ایمنسٹی انٹرنیشنل کی مقبوضہ کشمیر اور آسام میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی مذمت


ایمنسٹی انٹرنیشنل کی مقبوضہ کشمیر اور آسام میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی مذمت

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مقبوضہ وادی میں جاری بھارتی مظالم اور آسام میں 19 لاکھ افراد کی شہریت ختم کرنے پر بھارت کی مذمت کی ہے۔

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مقبوضہ وادی میں جاری بھارتی مظالم کی مذمت کرتے ہوئے کرفیو اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ ایمنسٹی نے آسام میں 19 لاکھ افراد کی شہریت ختم کرنے پر بھی بھارت کی مذمت کی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مطالبہ کیا ہے کہ کشمیریوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے، انسانی حقوق کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں پر پاندی ختم کی جائے۔

واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے5 اگست کے بعد سے مظالم کا نیا سلسلہ جاری ہے۔ مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج درندگی رکنے کا نام نہیں لے رہی۔

ایک ماہ کے دوران قابض فورسز نے سولہ کشمیریوں کو شہید کیا، فائرنگ اور شیلنگ سے تین سو سے زائد کشمیری زخمی ہوئے جبکہ اٹھائیس روز گزرنے کے باجود کرفیو نہیں ہٹایا جاسکا۔

فائرنگ، شیلنگ، پیلٹ گن کے استعمال اور گھروں پر چھاپوں سے متعدد گھر تباہ ہوگئے۔ مقبوضہ وادی میں بھارتی فورسز نے ظلم کا بازار گرم کر رکھا ہے۔

وادی میں مسلسل کرفیو کو ایک ماہ ہونے والا ہے۔ اسکول اور تجارتی مراکز بند ہیں، جس کے باعث کاروبار مکمل طور پر ٹھپ ہوچکا ہے۔ کشمیری اپنے ہی گھروں میں محصور ہیں ان کی زندگی مفلوج ہے، کرفیو کے باعث کھانے پینے کی اشیاء کی قلت میں اضافہ ہوگیا ہے۔

ادھر ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ آسام حکومت شہریت سے محروم ہونے والوں کی دوبارہ سماعت کو یقینی بنائے، یہ 19 لاکھ افراد فیصلے کے بعد 120 دنوں میں ٹربیونل کے سامنے اپیل کرنے کا حق رکھتے ہیں۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین فیلیپو گرانڈی نے مودی حکومت کی جانب سے آسام میں 19 لاکھ افراد کو بھارتی شہری تسلیم نہ کرنے سے پیدا ہونے والے انسانی المیے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو شہریت سے محروم کردینا عالمی سطح پر بے وطنیت کے خاتمے کی کاوشوں کو شدید نقصان پہنچائے گا۔

 

 

سب سے زیادہ دیکھی گئی دنیا خبریں
اہم ترین دنیا خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری