جام جهانی 2022 قطر
 

عقیدہ توحید؛ قرآنی طرزِ زندگی کی بنیاد


عقیدہ توحید؛ قرآنی طرزِ زندگی کی بنیاد

قرآنی طرز زندگی کی فکری بنیاد صحیح اور پختہ اسلامی عقائد ہیں جن میں سرفہرست عقیدہ توحید ہے۔

 

قرآن میں جا بجا انتہائی تاکید کے ساتھ بنی نوع انسان کو عقیدہ توحید پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے اور شرک اور بت پرستی سے منع کیا گیا ہے اور جھوٹے خداؤں کو خدائے لا شریک کے ساتھ شریک قرار دینے کی سختی سے مذمت ہوئی ہے بلکہ ایسا کرنے والوں کے لیے شدید ترین عذاب کی وعید بھی سنائی گئی ہے۔ لہذا بنی نوع انسان پر لازم ہے کہ وہ اللہ تعالی کی وحدانیت کا اقرار کرے تاکہ وہ اپنی دنیوی اور اخروی زندگی میں  اس عقیدے کے صحیح مثبت اثرات سے  مستفید ہو سکے اور انکارِ توحید کے منفی اور برے اثرات سے دنیا و آخرت میں محفوظ رہ سکے۔

عقیدہ توحید کے مختلف پہلو (اقسام) ہیں جن میں سے ہر پہلو پر ایمان اور یقین سے انسانی طرزِ زندگی پر مختلف اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ لہذا انسانی زندگی کو قرآنی سانچے میں ڈھالنے اور قرآنی طرزِ زندگی پر مشتمل انسانی معاشرے کی تشکیل کے لیے ضروری ہے کہ عقیدہ توحید کےانسانی زندگی پر  اثرات کو اجاگر کیا جائے۔

عقیدہ توحید کا ایک پہلو یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی عبادت میں اس کے ساتھ کسی کو شریک قرار نہ دیا جائے، جیسے اللہ نے قرآن میں دوٹوک فیصلہ سناتے ہوئے فرمایا ہے: و قضی ربک الا تعبدوا الا ایاہ۔۔۔ (اسرا، 23) اور آپ کے پروردگار نے فیصلہ کر دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو۔  ایک اور مقام پر فرمایا: اننی انا اللہ لا الہ الا انا فاعبدنی و اقم الصلوۃ لذکری (طہ، 14) میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا کوئی معبود نہیں، پس صرف میری بندگی کرو اور میری یاد کے لیے نماز قائم کرو۔  ایک اور مقام پر فرمایا: و الھکم الہ واحد لا الہ الا ھو الرحمن الرحیم۔(بقرہ، 163)اور تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے اس رحمن و رحیم کے سوا کوئی معبود نہیں۔  سورہ ھود میں فرمایا: الا تعبدوا الا اللہ، اننی لکم منہ نذیر و بشیر۔(ھود، 2) کہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، میں اللہ کی طرف سے تمہیں تنبیہ کرنے والا اور بشارت دینے والا ہوں۔  پھر سورہ انبیاء میں ارشاد فرمایا: قل انما یوحی الیّ انما الھکم الہ واحد فھل انتم مسلمون۔(انبیاء، 108) کہدیجیے: میرے پاس وحی آئی ہے کہ تمہارا معبود بس ایک ہی معبود ہے، تو کیا تم تسلیم کرتے ہو؟

یعنی عبادت ہو گی تو صرف اللہ ہی کی ہو گی، اس کے ساتھ کسی کو  حتی ملائکہ، انبیائے کرام، اولیائے الہی، ائمہ طاہرینؑ وغیرہ کو بھی اس کی عبادت میں شریک قرار نہیں دیا جا سکتا، ایسا کرنا شرک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم کلمہ طیبہ میں بھی اسی حقیقت کی گواہی دیتے ہیں جیسے: لا الہ الا اللہ، یعنی کوئی معبود نہیں ہے سوائے اللہ کے۔ اور اکثر یہی  شہادت دیتے ہیں۔ اشھد ان لا الہ الا اللّہ کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔

عبادت اور پرستش انسان کی فطرت میں شامل ہے یہی وجہ ہے کہ انسانی تاریخ میں ایسے لوگ بھی گزرے ہیں جو اسی فطری جذبے کی وجہ سے ہمیشہ کسی نہ کسی کے سامنے جھکتے اور اس کی  پرستش کرتے رہے ہیں۔ انسانی وجود کے اندر پوشیدہ اسی فطری جذبے ہی کی وجہ سے انسان چاند، ستارے، سورج، آگ، پتھر، درخت، حتی اپنے جیسے انسانوں اور دیگر مختلف اشیاء کی پرستش اور عبادت کرتے آئے ہیں۔ اور اس طرح  اپنے وجود کے اندر پوشیدہ پرستش اور عبادت کی تشنگی کو بھجانے کی کوشش کرتے رہے ہیں البتہ اپنی جہالت اور نادانی کی وجہ سے حقیقی معبود یعنی اللہ تعالی کے سامنے جھکنے کے بجائے متعدد جھوٹے خداؤں کے سامنے جھکتے رہے ہیں۔ جبکہ   حقیقت یہ ہے کہ یہ سارے فرضی اور جھوٹے معبود ہیں۔ حقیقی معبود اور لائقِ پرستش ذات تو صرف اللہ تعالی کی ہی ہے، اسی لیے انبیائے کرامؑ لوگوں کو جھوٹے معبودوں کی پرستش سے روک کر حقیقی معبود یعنی اللہ تعالیٰ کی پرستش کی دعوت دیتے تھے، اور قرآن کریم میں بھی جا بجا اللہ تعالی کے حقیقی معبود ہونے کو مختلف آیتوں میں بیان کر دیا گیا ہے۔

اور یہی انسانی عظمت کا تقاضا بھی ہے کہ وہ صرف معبودِ برحق کے سامنے جھکے، چونکہ اللہ تعالی نے بنی نوع انسان کو کرامت عطا فرمایا ہے جیسے ارشاد باری تعالی ہے: و لقد کرمنا بنی آدم و حملناھم فی البر و البحر و رزقناھم من الطیبات و فضلناھم علی کثیر ممن خلقنا تفضیلا۔(اسراء، 70) اور بتحقیق ہم نے اولاد آدم کو عزت اور تکریم سے نوازا اور ہم نے انہیں خشکی اور سمندر میں سواری دی اور انہیں پاکیزہ چیزوں سے روزی عطا کی اور اپنی بہت سی مخلوقات پر انہیں بڑی فضیلت دی۔ یہاں اللہ تعالی نے انسان کے صاحبِ کرامت  ہونے اور باقی مخلوقات پر اس کی برتری اور  فضیلت کا تذکرہ فرمایا ہے، لہذا انسان کی عظمت اور فضیلت کا تحفظ اسی میں ہے کہ وہ اپنے سے پست تر چیزوں کے سامنے نہ جھکے۔ دوسری جگہ اللہ نے فرمایا: لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم۔(تین، 4) بتحقیق ہم نے انسان کو بہترین اعتدال میں پیدا کیا۔

لہذا بنی نوع انسان کے لیے یہ باعثِ شرم ہے کہ وہ افضل خلق کیے جانے کے باوجود اللہ کو چھوڑ کر اپنے سے پست تر اور حقیر چیزوں کے سامنے جھکے اور پھر انہیں عبادت میں اللہ کے ساتھ شریک قرار دے۔ جیسے حضرت موسیٰؑ نے بھی اپنی قوم بنی اسرائیل کی جانب سے عبادت کے لئے بت نما معبود بنائے جانے کے غیر منصفانہ، جاہلانہ اور عظمت انسانی کی بے توقیری پر مشتمل ناحق مطالبے کے جواب میں انہیں اپنی عظمت اور فضیلت یاد دلاتے ہوئے فرمایا: قال اغیر اللہ ابغیکم الھا و ھو فضلکم علی العالمین۔( اعراف، 140) موسی نے کہا: کیا میں تمہارے لیے اللہ کے سوا کوئی اور معبود تلاش کروں؟ حالانکہ اس نے تمہیں عالمین پر فضیلت دی ہے۔

علاوہ ازیں جب اللہ تعالی نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت آدم کو سجدہ کریں، تو اس سے بھی انسان کی عظمت اور فضیلت واضح ہو جاتی ہے چونکہ یہاں  اللہ نے انسان کو مسجود ملائکہ بنا دیا۔جیسے قرآن میں ہے: و اذ قلنا للملائکۃ اسجدوا لآدم فسجدوا الا ابلیس ابی و استکبر و کان من الکافرین۔(بقرہ، 34) اور (اس وقت کو یاد کرو) جب ہم نے فرشتوں سے کہا: آدم کو سجدہ کرو تو ان سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے، اس نے انکار اور تکبر کیا اور وہ کافروں میں سے ہو گیا۔

لہذا قرآنی آیات کے مطابق جب انسان کی عظمت اور کرامت مسلّم ہے تو اسے اپنی عظمت اور کرامت کا لحاظ رکھتے ہوئے جھوٹے معبودوں کے سامنے جھکنے سے بچتے ہوئے صرف معبود حقیقی کے سامنے جھکنا چاہیے۔

اللہ تبارک و تعالی کو لائقِ عبادت سمجھ کر صرف اسی کے سامنے جھکنے کے اخروی فوائد  تو اپنی جگہ مسلم ہیں ہی، اس عقیدے کے آثار اور فوائد اس دنیا میں بھی بے شمار ہیں۔ اس سے اللہ تعالی نے انسان کو جو مقام اور مرتبہ عطا فرمایا ہے اس کا تحفظ ہوتا ہے، چونکہ جو اللہ کے سامنے جھکے اسے ہر ایک کے سامنے جھکنے کی ضرورت نہیں پڑتی، وہ لوگ جو اللہ کے سامنے نہیں جھکتے انہیں ہر کسی کے سامنے جھکنے کی ضرورت پیش آتی ہے، کبھی وہ کسی کے سامنے جھک رہے ہوتے ہیں تو کبھی کسی اور کے سامنے۔ حتی کبھی کبھی تو اپنے سے پست تر اور حقیر تر چیزوں کے سامنے بھی انہیں جھکنا پڑتا ہے، لیکن جو خدائے وحدہ لا شریک کے سامنے جھک جائے تو وہ باقی لوگوں اور چیزوں کےسامنے جھکنے سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔ بقول شاعر مشرق علامہ اقبال:

یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے

ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات

تو قرآنی طرزِ زندگی کا ایک اہم اسلوب یہ ہے کہ انسان صحیح عقیدہ توحید کے ساتھ جیے۔  (جاری ہے)

تحریر: ڈاکٹر جواد حیدر ہاشمی

بشکریہ: شمس الشموس میگزین

اہم ترین اسلامی بیداری خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری