنے نام کیا۔ ویسٹ انڈیز اور بھارت 2، 2 مرتبہ کرکٹ ورلڈ چیمپئین بنے جبکہ پاکستان، سری لنکا اور برطانیہ نے ایک ایک بار یہ ٹائٹل جیتا۔

 

  

سب سے زیادہ دیکھی گئی دنیا خبریں
اہم ترین دنیا خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری