گائے چوری کا شبہ، 3 مسلمان بدترین تشدد کے بعد قتل، احتجاج کرنے پر پولیس کا لواحقین پر تشدد

بھارتی ریاست بہار میں گائے چوری کے شبہ میں جنونی ہندو ہجوم نے 3 مسلمانوں کو مار مار کر ہلاک کر دیا، جبکہ اس ظلم پر لواحقین نے جب احتجاج کیا تو پولیس نے ان کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔

گائے چوری کا شبہ، 3 مسلمان بدترین تشدد کے بعد قتل، احتجاج کرنے پر پولیس کا لواحقین پر تشدد

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق بھارتی ریاست بہار کے گاؤں بنیاپور میں گائے چوری کے شبہ میں جنونی ہندو ہجوم نے 3 مسلمانوں کو مار مار کر ہلاک کر دیا، چوتھے شخص کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔

تین مسلمان نوجوان کی پرتشدد موت کے بعد ان کے اہل خانہ نے ہسپتال کے باہر شدید احتجاج کیا جس پر پولیس نے متاثرین کو انصاف فراہم کرنے کی بجائے بری طرح تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔

لواحقین کا کہنا تھا کہ مرنے والے تینوں نوجوان بے گناہ تھے، ان پر گائے چوری کرنے کا الزام جھوٹا ہے، مودی حکومت تین نوجوانوں کے قاتلوں کو فوری گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دے۔

تفصیلات کے مطابق جمعے کو پک اپ وین میں 4 افراد جانوروں کو لے جارہے تھے۔ گاؤں والوں نے انہیں مویشی چور قرار دے کر پکڑلیا اور اتنا مارا کے 3 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ ایک شخص شدید زخمی ہوا۔

انتظامی افسر لوکیش میشرہ کا کہنا تھا کہ پولیس نے قتل کا مقدمہ درج کرکے 3 ہندوؤں کو گرفتار کرلیا جبکہ دیگر 4 کی تلاش جاری ہے۔

واضح رہےبھارت میں گائے کے مبینہ ذبح اور اس کا گوشت کھانے پر متعدد افراد بالخصوص مسلمانوں اور دلتوں کو قتل کیا جاچکا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ سال 2015 اور 2016 کے درمیانی عرصے میں گائے سمگل کرنے یا گائے کا گوشت کھانے کے شبے میں ہندو انتہا پسندوں کے حملوں کے واقعات میں مجموعی طور پر 10 مسلمان قتل کردیے گئے تھے۔

2015 میں بھی ایک مسلمان شخص کو اس کے پڑوسیوں نے اس شبے میں قتل کردیا تھا کہ اس نے گائے کو ذبح کیا ہے تاہم بعد ازاں پولیس کا کہنا تھا کہ مقتول کے گھر سے برآمد ہونے والا گوشت بکرے کا تھا۔

خیال رہے کہ موجودہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی 2001 سے 2014 تک ریاست گجرات کے وزیراعلی رہے ہیں، ان کے دور میں گجرات میں گائے ذبح کرنے، گائے کے گوشت کی نقل و حمل اور اس کی فروخت پر مکمل پابندی تھی۔

یاد رہے کہ چند روز قبل اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو آگاہ کیا گیا ہے کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران انتہا پسند ہندووں کی طرف سے بھارت میں مسلمانوں پر حملوں کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو جنیوا میں اسکے 41ویں اجلاس کے دوران اس بات سے بھی آگاہ کیا گیا کہ ہندو انتہا پسند بھارت بھر میں گائے کے تحفظ کے نام پر مسلمانوں اور دلتوں کو بےدریغ قتل کر رہے ہیں۔
سینٹر فار افریقہ ڈیولپمنٹ اینڈ پراگراس کے پال کمار نے کہا کہ ماضی قریب میں کم از کم دس مسلمانوں کو مارا پیٹا گیا اور ان بڑھتے ہوئے حملوں کے باعث مسلمانوں کے اندر عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے اور مذہبی تناؤ میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی قریب میں کم از کم دس مسلمانوں کو مارا پیٹا گیا اور ان بڑھتے ہوئے حملوں کے باعث مسلمانوں کے اندر عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے اور مذہبی تناؤ میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قریباً دو ہفتہ قبل جاڑکھنڈ میں ایک چوبیس سالہ مسلمان تبریز انصاری کو ہندو انتہا پسندوں نے ”جے شری رام “ کا نعرہ نہ لگائے پر گھنٹوں مارا پیٹا اور بالآخر ان کی جان چلی گئی۔
انہوں نے کہا کہ ہندو انتہا پسند کھل عام پھر رہے ہیں اور کوئی انہیں روکنے والا نہیں اور بھارتی ریاست اقلیتوں پر ہونے والے حملوں پر بالکل خاموش ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ بھارت پر دباؤ ڈالے کہ اپنے آئین میں درج اصول و ضوابط پر عمل درآمد کرے۔
دوسری جانب بھارت میں انسانی حقوق کی خراب صورتحال کی لندن میں بل بورڈز پر عکاسی کر دی گئی۔
ذرائع کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ بھارتی حکومت اقلیتیوں کا قتل عام پر تشدد کے واقعات روکے انتہا پسندوں کی جانب سے مسلمانوں سکھوں دلتوں پر تشدد قتل کے واقعات روکے جائیں بھارت میں اقلیتوں کا تحفظ کیا جائے بل بورڈز بلند عمارتوں اور شاہراہوں کے کنارے پر لگائے گئے ہیں۔
دھیان رہے کہ بھارت میں تسلسل کے ساتھ ہجومی تشدد (موب لنچنگ) کے واقعات رونما ہورہے ہیں جس میں اقلیتوں کو بالعموم اور مسلمانوں کو بالخصوص بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ انسانیت سوز تشدد کے نتیجے میں مسلمانوں کی اموات بھی ہوچکی ہیں لیکن تاحال بھارتی حکومت و انتظامیہ کی جانب سے اس کو روکنے کے لیے خاطرخواہ اقدمات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔

 

سب سے زیادہ دیکھی گئی دنیا خبریں
اہم ترین دنیا خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری