کیا دو بیلوں کی لڑائی میں پاکستان کا نقصان ہوگا؟

دو بڑی معاشی طاقتوں امریکا اور چین کی تجارتی جنگ کا پاکستان پر کیا اثر پڑے گا؟

کیا دو بیلوں کی لڑائی میں پاکستان کا نقصان ہوگا؟

ایسے موقع پر جب امریکا اور چین کی تجارتی جنگ اپنے عروج پر ہے، سماجی رابطہ کی ویب سائٹ پر جاری ایک بیان میں امریکی محکمہ خارجہ نے پاکستان کے ساتھ تجارتی تعلقات میں اضافے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ تجارت میں 20 فیصد اضافہ چاہتے ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کے ساتھ تجارتی تعلقات میں اضافے کے خواہاں ہیں اور یہ کہ پاکستان ہمارا 56 واں سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے تاہم ہمارا ہدف ہے کہ پاکستان کے ساتھ تجارت میں 20 فیصد اضافہ کیا جائے۔

اس حقیقت سے قطع نظر کہ چین سے تجارتی جنگ کے بعد امریکا کو متبادل کی تلاش ہے اور انہی امکانات میں سے پاکستان ایک ہے، اس وقت پاکستان کی صورت حال بڑی پیچیدہ ہوگئی ہے۔

ایک جانب امریکا جیسی قوت جس سے پاکستان بار بار مقبوضہ کشمیر کے مسئلے پر ثالثی کی درخواست کر رہا ہے، نے پاکستان کے ساتھ  اپنے تجارتی تعلقات بہتر بنانے کا برملا اظہار کیا ہے تو دوسری جانب پاکستان کا سب سے بڑا سفارتی اور تجارتی حلیف چین ہے جو اپنی داخلی پالیسی سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل تک کشمیر کے معاملے پر پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔

جہاں متحدہ عرب امارات اور بحرین جیسے مسلم ممالک بھارتی وزیراعظم مودی کو سب سے بڑے سول اعزاز سے نوازتے نظر آرہے ہیں وہیں چین وہ ملک ہے جو نہ صرف مقبوضہ وادی میں جاری بھارتی مظالم کی برملا مذمت کررہا ہے بلکہ حال میں ہی چین کے وزیر خارجہ نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر بھارت کا سرکاری دورہ منسوخ کردیا اور وہ کل پاکستان آئیں گے۔

یہاں بات صرف سفارتی تعلقات کی نہیں ہے، پاکستان اور چین کے درمیان سی پیک جیسا تاریخ ساز منصوبہ زیر تعمیر ہے۔

وہ سی پیک جسے اقتصادی ماہرین پاکستان کی معشیت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہیں۔ وہ سی پیک، جس کا حصہ بننے کے لئے ایران، افغانستان اور برطانیہ سمیت کئی ممالک دلچسپی کا اظہار کر چکے ہیں۔

یہ بات نوشتہ دیوار ہے کہ چین سے پاکستان کے اس قدر مفادات وابستہ ہیں کہ وہ چین کو یکسر نظر انداز کرکے امریکا کے ساتھ "تجارت" کی پینگیں نہیں بڑھا سکتا۔ جبکہ دوسری جانب امریکا بہادر کی خواہش کو پس پشت ڈال کر سی پیک میں جتے رہنا بھی معاشی مشکلات میں گھرے ہونے کے باوجود بظاہر پاکستان کے لئے کوئی آسان کام نہیں ہے۔

امریکا کے پاکستان کے ساتھ تجارتی روابط کو 20 فیصد بڑھانے کی خواہش پر ابھی تک چین کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا لیکن پاکستان کو یہ فیصلہ بہت جلد کرنا ہوگا کہ وہ طرفین میں سے کس کے ساتھ کس حد تک آگے جاسکتا ہے۔

پاکستان اس وقت غیرمحسوس طریقے سے ایک انتہائی نازک صورتحال سے گزر رہا ہے جہاں اس کے لئے غلطی کی گنجائش نہیں ہے اور اس  کے اس فیصلے پر بہت کچھ منحصر ہے۔ لہذا پاکستان جو بھی فیصلہ کرے اسے بہت سوچ سمجھ کر کرنا ہوگا، کہیں یہ نہ ہو کہ دو بیلوں کی لڑائی میں گھاس کا نقصان ہو جائے۔

 

سب سے زیادہ دیکھی گئی مقالات خبریں
اہم ترین مقالات خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری